- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا سے رونا
خوفِ خدا سے رونا
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابنِ مَسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشادفرمایا : ’’میرے سامنے قرآن پڑھو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں آپ کے سامنے قرآن پڑھوں ، حالانکہ قرآنِ پاک تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ہی نازل کیا گیا ہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’میں اپنے علاوہ کسی اورسے سننا چاہتا ہوں ۔ ‘‘ سَیِّدُنَاابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’میں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی جب میں اس آیت مبارکہ پر پہنچا : (فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)) (پ۵ ،النساء: ۴۱ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’تو کیسی ہوگی جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں اور اے محبوب تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بنا کر لائیں ۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بس کافی ہے ۔ ‘‘ اور جب میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف متوجہ ہوا تو میں نے دیکھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہیں ۔
عَنِ ابنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ لِيَ النَّبيُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اِقْرَاْ علَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ اَقْراُ عَلَيْكَ؟ وَعَلَيْكَ اُنْزِلَ قَالَ : اِنِّي اُحِبُّ اَنْ اَسْمَعَهُ مِنْ غَيرِيْ فَقَرَاْتُ عَلَيْهِ سُوْرَةَ النِّسَاءِ حَتّٰى جِئْتُ اِلٰی هٰذِهِ الآيَةِ : ( فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًاﳳ(۴۱)) قَالَ : حَسْبُكَ الآنَ فَالَتَفَتُّ اِلَيْهِ فاِذًا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 446 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ اُس جیسا خطبہ ہم نے پہلے کبھی نہیں سنا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” پھر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ہچکیاں لے لے کر رونے لگے ۔ “
عَنْ اَنَسٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ فَقَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلًاوَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا. قَالَ : فَغَطَّى اَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وُجُوهَهُمْ وَ لَهُمْ خَنِينٌ . ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 447 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والاجہنم میں داخل نہ ہوگا ، یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے ، اور راہِ خدا کا گرد و غُبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے ۔ ‘‘
عَن اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتّٰى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فيِ الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 448 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سات آدمی ایسے ہیں جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّاس دن اپنے عرش کے سائے میں رکھے گا جس دن اس کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : ( 1 ) عادل حکمران ( 2 ) وہ نوجوان جس کی جوانی عبادت الٰہی میں گزری ۔ ( 3 ) و ہ شخص جس کادل مساجد میں لگا رہے ( 4 ) وہ دو شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے محبت کریں ، ا سی کی محبت پر ایک دوسرے سے ملیں اور جدا ہوں ۔ ( 5 ) وہ شخص جسے حسن وجمال والی عورت ( برائی کے لئے ) بلائے تووہ کہہ دے کہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرتا ہوں ۔ ( 6 ) وہ شخص جو اس طرح چھپا کرصدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا ہی نہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے راہ خدا میں کیاخرچ کیا ۔ ( 7 ) جو تنہائی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجائیں ۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَاَلَ : قَالَ : سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ في ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ اِلاَّ ظِلُّهُ : اِمَامٌ عَادِلٌ وَشَابٌّ نَشَاَ فيِْ عِبَادَةِ اللهِ تعالٰی وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ بِالْمَسَاجِدِوَرَجُلاَنِ تَحَابَّا في اللهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَاَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ ، فَقَالَ : اِنِّيْ اَخَافُ اللهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَاَخْفَاهَاحَتّٰى لَاتَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللهَ خَالِيًافَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 449 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن شخیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ’’میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا توآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز پڑھ رہے تھے اور ( خوفِ خدا سے ) رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارکہ سے ہنڈیا جیسی آواز آ رہی تھی ۔ ‘‘
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : اَتَيْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَهُوَ يُصَلِّي وَلِجَوْفِهِ اَزِيْزٌ كَاَزِيْزِ الْمِرْجَلِ مِنَ الْبُكَاءِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 450 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے : (α لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا) کی تلاوت کروں ۔ ‘‘ انہوں نے پوچھا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیااللہ عَزَّ وَجَلَّنے میرا نام لیا ہے ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘ ( یہ سن کر ) سَیِّدُنَا ابی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے ۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے رونا شروع کر دیا ۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم لاُِبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ اَمَرَنِي اَنْ اَقْرَاُ عَلَيْكَ : ( لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا )قَالَ : وَسَمَّانِي؟قَالَ : ’’نَعَمْ ‘‘ فَبَكٰى اُبَيٌّ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ : فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 451 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرتِ سَیِّدُنافاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرمایا : ’’آئیے حضرتِ اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے ملاقات کے لیے چلتے ہیں جیساکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمان سے ملاقات فرمایا کرتے تھے ۔ ‘‘ جب دونوں ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں ۔ سَیِّدُنَا صدیق اکبر و سَیِّدُنَا فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا : ’’آپ کیوں روتی ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہاںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے بہتر مقام ہے ۔ ‘‘ سَیِّدَتُنَا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابولیں : ’’ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں اس بات سے لاعلم ہوں کہاللہتعالیٰ کے یہاں حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے لیے بہتر مقام ہے بلکہ میں تو اس وجہ سے رورہی ہوں کہ آسمان سے وحی آنے کا سلسلہ منقطع ہوگیا ہے ۔ ‘‘ سَیِّدَتُنَا اُمِّ اَیْمَنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی اس گفتگو نے سَیِّدُنَا صدیق اکبر و سَیِّدُنَا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بھی رونے پر مجبور کردیااور وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطَلِقْ بِنَا اِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا فَلَمَّا انْتَهَيَا اِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا لَهَا : مَا يُبْكِيْكِ؟ اَمَا تَعْلَمِيْنَ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! قَالَتْ : اِنِّيْ لَا اَبْكِيْ اَنِّيْ لَا اَعْلَمُ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ تَعَالىٰ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنِّی اَبْكِيْ اَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّماءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 452 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ جب مرض الموت میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا درد بڑھ گیا توآپ سے نماز کے بارے میں عرض کیا گیا ۔ ارشادفرمایا : ’’ابو بکر سے کہو : لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔ ‘‘ اُمّ المؤمنین حضر ت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی : ’’ابوبکر ایک نرم دل انسان ہیں ، جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تواُن پر رونا غالب آ جاتا ہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ابوبکرسے کہو : نماز پڑھائیں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : ’’سیدنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو ( قرآن ) نہیں سناسکیں گے ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَمَّا اِشْتَدَّ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قِيْلَ لَهُ فِيْ الصَّلاَةِ فَقَالَ : مُرُوْا اَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُرَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اِنَّ اَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيْقٌ اِذَا قَرَاَ الْقُرْآنَ غَلَبَهُ البُكَاءُ فَقَالَ : مُرُوْهُ فَليُصَلِّ. ( ) وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قُلْتُ : اِنَّ اَبَا بَكْرٍ اِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 453 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس کھانا لایا گیا اور وہ روزہ دار تھے ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’حضرت مُصعَب بن عُمیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو شہید کر دیا گیا اور وہ مجھ سے بہتر تھے ، ان کو کفن دینے کے لئے ایک ہی ایسی چادر میسر تھی کہ اگر ان کا سر ڈھکا جاتا تو پاؤ ں کھل جاتے اوراگر پاؤں ڈھکے جاتے تو سر کھل جاتا ، پھر ہم پر دنیا بہت وسیع کردی گئی ۔ ‘‘ یا یہ فرمایا کہ ’’ہمیں دنیا بہت عطا کی گئی ۔ ہمیں خوف ہے کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ جلد دے دیا گیا ہو ، پھر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے یہاں تک کہ کھانا بھی چھوڑ دیا ۔ ‘‘
عَنْ اِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ : اَنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْه اُتِيَ بِطَعَامٍ وَكَانَ صَائِماً فَقَالَ : قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوْجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيْهِ اِلاَّ بُرْدَةٌ اِنْ غُطِّيَ بِهَا رَاْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ وَ اِنْ غُطِّيَ بِهَا رِجْلَاهُ بَدَا رَاْسُهُ ثُمَّ بُسِطَ لَنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا بُسِطَ اَوْ قَالَ : اُعْطِيْنَا مِنَ الدُّنْيَا مَا اُعْطِيْنَا قَدْ خَشِيْنَا اَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَاثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي حَتَّى تَرَكَ الطَّعَامَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 454 ، خوفِ خدا سے رونا
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو امامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی شے محبوب نہیں ۔ ایک آنسوکا وہ قطرہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے نکلے ، دوسرا خون کا وہ قطر ہ جواللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلے ۔ دو نشانوں میں ایک نشان وہ ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے راستے میں پڑ ے ، دوسرا نشان وہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرائض میں سے کسی فریضے کوسرانجام دیتے ہوئے پڑے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي اُمَامَةَ صُدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاهِلِيِِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ شَيْءٌ اَحَبَّ اِلَى اللهِ تَعَالَى مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَاَثَرَيْنِ : قَطَرَةُ دُمُوعٍ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَقَطَرَةُ دَمٍ تُهَرَاقُ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَاَمَّا الْاَثَرَانِ : فَاَثَـرٌ فِي سَبِيْلِ اللهِ تَعَالَى وَاَثَـرٌ فِي فَريْضَةٍ مِنْ فَرائِضِ اللهِ تَعَالَى. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 455 ، خوفِ خدا سے رونا
تر جمہ : حضرتِ سَیِّدُناعِرباض بن سارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث پاک ہے فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا ، جس سے دل دہل گئے اور آنکھوں سے آنسوبہہ نکلے ۔ ‘‘
حَدِيْثُ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، قَالَ : وَعَظَنَارَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً
وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرِفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 456 ، خوفِ خدا سے رونا