- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا سے رونا
- حدیث نمبر 456
حدیث مبارکہ
حَدِيْثُ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، قَالَ : وَعَظَنَارَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً
وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرِفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ. ( )
حديث العرباض بن سارية رضی اللہ عنہ ، قال : وعظنارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم موعظة
وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون. ( )
حدیث ترجمہ
تر جمہ : حضرتِ سَیِّدُناعِرباض بن سارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث پاک ہے فرماتے ہیں کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا ، جس سے دل دہل گئے اور آنکھوں سے آنسوبہہ نکلے ۔ ‘‘
شرح حدیث
ایک اہم وضاحت :واضح رہے کہعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ مکمل حدیث پاک بیان نہیں فرمائی بلکہ اس کا فقط وہی جزء بیان فرمایا ہے جس کی باب کے ساتھ مناسبت ہے ۔ یہاں بھی فقط اسی جزء کی شرح بیان کی جائے گی ، مکمل حدیث پاک ’’فیضانِ ریاض الصالحین ‘‘ جلددوم ، حدیث نمبر۱۵۷ میں گزر چکی ہے ، تفصیلی حدیث پاک بمع شرح کے لیے اُسی مقام کا مطالعہ کیجئے ۔
¥نصیحتوں سے بھرپور بلیغ وعظ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! وعظ ونصیحت حضرات انبیاء کرام ومرسلین عظامعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی عظیم سنت ہے جس کوتمام نبیوں کے سَرْوَر ، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کمال کی بلندیوں پرپہنچایااورکیوں نہ ہوکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں جوامع الکلم عطافرمائے ۔ یعنی ایسے کلمات جوعبارت کے لحاظ سے مختصراورمعانی ومطالب کے لحاظ سے جامع ہوں ۔ چنانچہ مذکورہ حدیث پاک میں بھی حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وعظ و نصیحت کا بیان ہے کہ آپ نے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو وعظ و نصیحت پر مشتمل ایک ایسا بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا کہ سننے والوں کے دل خوف الٰہی سے دہل گئے اور جلال الٰہی سے آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ حضور سید المرسلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وعظ ونصیحت کااندازانتہائی دلنشین ہواکرتا ۔ کبھی خوف خدا کابیان ہوتا توکبھی رحمت الٰہی کی بشارتیں ، کبھی جنت کی خوشخبریاں سناتے ، توکبھی دوزخ سے ڈراتے اورکبھی سابقہ اُمتوں کے حالات سے آگاہ فرماتے ، توکبھی آنے والے فتنوں کی خبرارشادفرماتے ۔ الغرض کلام حاضرین کی حالت اوروقت کے تقاضے کے عین مطابق ہوتا ۔مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یوں تو حضور کے تمام وعظ ہی مؤثر ہوتے تھے ۔ لیکن خصوصیت سے یہ وعظ بہت پر تاثیرتھا ، جس میں عشق خدا ، خوفِ کبریا کا دریا موجیں مار رہا تھا ۔ عشق سے آنسو بہے اور خوف سے دل ڈرے ۔ بلیغ سے پر تاثیر ( کلام ) مراد ہے ۔ ‘‘ ( )اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’بَلِيْغَةًیعنی خوب ڈرانے والا اور خوف دلانے والا وعظ جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان ہے : (وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا(۶۳))(پ۵ ،النساء:۶۳ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور ان کے معاملے میں اُن سے رسا ( اثر کرنے والی ) بات کہو ۔ ‘‘ حدیث میں بہنے کی نسبت آنکھوں کی طرف کی گئی جس طرح قران مجید میں کی گئی ۔ ارشادِ ربانی ہے : (α تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ) (پ۷ ،المائدۃ:۸۳ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے ابل رہی ہیں ۔ ‘‘ گویا کہ آنسوؤں کی جگہ ان کی آنکھیں بہہ رہی ہیں یہ مبالغہ بیان کرنے کے لئے ذکر کیا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥صحابہ کا خوفِ خدا :حضرت سيدناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک دن نمازِ فجر کا سلام پھیراتو آپ پرغم کی کیفیتطاری تھی اور آپ اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر فرمارہے تھے : ” میں نے رحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ کو دیکھا ہے لیکن آج میں ان جیسی کوئی بات نہیں پاتا ۔ وه حضرات اس حالت میں صبح کرتے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ، چہرے زرد اور غُبار آلود ہوتے اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدوں کے نشانات ہوتے ۔ ان کی راتیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے سجدوں میں اور قیام کی حالت میں تلاوتِ قرآن میں گزرتیں اور وہ باری باری اپنی پیشانی اور پاؤں کو عبادت کے لئے استعمال کرتے ( کبھی سجدہ کرتے اور کبھی قیام ) ۔ جب صبح ہوتی اور یہ لوگاللہ عَزَّ وَجَلَّکو یاد کرتے تو اس طرح سے کانپتے جیسے سخت ہوا کے دن میں درخت ہلتے ہیں اور ان کی آنکھیں اس قدر آنسو بہاتیں کہ ان کے کپڑے بھیگ جاتے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! اب میں ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں جو غفلت کی حالت میں رات گزارتے ہیں ۔ اتنا فرمانے کے بعد آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہاں سے
تشریف لے گئے اور پھر آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ابن مُلجم نے آپ کو شہید کردیا ۔ ‘‘ ( )گانے باجوں سے توبہ نصیب ہوگئی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! رضائے الٰہی پانے ، دل میں خوفِ خدا جگانے ، خوفِ خدا کے سبب گریہ وزاری کی سعادت پانے ، ایمان کی حِفاظت کی کڑھن بڑھانے ، موت کا تصوُّر جَمانے ، خود کو عذابِ قبرو جہنم سے ڈرانے ، گناہوں کی عادت مِٹانے ، اپنے آپ کو سنّتوں کا پابندبنانے ، دل میں عشقِ رسول کی شَمع جَلانے اور جنّت الفردوس میں مکّی مَدَنی مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس پانے کا شوق بڑھانے کیلئے تبلیغ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے ہر دم وابَستہ رہیے ، ہرماہ کم از کم تین دن کیلئے عاشِقانِ رسول کے ہمراہ مَدَنی قافِلے میں سنّتوں بھرا سفر کرتے رہیے اور فکرِ مدینہ کے ذَرِیعے روزانہ مَدَنی انعامات کا رِسالہ پُر کر کے ہر مَدَنی ماہ کی ابتِدائی دس تاریخ کے اندر اندر اپنے ذِمّے دار کو جَمع کرواتے رہیے ۔ ترغیب وتَحریص کیلئے ایک مَدَنی بہار پیش خدمت ہے ۔ چنانچہ بابُ الاسلام ( سندھ ) حیدرآبادکے ایک اسلامی بھائی کی تحریرکاخلاصہ ہے کہ میں دنیاکی رنگینیوں میں زندَگی گزارنے والا ایک چھیل چھبیلانوجوان تھا ، نَمازوں سے کوسوں دُوراورسنّتوں سے محروم تھا ، دُنیاکی بے شُمار نازَیبا حرکتوں جیسا کہ گانے باجوں ، فلموں ڈراموں وغیرہ وغیرہ کی لپیٹ میں تھا ۔ میرے مَدَنی ماحول میں آنے کا سبب کچھ اس طرح بناکہ خوش قسمتی سے رَمَضَانُ الْمُبارَک ۱۴۲۹ہجری بمطابق 2008عیسوی میں مَدَنی چینل کا آغاز ہوا اور کیبل پراس کے مَدَنی سلسلے جاری ہوگئے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رَحمت سے میں نے ان سلسلوں کو دیکھا تو مجھے بہت اچّھے لگے ، اب میں اکثرو بیشترمَدَنی چینل ہی دیکھنے لگا ، ایک بار مَدَنی چینل پر سنّتوں بھرا بیان ’’ کالے بچھو ‘‘ سننے کی سعادت نصیب ہوئی ۔ میں خوفِ خدا سے لرز اٹھا ، میں نے ہاتھوں ہاتھ اپنے چہرے پرداڑھی سجانے کی نیّت کر لی اورمَدَنی چینل پر جب’’ گانوں کے 35کفریہ اشعار ‘‘ نامی بیان سنا تو میں نے گھبرا کر ہاتھوں ہاتھ گانے سننے سے بھی توبہ کر لی ۔ مَدَنی چینل پر جب بیعت کروائی گئی تواَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمیں حُضُورغوثِ اعظم سیِّدُناشیخ عبدالقادِرجِیلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکا مُرید ہو کر قادِری بن گیا ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رَحمت سے نَمازِباجماعت کی پابندی شُروع کردی ہے ۔ کرم
بالائے کرم ! یہ تحریر پیش کرتے وَقت عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ ( کراچی ) میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے ماہِرَمَضَانُ الْمُبارَککے 30روزہ سنّتوں بھرے اعتکاف میں شریک ہوں ۔
مَدَنی چَینل سنّتوں کی لائے گا گھر گھر بہار ……… مَدَنی چَینل سے ہمیں کیوں والِہانہ ہونہ پیار
اے گناہوں کے مریضو ! چاہتے ہو گر شِفا ……… آن کرتے ہی رہو تم مَدَنی چَینل کو سدا
اِس میں عصیاں سے حفاظت کا بہت سامان ہے ………اِنْ شَاءَ اللہخُلد میں بھی داخِلہ آسان ہےمدنی گلدستہ
’’عبادت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)حضور سیدالمرسلین ، رحمۃ اللعالمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکائنات میں سب سے زیادہ علم والے ہیں ، اسی لیے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں ۔
(2) حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وسیلہ سے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی خوف خدا رکھنے والے تھے ، نیز آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وعظ سن کر ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا ۔
(3) وعظ ونصیحت کرنا اور لوگوں کو خوفِ خدا سے ڈرانا سنت ہے ۔
(4) حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کلام فصیح و بلیغ اور خوفِ خدا سے بھر پور ہوا کرتاتھا اور ایسا نصیحت آموز ہوتا کہ سننے والوں کے دلوں پر اس طرح اثر کرتا کہ خوف خدا کے سبب آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ۔(5) ∞واعظ کو چاہیے کہ حاضرین کی حالت کے مطابق بسا اوقات اُن کو خوف خدا سے بھی ڈراتا رہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں وعظ و نصیحت کو سننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں خوف خدا میں گریہ وزاری نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 456