Main Icon

خوفِ خدا سے رونا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 452

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطَلِقْ بِنَا اِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا فَلَمَّا انْتَهَيَا اِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا لَهَا : مَا يُبْكِيْكِ؟ اَمَا تَعْلَمِيْنَ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَتْ : اِنِّيْ لَا اَبْكِيْ اَنِّيْ لَا اَعْلَمُ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ تَعَالىٰ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنِّی اَبْكِيْ اَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّماءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا. ( )

عن انس رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال ابو بكر لعمر رضي الله عنهما بعد وفاة رسول الله صلى الله

عليه وسلم : انطلق بنا الى ام ايمن رضي الله عنها نزورها كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزورها فلما انتهيا اليها بكت فقالا لها : ما يبكيك؟ اما تعلمين ان ما عند الله خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم ! قالت : اني لا ابكي اني لا اعلم ان ما عند الله تعالى خير لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولكنی ابكي ان الوحي قد انقطع من السماء فهيجتهما على البكاء فجعلا يبكيان معها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ سَیِّدُنافاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : ’’آئیے حضرتِ اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ملاقات کے لیے چلتے ہیں جیساکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان سے ملاقات فرمایا کرتے تھے ۔ ‘‘ جب دونوں ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ سَیِّدُنَا صدیق اکبر و سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : ’’آپ کیوں روتی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے بہتر مقام ہے ۔ ‘‘ سَیِّدَتُنَا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابولیں : ’’ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں اس بات سے لاعلم ہوں کہاللہتعالیٰ کے یہاں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے بہتر مقام ہے بلکہ میں تو اس وجہ سے رورہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے ۔ ‘‘ سَیِّدَتُنَا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی اس گفتگو نے سَیِّدُنَا صدیق اکبر و سَیِّدُنَا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بھی رونے پر مجبور کردیااور وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ جب سَیِّدُنَا صدیق اکبر وفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ ایمنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی زیارت کے لیے گئے تو وہ سیدالانبیاء ، محبوب خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہر ی کے بعدفکر امت میں رونے لگیں ، نیز ان کو دیکھ کر شیخین کریمینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی رونے لگے ۔ یقینا ان مقدس ہستیوں کا اپنے محبوب آقا کی امت کے غم اور فکر میں رونا بھیاللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا اور اس کے خوف کے لیے رونا ہے ۔ یہ باب بھی چونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف میں رونے کی

فضیلت کے بارے میں ہے اس لیے علامہ نووی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث اس باب میں ذکر فرمائی ۔ واضح رہے کہ مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح باب نمبر45 ، حدیث نمبر360میں گزر چکی ہے ۔ لہٰذا تفصیل کے لیے وہاں موجود شرح کا مطالعہ فرمائیں ۔
¥
سیدتنا اُمِّ اَیمن کے رونے کی وجوہات :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں اس با ت کا ذکر ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد شیخین کریمینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے آقا و مولا حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت پر عمل کی نیت سے حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی زیارت کرنے ان کے گھر تشریف لے گئے ، کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اپنی حیاتِ مبارکہ میں حضرت اُمِّ اَیْمَن کے گھر تشریف لے جاتے ، حضرت اُمِّ اَیْمَن کے ساتھ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا رشتہ ماں بیٹے جیسا تھا ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکا بہت اکرام کرتے اور فرماتے : ’’ اُمِّ اَیْمَن میری والدہ ہیں ۔ ‘‘ اسی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکثرت سے ان کی زیارت کے لیے جایا کرتے ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان کے یہاں بیٹے کی طرح تھے اور وہ بھی آپ سے بیٹوں جیسا برتاؤ کرتیں ، آپ پر ناراض ہوتیں ، زور سے آواز دیتیں جیسے کوئی ماں اپنی اولاد سے پیش آتی ہے ۔ ( ) شیخین کریمینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحضرت سیدتنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر پہنچے تو وہ آپ دونوں حضرات کو دیکھ کر رونے لگیں ، جب رونے کی وجہ پوچھی گئی تو اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا : ’’حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ ختم ہو گیا ۔ ‘‘ آپ کو روتا دیکھ کر حضرت صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی رونے لگے ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ( حضرت اُمِّ اَیْمَن کا مقصود یہ بیان فرمانا تھا کہ ) میرا رونا اپنی محرومی پر ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کی وجہ سے ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت نعمتوں سے محروم ہوگئے ، آیاتِ قرآنیہ کا آنا بند ہوگیا ، احادیث نبویہ کا سلسلہ ختم ہوگیا ، مسلمانوں کا صحابی بننا ختم ہوگیا ، حضور

سب کچھ ہم کو دے گئے مگر یہ چیزیں اپنے ساتھ لے گئے ۔ اُمِّ اَیْمَن (
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کی یہ بات سن کر حضرت صدیق و فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ۔ یہ رونا تو اُمَّت کو قیامت تک رہے گا کہ کسے دیکھ کر صحابی بنیں گے ، کس کے منہ سے آیات و اَحادیث کے پھول جھڑتے ہوئے دیکھیں ، حضرت بلال (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) یہ ہی سوچ کر مدینہ چھوڑکر دمشق چلے گئے کہ اب میں کس کی طرف اشارہ کرکے اذان کہا کروں گا ۔ حالت یہ ہو گئی تھی کہ :
قافلہ سالار سفر کر گیا …… قافلہ کو زیرو زبر کر گیا ( )
مدنی گلدستہ
سَیِّدَتُنَا ’’اُمِّ اَیْمَنْ ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(7)
حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابہت ہی مقام ومرتبے اور فضیلت والی خاتون تھیں ، حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پرورش کرنے اور انہیں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضاعی والدہ ہونے کی سعادت حاصل ہے ، نیز حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبذاتِ خود انہیں اپنی والدہ فرمایا کرتے اور ان سے ملاقات کے لیے تشریف لے جاتے تھے ۔
(8) بزرگوں کی وفات کے بعد اُن کے معمولات قائم رکھنا ، ان کے دوستوں سے محبت کرنا ، بلکہ وہ حضرات جن سے ملاقات کرتے ہوں ان سے ملاقات کے لیے جانا صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سنت ہے ۔
(9) مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب چند لوگوں کا مل کر اپنے سے کم مرتبے والے شخص کی زیارت کرنے کے لیے جانا بالکل جائز ہے تو اپنے سے زیادہ مرتبے والے کی زیارت کے لیے جانا تو بدرجہ اولیٰ جائز ہے ۔
(10) نیک لوگوں کے وصال اور ان کی جدائی پر غم کرتے ہوئے حدِّشرع میں رونا جائز ہے اگرچہ وہ اس سے بھی زیادہ افضل مقام پر منتقل ہوچکے ہوں ۔

(11) فکرِ اُمَّت یا غمِ اُمَّت میں یا اُمَّتِ مُسْلِمَہ کی حالت پر خوفِ خدا سے آنسو بہانا بھی سعادت مندی ہے ۔
(12) جس طرح حضور نبی کریم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات مسلمانوں کے لیے باعث خیروبرکت ہے ویسے ہی آپ کا وصال بھی باعث خیروبرکت ہے ، مگر آپ کے وصال سے اُمَّت کئی فوائد سے محروم ہوگئی ، اسی وجہ سے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کی جدائی کے غم میں آنسوں بہایا کرتے تھے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں کی زیارت کے لیے جانے اور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 452