Main Icon

باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 868

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُسَامَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبيَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰی مَجْلِسٍ فِيْهِ اَخْلَا طٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ وَالمُشْرِكينَ عَبَدَةِ الْاَوْثَانِ وَالْيَهُوْدِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ.

عن اسامة رضی اللہ عنہ ان النبي صلی اللہ علیہ وسلم مر علی مجلس فيه اخلا ط من المسلمين والمشركين عبدة الاوثان واليهود فسلم عليهم النبي صلی اللہ علیہ وسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اُسامہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک ایسی جماعت کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان،مشرکین بت پرست اور یہودی موجود تھے ۔ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ا س جماعت کو سلام کیا۔

شرح حدیث

غیر مسلم کو خط میں کیسے سلام لکھے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”اگر کوئی مسلمان کسی ایسی جماعت کے پاس سے گزرے جس میں کئی مسلمان ہو ں یاایک ہی مسلمان ہواور کئی کافرہوں توسنت یہ ہےکہ مسلمانوں یا مسلمان کی نیت کرکے پوری جماعت کو سلام کرے۔ اسی طرح اگر کسی مشرک وغیرمسلم کو خط لکھنا ہوتو سنت طریقہ یہ ہےکہ اس پر بھی”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ“کےبجائے یہ الفاظ لکھے جائیں:اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی(سلام اُس پر جو ہدایت کی پیروی کرے)۔ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےہِر ْقِلِ رومکو خط لکھتے وقت یہی الفاظ لکھے۔“صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :کفار کو سلام نہ کرے اور وہ سلام کریں تو جواب دے سکتا ہے، مگر جواب میں صرف”عَلَیْکُمْ“کہے اوراگر ایسی جگہ گزرتا ہو جس جگہ مسلمان اور کفار دونوں ہوں تو ”اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ“ کہے اور مسلمانوں پر سلام کاارادہ کرے۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ (ایسے مِلےجُلے مجمع کو)”اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِِ اتَّبَعَ الْھُدُیٰ“ کہے۔ کافر کو اگر حاجت کی وجہ سے سلام کیا، مثلاً سلام نہ کرنے میں اس سے ضَررکا اندیشہ ہے تو حرج نہیں اور بقصدِ تعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کرے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔مدنی گلدستہ’’ہدایت‘‘کے5حروف کی نسبت سےمذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) کفار کے سلام کا پورا جواب نہ دیا جائے بلکہ صرف ”
وَعَلَیْکُمْ“کہا جائےاور اگر سلام کرنے والا ایک ہی ہو تو”وَعَلَیْکَ“کہا جائے ۔
(2) غیرمسلم کوخط میں سلام یوں لکھا جائے:
اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی۔
(3) خط کے ذریعے اسلام اوردین کی دعوت دینا نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت ہے۔
(4) جہاں مسلمان اورکفار دونوں جمع ہوں وہاں مسلمانوں کو سلام کی نیت سے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہا جائے ۔
(5) بقصدِتعظیم کافر کو ہرگز ہرگز سلام نہ کیا جائے کہ کافر کی تعظیم کفر ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں ان لوگوں کو سلام کرنے سے بچائے جنہیں سلام کرنے کی ممانعت ہے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 868