- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا سے رونا
- حدیث نمبر 447
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ فَقَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلًاوَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا. قَالَ : فَغَطَّى اَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وُجُوهَهُمْ وَ لَهُمْ خَنِينٌ . ( )
عن انس رضى الله عنه قال : خطبنا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم خطبة ما سمعت مثلها قط فقال : لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلاولبكيتم كثيرا. قال : فغطى اصحاب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وجوههم و لهم خنين . ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ اُس جیسا خطبہ ہم نے پہلے کبھی نہیں سنا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” پھر صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ہچکیاں لے لے کر رونے لگے ۔ “
شرح حدیث
قبروحشر کی ہولناکیاں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قبر و حشر اور جہنم کے عذاب سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایاکہ ” جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “یعنی قبر و حشر کی ہولناکیاں اور جہنم کے عذابات اس قدر اذیت ناک ہیں کہ اگر تم لوگ اِن عذابات کو جان لوکہ جواللہ عَزَّ وَجَلَّنے گناہ گاروں کے لئے تیار کر رکھے ہیں تو خوف کے مارے بہت کم ہنسو اور زیادہ رؤ و ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی قیامت کے خوف و دہشت ، دوزخ کے عذاب ،اللہتعالیٰ کی پکڑ ، عالم غیب کے اسرار جتنے مجھے معلوم ہیں تم کو اُن کا لاکھواں حصہ بھی حاصل نہیں ، نیز تم کو جس قدر علم ہے وہ ہم سے سن کر ہے ، ہم کو علم ہے دیکھ کر اور دیکھے سنے علم میں فرق ہے ۔ اگر تم کو وہ چیزیں معلوم ہوجائیں یا تو تم ہنسنا بھول ہی جاؤ یا ہنسو بہت کم اور ڈرو بہت زیادہ ، تم پر خوف کا غلبہ ہوجاوے ۔ ‘‘ ( )
¥خوفِ خدا کے سبب ہنسی کی کمی اور رونے کی زیادتی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! قبر کی تاریکیاں ، حشر کی ہولناکیاں اور دشوار گزار گھاٹیاں واقعی ایسی ہیں کہ ان کا کوئی بھی تصور نہیں کرسکتا ۔ حضور نبی اکرم نورِ مجسم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تو سب کچھ پہلے ہی ملاحظہ فرمالیا ہے ، جبھی تو آپ پر خوفِ خدا کی کیفیت طاری رہتی تھی ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہنستے کم اور روتے زیادہ تھے ، آپ نے کبھی بھی قہقہہ نہیں لگایا ، فقط مسکراتھے تھے ۔ کاش ہمارے اندر بھی خوفِ خدا پیدا ہوجائے جس کے سبب ہماری ہنسی میں کمی آجائے اور رونے میں زیادتی پیدا ہوجائے ۔ مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح باب نمبر50 کی حدیث نمبر401کے تحت گزر چکی ہے ، تفصیل کے لیے اسی کا مطالعہ کیجئے ، جبکہ اُس تفصیلی شرح کا خلاصہ یہاں پیش خدمت ہے :
……٭حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت کی خیر اور جہنم کے شر کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔
……٭حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے قہروجلال ( جیسے قبر وحشر کی ہولناکیاں ، قیامت کی دشوار گزار گھاٹیاں ، جہنم کی پرخار وادیاں وغیرہ ) کا سب سے زیادہ مشاہدہ کیا ہے اس لیے آپ ہی سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں ۔
……٭جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے تب سے سیدنا جبریل وسیدنا میکائیلعَلَیْہِمَا السَّلَامنہیں ہنسے ۔
……٭صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا بہت خوف رکھتے تھے ، بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانتو خوفِ خدا سے اتنا روتے تھے کہ ان کے چہروں پر رونے کے سبب سیاہ لکیریں بن گئی تھیں ۔
……٭ خوفِ خدا کے سبب رونے والے کیاللہ عَزَّ وَجَلَّمغفرت فرمادیتا ہے بلکہ ایک مبلغ کی اس لیے بخشش ہوگئی کہ اس کے بیان کو سن کراللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے ایک ایسا شخص بھی روپڑا جو اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی خوفِ خدا سے نہ رویا تھا ۔
……٭جس مؤمن کی آنکھ سے مکھی کے پرکے برابر آنسو نکلیں پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے کو پہنچیں تواللہ عَزَّ وَجَلَّاسے جہنم پر حرام فرمادیتا ہے ۔
……٭حضرت سیدنا ابراہیمخلیلُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوف خدا کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی تھی ۔
……٭جنت وودوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے جسے وہی طے کرسکتا ہے جو بہت رونے والا ہو ۔
¥یہ ہنسنا کیسا ۔ ۔ ۔ ؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں دنیا میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے فقط اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے ، ہمیں نہیں معلوم کہ موت کا فرشتہ کب آکر ہماری روح قبض کرلے گا؟ ہمیں نہیں معلوم کہ اس دنیا سے ہم اپنا ایمان سلامت لے کر جاسکیں گے یانہیں؟ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہماری قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا؟ ہم قبر میں آنے والے فرشتوں یعنی منکر نکیر کے سوالوں کے جواب بھی دے سکیں گے یا نہیں؟ہمیں نہیں معلوم کہ کل بروز قیامت ہمارا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گایا بائیں ہاتھ میں؟ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم پل صراط سے بخیریت گزر جائیں گے یا نہیں؟ ہمیں جنت نصیب ہوگی یا ہمارا ٹھکانہ جہنم ہوگا؟ آہ ۔ ۔ ۔ جب ہمیں ان تمام باتوں کا علم نہیں تو پھر یہ غفلت کیسی؟ پھر یہ دنیا میں بے جا مشغولیت کیسی؟ پھر یہ بات بات پر ہنسنا اور قہقہے لگانا کیسا؟ پھر یہ نیکیوں سے دوری کیسی؟ پھر اپنے شب وروز گناہوں میں گزارنا کیسا؟
حضرت سَیِّدُنَا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیایک نوجوان کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا ہوا ہنسنے میں مشغول تھا ۔ آپ نے اس سے ارشاد فرمایا : ’’اے نوجوان ! کیا تو پل صراط سے گزر چکا ہے ؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘ آپ نے دریافت فرمایا : ’’کیا تو جانتا ہے کہ تو نے جنت میں جانا ہے یا تیرا ٹھکانہ دوزخ ہے ؟ ‘‘ نوجوان نے عرض کی : ’’جی نہیں ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’تو پھر یہ ہنسنا کیسا؟ ‘‘ اس دن کے بعد کسی نے اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ( )گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی ……… مرا حشر میں ہوگا کیا یا الٰہی
گناہوں کے اَمراض سے نیم جاں ہوں ……… پئے مرشدی دے شفا یا الٰہی
میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو ……… کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی
عبادت میں گزرے مری زندگانی ……… کرم ہو کرم یا خدا یا الٰہیمدنی گلدستہ
’’بیت المقدس ‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1)حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبر و حشر اور جہنم کے عذاب کو جانتے ہیں ۔(2) ∞آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممخلوق میں سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والے ہیں ۔
(3) آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے بہت رویا کرتے تھے ، آپ نے کبھی بھی قہقہہ نہیں لگایا بلکہ فقط مسکرایا کرتے تھے ۔
(4) حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جہنم کے عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ’’جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ ‘‘
(5) عذابِ الٰہی کے خوف سے رونا صحابہ کرامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکی سنت ہے ۔
(6) خوفِ خدا سے رونے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، خوفِ خدا سے رونے والے کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔
(7) قبروحشر کی ہولناکیوں اور قیامت کی دشوار گزار گھاٹیوں سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ مانگنی چاہیے ۔
(8) جنت ودوزخ کے درمیانی گھاٹی کو وہی پارکرسکتا ہے جو خوف خدا سے زیادہ رونے والا ہو ۔
(9) جب ہمیں اپنی آخرت کے بارے میں معلوم نہیں تو خوف خدا پیدا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رونا چاہیے ، نیکیوں پر کمربستہ ہونے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے عذاب سے اپنے حفظ و امان میں رکھے ، قبر وحشر کی ہولناکیوں اور جہنم کے عذابات سے محفوظ فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 447