Main Icon

باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 881

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَشَمَّتَ اَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ،فَقَالَ الَّذِيْ لَمْ يُشَمِّتْهُ:عَطَسَ فُلَانٌ فَشَمَّتَّهُ وَعَطَسْتُ فَلَمْ تُشَمِّتْنِيْ؟فَقَالَ:هَذَا حَمِدَ الله، وَاِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللهَ.

عن انس رضي الله عنه قال:عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت احدهما ولم يشمت الآخر،فقال الذي لم يشمته:عطس فلان فشمته وعطست فلم تشمتني؟فقال:هذا حمد الله، وانك لم تحمد الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضورنبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک کو جواب دیا دوسرے کو نہ دیا ،جسے جواب نہ دیا اس نے عرض کی:فلاں کو چھینک آئی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے جواب مرحمت فرمایاجبکہ مجھے جواب عطا نہ فرمایا؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اس نےاللّٰہ عَزَّ وجَلَّکی حمد کی تھی اور تو نے حمد نہ کی۔‘‘

شرح حدیث

حمد نہ کرنے والے کو جواب نہ دیا جائے :مرآۃ المناجیح میں ہے :”معلوم ہوا کہ چھینکنے والے کا جواب جب دیا جائے جب وہاَلْحَمْدُ لِلّٰہکہے اور یہ سنے بھی۔ایک شخص نے دیوار کے پیچھے چھینک لی تو حضرت عمر (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)نے فرمایا:”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ اِنْ حَمِدْتَ اللّٰہ(یعنی )اگر تو نے ربّ کی حمد کی ہو تو خدا تجھ پر رحم کرے“ اگر اکیلا آدمی چھینک لے اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہکہے کوئی جواب دینے والا نہ ہو تو خود ہی کہہ لےیَغْفِرُ اللّٰہ لِی وَلَکُمْکیونکہ فرشتے اس کی چھینک کا جواب دیتے ہیں، یہ ان کی نیت سے یہ دعاکرے، جیسے نماز کے سلام میں فرشتوں کی نیت کرے اگر اکیلا ہو۔“
دلیل الفالحین میں ہے:”حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محفل میں دو آدمیوں کو چھینک آئی ایک نے حمد کی دوسرے نے نہ کی، حمد کرنے والےکو نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف سے جواب ملا دوسرے کو نہ ملا ،اس نے عرض کی: مجھے جواب کیوں نہیں ملا ؟ ارشادہوا :اس نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد کی تو ذِکرِ اِلٰہی کی برکت سےدعا کامستحق ہوا، تو نےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد نہیں کی اس لئےتجھے جواب نہیں دیا گیا۔ یہاں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وضاحت فرما دی کہ جواب نہ دینا میری طرف سے نہیں ہے بلکہ معاملہ اہلیت کا ہے جواب لینے کا اہل و ہی ہے جو حمد کرے ۔“ایک درہم کے بدلے جنت:فتح الباری میں ہے: امام ابو داؤدعَلَیْہِ رحْمَۃُ اللّٰہ الْوَدُوْدایک بارکشتی میں جا رہے تھے، کنارے پر کسی کو چھینک آئی اور ا س نےاَلْحَمْدُلِلّٰہکہا، آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس کی آوازسنی تو کشتی والے کو ایک درہم زائد دے کر کشتی کنارے پر لے آئےاورچھینکنے والے کوچھینک کا جواب دے کر واپس لوٹ گئے، جب پوچھا گیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟تو فرمایا:”شاید یہ شخصمُسْتَجَابُ الدَّعَـوَاتہو(یعنی اس کی دعائیں قبول ہوتی ہوں، یہ جواباًیَغْفِرُاللّٰہ لَنَا وَلَکُمْکہے اورمیری مغفرت کردی جائے)پھر جب کشتی والےسوئے تو سب نے سنا کہ کوئی کہہ رہا تھا:”اے کشتی والو!بیشک ابو داؤدنے ایک درہم کے بدلےاللّٰہتعالیٰ سے جنت خرید لی۔“مدنی گلدستہ’’حسنین کریمین ‘‘کے11حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1) چھینک
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو پسند ہے اور جماہی نا پسند کہ جماہی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے ۔
(2) چھینک سے دماغ صاف ہوتا ہے،طبیعت کھل جاتی ہے جس سے عبادات پر زیادہ قدرت ملتی ہے۔
(3) جب چھینکنے والا
اَلْحَمْدُلِلّٰہکہے تو سننے والے پرجواب میںیَرْ حَمُکَ اللّٰہکہنا واجب ہے ۔
(4) چھینک کے جواب میں
یَرْحَمُکَ اللّٰہکہاجائے تو چھینکنے والے کو چاہیے کہ وہیَغْفِرُ اللّٰہ لَنَا وَلَکُمْکہے۔
(5) چھینکنے والا حمدنہ کرے تو اسے جواب نہ دیا جائے کہ جب اس نے حمدنہ کی تو دعا کا بھی مستحق نہیں ۔
(6) کوئی چھینکنے کے بعد
اَلْحَمْدُلِلّٰہکہنا بھول جائے تو حکمتِ عملی سے اسے یاد دہانی کرائی جائے تاکہ وہ دعا کا مستحق بن سکے۔
(7) چھینکنے والا
اَلْحَمْدُلِلّٰہکہے اور کوئی جواب دینے والا نہ ہوتوخود ہییَغْفِرُ اللّٰہ لَنَا وَلَکُمْکہہ لے کیونکہ فرشتے مسلمان کی چھینک کا جواب دیتے ہیں۔
(8) جماہی سُستی کی علامت ہے اس سے جسم میں جمود طاری ہوتا ہے۔
(9) جتنا ممکن ہو جماہی کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جماہی لینے والے پر شیطان ہنستا ہے ۔
(10) جب کسی کوجماہی آنے لگے تو یہ خیال کر لے کہ انبیاءِ کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکوکبھی جمائی نہیں آئی، اس خیال کی برکت سے جماہی رُک جائے گی ۔
(11) جماہی روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جماہی آنے لگے تو ناک سے زور سے سانس نکا لیں یا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبالیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں چھینک کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 881