Main Icon

خوفِ خدا سے رونا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 455

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي اُمَامَةَ صُدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ الْبَاهِلِيِِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَيْسَ شَيْءٌ اَحَبَّ اِلَى اللهِ تَعَالَى مِنْ قَطْرَتَيْنِ وَاَثَرَيْنِ : قَطَرَةُ دُمُوعٍ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ وَقَطَرَةُ دَمٍ تُهَرَاقُ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَاَمَّا الْاَثَرَانِ : فَاَثَـرٌ فِي سَبِيْلِ اللهِ تَعَالَى وَاَثَـرٌ فِي فَريْضَةٍ مِنْ فَرائِضِ اللهِ تَعَالَى. ( )

عن ابي امامة صدي بن عجلان الباهلي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ليس شيء احب الى الله تعالى من قطرتين واثرين : قطرة دموع من خشية الله وقطرة دم تهراق في سبيل الله واما الاثران : فاثـر في سبيل الله تعالى واثـر في فريضة من فرائض الله تعالى. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو امامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی شے محبوب نہیں ۔ ایک آنسوکا وہ قطرہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے نکلے ، دوسرا خون کا وہ قطر ہ جواللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلے ۔ دو نشانوں میں ایک نشان وہ ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے راستے میں پڑ ے ، دوسرا نشان وہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرائض میں سے کسی فریضے کوسرانجام دیتے ہوئے پڑے ۔ ‘‘

شرح حدیث

ربّ تعالیٰ کی محبوب چیزیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبوب چیزوں کا ذکر ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکو دوقطروں اور دونشانوں سے زیادہ کوئی شے محبوب نہیں ۔ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزیک اور کوئی شے

ایسی نہیں جس کاثواب اتنا زیادہ ہو اوروہ اتنی بلند فضلیت والی ہو ، دو قطروں سے مراد ایک آنسو کا وہ قطرہ جو خوف خدا کی وجہ سے نکلے ۔ یعنی وہ آنسو جس کی ابتدا
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے ہوئی ہو اور خوف اُس علم و عمل سے پیدا ہوتا ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت کے ساتھ ہوجیسا کہاللہتعالیٰ ارشادفرماتا ہے :اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ-(پ۲۲ ،فاطر:۲۸ )ترجمۂ کنزالایمان:اللہسے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔
اورحضور نبی رحمت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشادِ پاک ہے : ’’اَنَا اَعْرَفُکُمْ بِاللّٰہِ وَاَشَدُّکُمْ لَہُ خَشْیَۃًیعنی میں تم میں سب سے زیادہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ رب تعالیٰ کا خوف رکھنے والا ہوں ۔ دوسرا خون کا وہ قطرہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں بہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ سے مراد جہاد ہے جو کہ دین اسلام کی سر بلندی کے لئے کفار سے کیا جائے ۔ جہاد میں خون کا قطرہ بہانا یہ خوف خدا میں آنسو بہانے سے افضل ہے ۔ بہر حال دو نشان تو ان میں سے پہلا نشان وہ ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے راستے میں پڑے ، یعنی تلواریا نیزہ مارنے کے بعد زخم کا جو نشان باقی رہے اور دوسرا نشان وہ جواللہ عَزَّوَجَلَّکے فرائض میں سے کسی فریضے کو سر انجام دیتے ہوئے پڑے ، جیسے ( سردیوں میں ٹھندے پانی سے وضو کرنے کی وجہ سے ) اعضاء ِوضو کا پھٹنا اور سجدے کا نشان ۔ ‘‘ ( )
¥
خوفاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت ہے :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اللہ عَزَّ وَجَلَّکو دو قطروں اور دو نشانوں سے زیادہ کوئی شے محبوب نہیں ۔ ایک آنسوکا وہ قطرہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے نکلے ۔ خیال رہے کہ گنہگاروں کو رب تعالیٰ کے عذاب سے خوف ہوتا ہے ، نیکوکاروں کو اس کی ذات سے ہیبت و جلال سے خوف ہوتا ہے ، یہ خوف محبت و اطاعت پیدا کرتا ہے ، یہ خوفکی بڑی نعمت ہے اور خوفِ ایذا جو نفرت پیدا کرتا ہے وہ خدا سے خوف کرنا کفر ہے جیسے سانپ یا ظالم حاکم سے خوف ۔ دیکھو شیطان نے بھی کہا تھا : (α اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(۲۸)) (پ۶ ،المائدۃ:۲۸ ) (ترجمۂ کنزالایمان: میںاللہسے ڈرتا ہوں جو مالک سارے جہان کا ۔ ) مگر یہ خوف مفید نہیں مضر ( یعنی نقصان

دینے والا ) ہے ، یہاں پہلی قسم کے دوخوف مرادہیں ۔ دوسرا خون کا وہ قطر ہ جو
اللہکی راہ میں جہاد کرتے ہوئے نکلے ۔ چونکہ آنسوؤں کے قطرے مسلسل آنکھوں سے ٹپکتے رہتے اور خون ایک دم نکل کر بہہ جاتا ہے اس لیے آنسو کے لیےدُمُوُعجمع ارشاد ہوا اور خون کے لیےدَمٍواحد فرمایا گیا ۔ قطرے سے مراد جنس قطرہ ہے نہ کہ شخصی قطرہ ۔ لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت سے آنسوؤں کا قطرہ ایک کیونکر ہوگا؟اور شہید کے جسم سے خون کا دہارا بہتا ہے ایک قطرہ نہیں نکلتا ۔ ایک نشان وہ ہے جواللہکے راستے میں پڑ ے ۔کی راہ سے ہر وہ راستہ مراد ہے جو رضاء الٰہی کے لیے طے کیا جائے جیسے نماز کے لیے مسجد کو جانا ، طلب علم کے لیے مدرسہ جانا ، جہاد کے لیے میدانِ جہاد میں جانا اور وہاں چلنا پھرنا ۔ نشانِ قدم سے عام نشان مراد ہے خواہ محسوس ہو یا نہ ہو ۔ لہٰذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ پختہ سڑک پر چلنے میں نشانِ قدم پڑتے ہی نہیں پھر پیاری کیا چیز ہوگی؟ دوسرا نشان وہ جواللہکے فرائض میں سے فریضہ سر انجام دیتے ہوئے پڑے ۔ یعنی کسی شرعی فریضہ کو ادا کرنے کے لیے چلا اس کے نشان قدم رب کو پیارے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اثر سے مراد مطلقًا نشان ہو ، قدم کی قید نہ ہو تو حدیث بہت جامع بھی ہوگی اور واضح بھی ۔ لہٰذا سردیوں میں وضو سے ہاتھ پاؤں پھٹ جائیں ، گرمیوں میں پیشانی پر گرم زمین پر سجدے ( کے نشانات ) پڑ جاویں ، روزے میں منہ کی بو ، حج و جہاد میں غبارِراہ جو کپڑوں اور منہ پر پڑ جائے ، یہ ربّ کو بڑے پیارے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
خوفِ خدا سے نکلنے والے آنسو کی برکت :حضرت احمد بن ابی حواریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہیہ بڑے پائے کے اولیاءِ کاملین میں سے ہیں ، ان کا بیان ہے کہ میں نے خواب میں اپنی ایک لونڈی کو دیکھا جس کا چہرہ چمک رہا تھا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے چہرے پر اتنی چمک کیسے پیدا ہوگئی؟ تو اس نے کہا کہ آپ کو یاد نہیں ایک رات آپ خوف خداعَزَّوَجَلَّسے زار زار رو رہے تھے ، اور آپ کے آنسو بہہ رہے تھے تو کمالِ محبت سے میں نے آپ کے آنسو ؤں کو اپنے چہرے پر مل لیا تھا ۔ یہ چمک ان ہی آنسوؤں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ ‘‘ ( )

حضرت سیدنا
عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس مؤمِن کی آنکھوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچِہ مکّھی کے سرکے برابر ہوں ، پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
جو روئے گا جنت میں داخل ہوگا :حضرتِ سیِّدُناجَریر بنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، نبیوں کے سرور ، مدینے کے تاجور ، محبوب ِربِّ اکبرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم سے فرمایا : ’’میں تمہارے سامنے سورۃ التکاثر پڑھتا ہوں ، تم میں سے جو روئے گا وہ جنّت میں داخِل ہو گا ۔ ‘‘ چُنانچِہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے پڑھا ۔ ہم میں سے کچھ تو روئے اور کچھ نہ روئے ۔ جو نہیں رو سکے تھے اُنہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم نے رونے کی کوشِش کی مگر نہ روسکے ۔ سرکارِ نامدار مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’میں تمہارے سامنے اسے دوبارہ پڑھتا ہوں جو روئے گا ، اُس کے لئے جنّت ہو گی اور جو نہ رو سکے وہ رونے کی سی شکل ہی بنالے ۔ ‘‘ ( )
¥
قابل رشک مدنی منّا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اِس روایت میں ہمارے میٹھے آقا ، مکّی مَدَنی مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نہایت اُچھوتے انداز میں نیکی کی دعوت دینے کا رقّت انگیز بیان ہے ۔ اِس روایت سے معلوم ہوا کہ میرے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے جسے چاہیں جو چاہیں عنایت فرمادیں ، جبھی تو فرمایا : ’’جو روئے گا وہ جنَّت میں داخِل ہو گا ۔ ‘‘ اِس روایت میں قرآنِ کریم کے آخِری پارے کی 8آیتوں پر مشتمل سورۃ التکاثر کا تذکِرہ ہے ، جس کے پڑھنے والے کو ایک ہزار آیتیں پڑھنے کا ثواب ملتا ہے ، اِس میں قبر و آخِرت اور جہنم کا انتہائی لرزہ خیز بیان ہے ، کاش ! ہم کنزالایمان سے اِس کا ترجمہ ذِہن نشین کر لیں اور جب

بھی یہ سورت پڑھیں یا سنیں خوفِ خدا سے رونا نصیب ہوجائے ۔ آیئے ! اِس سورت کے حوالے سے ایک ایسے مَدَنی مُنّے کی پُر سوز حِکایت پڑھتے ہیں ، جس نے عملی طور پر خوفِ خدا بھری نیکی کی دعوت د ے کر ہر ایک کو حیرت میں ڈال دیا ۔ چُنانچِہ ایک بُزُرگ نے کسی مدرَسے کے باہَر ایک مَدَنی مُنّا دیکھا جو کھڑا رو رہا تھا ۔ اِستِفسار ( یعنی پوچھنے ) پر اُس نے بتایا ، ہمارے استاذ صاحِب نے آج کے سبق میں تختی پر بعض آیاتِ کریمہ لکھوائی ہیں ، جو مجھے رُلا رہی ہیں ، یہ کہتے ہوئے اُس نے تختی آگے بڑھا دی ۔ اُس میں لکھا تھا :
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱) حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ(۳) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ(۴) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ(۵)
(پ۳۰ ،التکاثر:۱تا۵ )اللہکے نام سے شروع جو نہایت مہربان رَحم والا ۔
تمہیں غافِل رکھا مال کی زیادہ طلبی نے ۔ یہاں تک کہ تم نے قبروں کا مُنہ دیکھا ۔ ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے ۔ پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے ۔ ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی مَحَبَّت نہ رکھتے ۔
مَدَنی مُنّا برابر روئے جا رہا تھا ، وہ بُزُرگ اُس کی یہ رِقّت دیکھ کر بے حد متاثر ( مُتَ ۔ ءَ ث ۔ ثِر ) ہوئے اور فرمانے لگے : ’’بیٹا ! اِس سورت کا سبق یہاں تک پورا نہیں ہو جاتا بلکہ آگے بھی ہے ، جو شاید تمہیں کل دیا جائے ۔ یہ کہتے ہوئے اُنہوں نے سورۃ التکاثر کی بَقِیّہ آیاتِ کریمہ بھی سُنا دِیں جو یہ ہیں :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ(۶) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ(۷)ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)(پ۳۰ ،التکاثر:۶تا۸ )ترجمۂ کنزالایمان: بے شک ضَرور جہنم کو دیکھو گے ۔ پھر بے شک ضَرور اُسے یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ پھر بے شک ضَرور اُس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہو گی ۔
مَدَنی مُنّا جہنم کا تذکِرہ سُن کر تھرّا اُٹھا ، کانپتا ہوا گرا اور تڑپنے لگا اور پچھاڑیں کھا کھا کر ٹھنڈا ہو گیا ۔ اُس کا اُستاذ لپک کر آیا اور اُس نے اُن بُزُرگ کو پکڑ لیا ۔ لوگ اِکٹھے ہو گئے ، مرحوم مَدَنی مُنّے کے ماں باپ بھی آپہنچے ۔ اُن بُزُرگ کو بطورِ قاتِل عدالت میں پیش کر دیا گیا ۔ قاضی صاحب نے اُن بُزُرگ سے صفائی طَلَب کی تو اُنہوں نے سارا ماجرا ( ما ۔ جَ ۔ را ) کہہ سُنایا ۔ یہ سُن کر قاضی صاحِب نے فرمایا : ’’یہ مَدَنی مُنّا انتِہائی سعادت مند تھا اور خوفِ الٰہی
عَزَّ وَجَلَّکی تلوار سے شہید ہوا ہے ۔ اُن بُزُرگ کو باعِزّ ت بَری کر دیا گیا ۔ ( )
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔
مرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دم ……… ترے خوف سے یا خدا یا الٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہی
مدنی گلدستہ
’’بریلی ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
خوف خدا میں آنسو بہانااللہ عَزَّ وَجَلَّکو بے حد محبوب ہے ۔(2) αاللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف اُس علم و عمل سے پید ہوتا ہے جس میں معرفت الٰہی شامل ہو ۔(3) ∞اسلام کی سر بلندی کے لئے کیے جانے والے جہاد میں اپنے خون کا نظرانہ پیش کرنا یہ خوفِ خدا میں آنسو بہانے سے افضل ہے ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں ملنے والی تکلیف انسان کواللہ عَزَّ وَجَلَّکا محبوب بنا دیتی ہے ۔(5) ∞کسی شرعی فریضہ کو ادا کرنے کے لیے جو نشان لگ جائیں جیسے چلتے وقت پاؤں میں پڑنے والے نشان یہ نشان بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکو محبوب ہیں ۔ اسی طرح سردیوں میں وضو کرنے سے پاؤں پھٹ جانے والے نشان ، زمین کی سختی کے سبب پیشانی پر بننے والے سجدے کے نشان ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا خوف عطا فرمائے ، اپنے خوف میں رونے کی سعادت عطا فرمائے ، نیک لوگوں کا فیضان عطا فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 455