- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا سے رونا
- حدیث نمبر 449
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَاَلَ : قَالَ : سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ في ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّهُ : اِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَاَ فيِْ عِبَادَةِ اللهِ تعالٰی وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِوَرَجُلاَنِ تَحَابَّا في اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : اِنِّيْ اَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَاحَتّٰى لَاتَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًافَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. ( )
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال : سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل الا ظله : امام عادل وشاب نشا في عبادة الله تعالی ورجل قلبه معلق بالمساجدورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ورجل دعته امراة ذات منصب وجمال ، فقال : اني اخاف الله ورجل تصدق بصدقة فاخفاهاحتى لاتعلم شماله ما تنفق يمينه ورجل ذكر الله خالياففاضت عيناه. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سات آدمی ایسے ہیں جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّاس دن اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : ( 1 ) عادل حکمران ( 2 ) وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری ۔ ( 3 ) و ہ شخص جس کادل مساجد میں لگا رہے ( 4 ) وہ دو شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے محبت کریں ، ا سی کی محبت پر ایک دوسرے سے ملیں اور جدا ہوں ۔ ( 5 ) وہ شخص جسے حسن وجمال والی عورت ( برائی کے لئے ) بلائے تووہ کہہ دے کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں ۔ ( 6 ) وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا ۔ ( 7 ) جو تنہائی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں ۔ ‘‘
شرح حدیث
عرش کا سایہ پانے والے خوش نصیب :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح باب نمبر46 ، حدیث نمبر376کے تحت گزر چکی ہے ، تفصیلی شرح کے لیے اسی مقام کا مطالعہ کیجئے ، البتہ اجمالی شرح پیش خدمت ہے :
( 1 ) مذکورہ حدیث پاک میں پہلا شخص عادل بادشاہ ہے جو کل بروز قیامت عرش الٰہی کے سایے میں ہوگا ۔ عادل بادشاہ کے احادیث میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، قیامت کے دن لوگوں میںاللہ عَزَّوَجَلَّکو سب سے زیادہ پیارا اور زیادہ قرب حاصل کرنے والا عادل بادشاہ ہوگا ، کل بروز قیامت عادل حکمران رحمٰنعَزَّ وَجَلَّکے دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے ۔
( 2 ) دوسرا شخص جسے کل بروزِ قیامت عرش کا سایہ نصیب ہوگا وہ جوانی میں عبادت کرنے والا نوجوان ہے ۔ جوانی میں عبادت چونکہ دشوار اور نفس پر گراں ہوتی ہے اس لیے اس کی بھی احادیث میں بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، جوانی میں توبہ کرنے والے نوجوان کے لیے زمین وآسمان کے درمیان ستر قندیلیں روشن کی جاتی ہیں ، ملائکہ صف بستہ ہو کر اسے مبارک باد دیتے ہیں ۔
( 3 ) تیسرا شخص جسے کل بروز ِقیامت عرش کا سایہ نصیب ہوگا وہ ہے جس کا دل مسجد میں لگا رہے ۔ مسجد کے جملہ معاملات کے اعتبارسے کئی فضائل ہیں ، مسجد بنانا ، مسجد کو آباد کرنا ، مسجد سے محبت کرنا ، مسجد کی
صفائی کرنا ، مسجد میں اذان دینا ، مسجد میں نماز ادا کرنا ، مسجد میں جماعت قائم کرنا ، مسجد کی طرف چلنا ، مسجد میں نماز کا انتظار کرنا وغیرہ وغیرہ یہ تمام امور باعث اجروثواب ہیں ۔
( 4 ) چوتھے وہ دو شخص جو آپس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کریں انہیں بھی کل بروزِ قیامت عرش کا سایہ نصیب ہوگا ۔ جنت میں یاقوت کے ستون ہیں جن پر زبرجد کے بالا خانے ہیں ، جن کے دروازے کھلے ہیں اور ستاروں کی طرح چمکتے ہیں ، ان میں وہی لوگ رہیں گے جو آپس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے محبت کرتے ہیں ، اسی کے لیے بیٹھتے اور ملاقات کرتے ہیں ۔
( 5 ) پانچواں شخص جسے کل بروز قیامت عرش کا سایہ نصیب ہوگا وہ ہے جسے کوئی عورت گناہ کی دعوت دے مگر وہ کہہ دے کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں ۔ جو شخص اپنے نفس کو خواہش سے روکے تو اس کے لیے جنت کی نوید سنائی گئی ہے ۔ جنت میں موتیوں سے بنا ایک گھر ہے جس کے سترہزار محل ہیں ، ہر محل میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار کمرے ہیں ، ان میں وہ شخص بھی داخل ہو گا جو جو بد کاری یا حرام ما ل کاطالب ہو لیکن جب ان پر قادر ہو جائے تو خوفِ خدا کے سبب حرا م سے باز رہے ۔
( 6 ) چھٹا وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا کیونکہ اعمال میں ریاکاری تباہ کاری کا ایک بہت بڑا سبب ہے ، جس عمل میں ریا ہو وہ قبول نہیں ہوتا بلکہ رد کردیا جاتا ہے ، پوشیدہ صدقہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب سے بچاتا ہے ، پوشیدہ صدقہ کرنے والے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ، پوشیدہ صدقے کو سب سے قوی عمل قرار دیا گیا ہے ۔
¥تنہائی میں خوفِ خدا سے رونا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں جس آخری شخص کا ذکر ہے کہ کل بروزِ قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے بھی اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا وہ تنہائی میںذکرُاللہکرکے خوف خدا کے سبب رونے والا شخص ہے ۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’اس میں خوفِ خدا سے رونے کی فضیلت کا بیان ہے ۔ بندے کے لئے مستحب ہے کہ کچھ نہ کچھ وقت تنہائی میں گزارے تاکہ گناہوں پر شرمندگی ہو ، اخلاص کے ساتھ اپنے ربِّ کریم کی بارگاہ میں گریہ وزاری کرسکے ، اپنی بخشش کے لئے خوب
گڑگڑائے کہ مُضْطَر کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ یہ نہ ہو کہ سارا وقت صرف اپنی ذات کے لئے غفلتوں میں صَرف ہو جیسا کہ جانور وں کی حالت ہوتی ہے جوقیامت اورساری مخلوق کے سامنے حساب کتاب جیسی ہولناکیوں سے بے خوف ہیں ۔ تو جواِن ہولناکیوں سے محفوظ نہیں اسے چاہیے کہ خلوت میں خوب روئے ، دنیوی زندگی کو قید خانہ محسوس کرے کیونکہ اسی میں گناہ سرزَد ہوتے ہیں ۔ حدیث پاک میں ہے : ’’ جو مسلماناللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے روئے تو وہ جہنم میں داخل نہ ہوگا یہاں تک دودھ تھنوں میں واپس چلاجائے ۔ ‘‘ منقو ل ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا داودعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی : ’’ا ےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! جوتیرے خوف سے روئے یہاں تک کہ آنسو اس کے چہرے پر بہہ جائیں تو تُو اسے کیا اجر عطا فرمائے گا ؟ ‘‘ ارشاد ہوا : ’’میں اس کے چہرے کو جہنم کی لپٹ سے محفوظ رکھوں گا اور اسے روزِ قیامت امن عطافرماؤں گا ۔ ‘‘ ( )
¥خوفِ خدا سے رونے والا حبشی :حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم نورِمجسم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :(یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ) (پ۲۸ ،التحریم:۶ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ۔ ‘‘ پھر ارشادفرمایا : ’’جہنم کی آگ ایک ہزار برس جلائی گئی تو وہ سرخ ہوگئی ، پھر ایک ہزار سال تک دہکائی گئی تو سفید ہوگئی ، پھر ہزار سال بھڑکائی گئی تو سیاہ ہوگئی ، اور اب وہ سیاہ و تاریک ہے ۔ ‘‘ یہ سن کرایک حبشی جو وہاں موجود تھا ، رونے لگا ۔ مکی مدنی سرکار ، حضور احمد مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا : ’’یہ کون رو رہا ہے ؟ ‘‘ عرض کی گئی : ’’حبشہ کا رہنے والا ایک شخص ہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے رونے کو پسند فرمایا ۔ حضرت سَیِّدُنا جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَاموحی لے کر اترے اور عرض کی کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے : ’’مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ! میرا جو بندہ دنیا میں میرے خوف سے روئے گا ، میں ضرور اسے جنت میں زیادہ ہنساؤں گا ۔ ‘‘ ( )
قلب پتھر سے بھی سختی میں بڑھا جاتا ہے ……… خول پر خول سیاہی کا چڑھا جاتا ہے
نفس وشیطان کی ہر آن اطاعت پر دل ……… آہ مائل مرےاللہہوا جاتا ہے
لاؤں وہ اشک کہاں سے جو سیاہی دھوئیں ……… گندگی میں مرا دل حد سے بڑھا جاتا ہےمدنی گلدستہ
’’حجر اسود ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)عدل وانصاف کی بدولت معاشرے کی اصلاح ، حقوق کی حفاظت ، جرائم کی روک تھام ، امن وامان اوراتحاد کی فضا قائم ہوتی ہے ، لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ ہمیشہ عدل وانصاف سے ہی کام لے ۔
(2) جوانی میں عبادت کرنا اور اس پر استقامت اختیار کرنا نہایت ہی سعادت مندی کی بات ہے کیونکہ جوانی میں نفسانی خواہشات عروج پر ہوتی ہیں اور شیطان بھی گناہوں کی طرف زیادہ مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے جوانی میں عبادت کو لازم پکڑ نا چاہیے ۔
(3) مسجد میں جس کا دل لگا رہے اس کو بھی کل بروز قیامت عرش کا سایہ نصیب ہوگا ، مسجد کی طرف چلنا ، مسجد سے محبت کرنا ، مسجد میں عبادت کرنا ، نماز ادا کرنا ، تلاوت کرنا ، مسجد میں بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرنا وغیرہ یہ سب معاملات اجروثواب کا باعث ہیں ۔
(4) جب بھی کسی سے محبت کریں تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے کریں کہ اس کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، نیزاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت ہے ۔
(5) گناہ پر قدرت کے باوجود اسے ترک کرنااللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل وکرم اور اس کی عنایت ہے ، جو ہرشخص کو نصیب نہیں ہوتی ، خوف خدا رکھنے والا گناہ پر قادر ہونے کے باوجودبھی گناہ کو ترک کر دیتاہے ۔
(6) چھپا کر صدقہ کرنے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، لہذا تمام نفلی صدقات کو چھپاکر بغیر ریاکاری کے کرنا چاہیے کہ ریاکاری نیک عمل کو تباہ وبرباد کردیتی ہے ۔
(7) خوف خدا کے سبب گریہ وزاری کرنا نصیب والوں کا حصہ ہے ، خوف خدا کے سبب رونے والوں کو
بھی کل بروزِ قیامت عرشِ الٰہی کا سایہ نصیب ہوگا ، جو دنیا میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے روئے گا کل بروزِ قیامت اسے امن وسکون نصیب ہوگا ، جنت میں داخلہ نصیب ہوگا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بروز قیامت اپنے عرش کے سایے میں جگہ عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 449