Main Icon

باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 867

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ اَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوْا:وَعَلَيْكُمْ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:اذا سلم عليكم اهل الكتاب فقولوا:وعليكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب تمہیں اہلِ کتاب سلام کریں توانہیں جواب میںوَعَلَیْکُمْکہہ دیا کرو۔ “

شرح حدیث

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامکا اس بات پر اتفاق ہے کہ اہلِ کتاب کے سلام کا جواب دیا جائے لیکن جواب دینے والا”وَعَلَیْکُمُ السَّلَام“یا ”عَلَیْکَ السَّلَامنہ کہے ،بلکہ صرف ”وَعَلَیْکُم“کہے ۔ اور یہ بھی اس صورت میں ہے جب وہ کفارایک سے زائد ہوں اگر ایک ہی ہو تو”عَلَیْکُمُ“یعنی جمع کا صیغہ نہ کہے کہ اس میں بھی تعظیم کا پہلو ہے ، اس لئے اگر ایک ہو تو”عَلَیْکَکہا جائے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 867