- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا سے رونا
- حدیث نمبر 451
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم لاُِبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ اَمَرَنِي اَنْ اَقْرَاُ عَلَيْكَ : ( لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا )قَالَ : وَسَمَّانِي؟قَالَ : ’’نَعَمْ ‘‘ فَبَكٰى اُبَيٌّ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ : فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي. ( )
عن انس رضی اللہ عنہ ، قال : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم لابي بن كعب رضی اللہ عنہ : ان الله عز وجل امرني ان اقرا عليك : ( لم یكن الذین كفروا )قال : وسماني؟قال : ’’نعم ‘‘ فبكى ابي.
وفي رواية : فجعل أبي يبكي. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے : (α لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا) کی تلاوت کروں ۔ ‘‘ انہوں نے پوچھا : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیااللہ عَزَّ وَجَلَّنے میرا نام لیا ہے ؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘ ( یہ سن کر ) سَیِّدُنَا ابی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے ۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے رونا شروع کر دیا ۔
شرح حدیث
سَیِّدُنَا اُبی بن کعب کا مختصر تعارف :حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا تعلق قبیلہ خزرج سے ہے ، آپ بارگاہِ رسالت کے کاتب وحی تھے ، آپ ان چھ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سے ایک ہیں جو عہد رسالت میں ہی مکمل حافظ قرآن ہوچکے تھے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسرکارِ دوعالَم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی موجودگی میں بھی فتاویٰ دیا کرتے تھے ۔ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کوسَیِّدُالْقُرَّاءیعنی قاریوں کا سردار کہا کرتے تھے ۔ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی کنیت ’’ابوالمنذر ‘‘ رکھی تھی ۔ امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآپ کو ابوالطفیل کنیت سے پکارا کرتے تھے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہ رسالت سے ’’سید الانصار ‘‘ کا خطاب ملا ، اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے انہیں سید المسلمین کا لقب عطا فرمایا ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کثیر صحابہ کرام وتابعین عظام نے اکتساب فیض کیا ، آپ کے شاگردوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔()خوشی میں خوفِ خدا کو شامل کرنا صالحین کی شان :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرت سیدنا اُبی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی : ’’ کیااللہ عَزَّ وَجَلَّنے میرا نام لے کر آپ کو یہ حکم دیا ؟ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ہو سکتا ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو مطلقاً حکم دیا ہو کہ اپنی امت میں سے کسی کو بھی یہ سورت سنا دیں اور خصوصیت کے ساتھ میرا نام نہ لیا ہو ۔ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہارا نام لے کر کہا اور نسب بھی ذکر فرمایا ۔ ‘‘ یہ سن کر سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے ۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے رونے کی وجہ یا تو خوشی ہے کہ آپ خوشی سے رونے لگے یا اس نعمت پر شکرمیں کمی کو دیکھ کر خوف سے روئے ، یا خود کو کم درجہ سمجھتے ہوئے خوف اور تعجب سے روئے ۔ صالحین یعنی نیک لوگوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ جب وہ خوش ہوتے ہیں تو اپنی خوشی میں خوفِ خدا
کو بھی شامل کر لیتے ہیں ۔ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاسَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوقراءت سنانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے قراءت سیکھیں اور ایک دوسرے کو قرآن پاک سنانا سنت ہو جائے اور حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب کی فضلیت پر تنبیہ ہو جائے ۔ یہ مقصد نہ تھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کچھ سیکھیں ۔ سرکارِمدینہ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا قراءت کرنے میں سورۂبَیِّنَہکو متعین کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ سورت مختصر ہے مگر بہت سے قواعد و اُصولِ دِین اور فروعات اور اہم باتوں کی جامع اور اِخلاص و دِل کی پاکیزگی پر مشتمل ہے ۔ ‘‘ ( )
¥حدیث پاک سے حاصل ہونے والے فوائد :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے مذکورہ حدیث پا ک سے چند فوائد بھی ذکر فرمائے ہیں : ( 1 ) علم تجوید کے ماہر اور اہل علم وفضل کے سامنے قرآن سنانا مستحب ہے ، خواہ قرآن سنانے والا سننے والے سے افضل ہو ۔ ( 2 ) مذکورہ حدیث پاک سے حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ، کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو قرآنِ مجید سنایا ، اس فضیلت میں لوگوں میں سے کوئی بھی ان کا شریک نہیں ۔ ( 3 ) حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ایک اور فضیلت یہ بھی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کا نام لیااور ان کی اس بلند و بالا شان کا ذکر حدیث پا ک میں آیا ۔ ( 4 ) خوشی کی خبر سن کر رونا بھی جائز ہے ۔ ( 5 ) خصوصیت کے ساتھ کسی مسئلہ کی تحقیق پوچھنا بھی جائز ہے کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پوچھا : ’’کیااللہ عَزَّ وَجَلَّنے میرا نام لیا ہے ؟ ‘‘ کیونکہ یہ بھی احتمال تھا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ فرمایا ہو : ’’اپنی اُمَّت کے کسی بھی فرد کو قرآن سنا دو ۔ ‘‘ ( 6 ) حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو قرآنِ پاک سنانے کا حکم کیوں دیا؟اس کی حکمت میں اختلاف ہے ، راجح قول یہ ہے کہ یہ حکم اس لئے دیا تاکہ کسی اہل علم اور فضیلت والے کوقرآنِ پاک سنانے کا عمل سنت ہوجائے اورلوگ قرآنِ پاک کی قراءت کے آداب سیکھیں اور کوئی شخص کسی کو قرآنِ پا ک سنانے میں عار محسو س نہ کرے ۔ ( 7 ) حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی جلالت و اہلیت پر تنبیہ ہے کہ لوگ ان سے قرآن سیکھیں اور حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہی امام القراء ہیں ۔ ( 8 ) سورۂبَیِّنَہْکو سنانے کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ یہ مختصر اور دِین کے اُصول و فُروع کے کثیر فوائد کی جامع ہے ۔ ( )
¥قرآنِ پاک سنانا وسکھاناسنت ہے :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ ( حدیث پاک میں ہے : )اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے (α لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا) کی تلاوت کروں ۔ ‘‘ یعنی اس طرح کہ قرآنِ کریم کی بعض آیتیں یا سورتیں خصوصیت سے تم کو سناؤں اگرچہ عمومًا ہر مسلمان کو سنانا اَحکام بتاناہمارا تبلیغی فریضہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ کسی خاص شخص کو قرآنِ پاک سنانا بھی سنت ہے ۔ ‘‘ ( سیدنا ابی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا اپنے نام کے بارے میں پوچھنا ) یہ سوال تعجب کے لیے ہے کہ کیا مجھ جیسے عاجز مسلمان کا نام بھی رب تعالیٰ نے آپ کے سامنے عزت کے ساتھ لیا ۔ کیا میں ایسا خوش نصیب انسان ہوں ؟سوال کے بہت مقصد ہوتے ہیں ایک تعجب بھی ہے ۔ ( سَیِّدُنَا اُبی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا ) رونا انتہائی خوشی کا تھا اور اِس اندیشہ کی بنا پر تھا کہ میں عاجز انسان اتنی بڑی نعمت کا شکریہ کس طرح ادا کرسکوں گا ۔ حضرت اُبی ابن کعب نے قرآن سیکھنے میں بڑی محنت کی تھی حتی کہ آپ تمام صحابہ میں بڑے پائے کے قاری تھے اِسی بنا پر رب تعالیٰ نے فرمایا کہ : اے محبوب چونکہ دنیا ان سے قراءت سیکھے گی ۔ لہٰذا آپ خصوصیت سے انہیں قراءت سنائیں ، آپ میرے شاگرد اعلیٰ ہیں ، یہ آپ کے شاگردِ رشید ہوں ۔ خصوصیت سے یہ سورت تلاوت فرمانے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ حضرت اُبَی ابن کعب علمائے یہود سے تھے اور اس سورت میں علمائے اہل کتاب کا ذکر ہے ، اس کے سننے سے اُن کا ایمان اور بھی قوی ہوگا ، اس حدیث سے حضرت اُبی ابن کعب کی عظمت کا پتہ لگا ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ افضل مفضول کو مفضول افضل کو قرآنِ کریم سکھائے ۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’ قرآن پا ک ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبہت عزت وعظمت والے ہیں کہ انہیں شرف صحابیت نصیب ہوا جس سے یہ تمام دیگر انسانوں میں ممتاز ہوگئے مگر بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو مخصوص فضائل بھی عطا فرمائے گئے ، جیسا کہ اس حدیث پاک میں سیدنا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے فضائل بیان ہوئے ۔
(2) حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعبرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ فضلیت حاصل ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا نام لیا اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو قرآن سنایا ۔
(3) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی خوفِ خدا سے گریہ وزاری فرمایا کرتے تھے ۔
(4) کسی دوسرے کو قرآن پاک سنانا سنت ہے ۔
(5) کسی کو علم دینے یا کسی سے علم حاصل کرنے میں افضلیت و مفضولیت کا کوئی عمل دخل نہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی کو ئی عار محسوس کرنی چاہیے ۔
(6) اگر کسی مسئلہ میںتَرَدُّدْہوتو اہل علم سے اس بارے میں تحقیق کر لینی چاہیے ۔
(7)اللہوالوں کی شان یہ ہے کہ جب انہیں کوئی خوشی ملتی تو اس خوشی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف کو بھی شامل کرلیا کرتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی محبت نصیب فرمائے ، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اپنا خوف اورخوف سے رونا نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 451