Main Icon

خوفِ خدا سے رونا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 448

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَن اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتّٰى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فيِ الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ. ( )

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والاجہنم میں داخل نہ ہوگا ، یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے ، اور راہِ خدا کا گرد و غُبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے ۔ ‘‘

شرح حدیث

خوفِ خدا سے کیا مراد ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہاں خوف سے مراداللہتعالیٰ کا وہ خوف ہے جو اس کے حکم پر عمل کرنے اور منع کردہ چیزوں سے بچنے کی دعوت دے ، جو ایسا ہو وہ رب تعالیٰ کے وعدے کے مطابق آگ میں صرف قسم پوری کرنے کی حد تک داخل ہوگا ۔ ‘‘ ( یعنی پل صراط سے گزرے گا ۔ ) ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے مراد اُس کے حکم پر عمل کرنا اور گناہوں سے بچناہے ۔ ‘‘ () شیخ طریقت ، امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز تصنیف ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘ صفحہ26پر فرماتے ہیں : ’’خوفِ خدا سے مرادیہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی خفیہ تدبیر ، اس کی بے نیازی ، اُس کی ناراضگی ، اس کی گرِفت ( پکڑ ) ، ا س کی طرف سے دیئے جانے والے عذابوں اس کے غضب اور اس کے نتیجے میں ایمان کی بربادی وغیرہ سے خوف زدہ رہنے کا نام خوفِ خدا ہے ۔ ‘‘

¥
خوف خدا سے رونے والا کون؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والے سے مراداللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت رکھنے والایعنی وہ عالِم جو اپنے علم پر عمل کرتا ہوکیونکہاللہتعالیٰ ارشاد فرماتاہے : (اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُاؕ) (پ۲۲ ،فاطر: ۲۸ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اللہسے اسکے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں ۔ ‘‘ خلاصہ یہ کہ انسان کو اتنی معرفت ہو کہ عاجزی و خوفِ خدا سے رونے کا تصور کر سکے کیونکہ جسے کچھ بھی معرفت نہیں اس کے لئے رونا ممکن نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
تھنوں میں دودھ لَوٹنے کا معنٰی :مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے رونے والاجہنم میں داخل نہ ہوگا ، یہاں تک کہ دودھ تھنوں میں واپس لوٹ جائے ۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی مسام میں سے دوبارہ تھن میں چلا جائے اور یہ محال ہے ۔ یعنی جس طرح دودھ کا تھنوں میں واپس جانا محال ہے ایسے ہی اس شخص کا جہنم میں جانا محال ہے جو خوف ِ خدا سے روئے ۔ اور وہ شخص کہ جو خوفِ خدا سے نہیں رویا اور اس حال میں مرا کہ اس نے شرک نہیں کیا تو اس کا معاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہے ، چاہے تو اس کی تمام خطائیں معاف فرما کر کامیاب لوگوں کے ساتھ اسے بھی جنت میں داخل فرمادے ، اور چاہے تو اتنی دیر آگ میں روک لے جتنا کہ اس کے متعلق طے ہو چکا ۔ پھر ایمان کی بدولت ( سزا پوری ہونے کے بعد ) اسے جنت میں داخل کر دیا جائے اور یہ محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل ہے اور دودھ کا واپس تھنوں میں لوٹ جانے سے ایک محال بات کو بیان کرنا مقصود ہے ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی جیسے دوہے ہوئے دودھ کا تھن میں واپس ہونا ناممکن ہے ایسے ہی اس شخص کا دوزخ میں جانا ناممکن ہے ، جیسے رب تعالیٰ فرماتا ہے : (α حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-)(پ۸ ،الاعراف:۴۰ ) (ترجمۂ کنزالایمان: جب تک سوئی کے ناکے اونٹ نہ داخل ہو ۔ ) خوفِ خدا میں رونے کے بڑے

فضائل ہیں
تعالیٰ نصیب فرما دے ۔ ‘‘ ( )
¥
راہِ خدا کے غبارسے کیا مراد ہے ؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پاک کا ظاہر تو یہی ہے کہ یہاں جہادفِیْ سَبِیْلِ اللہمراد ہے جس کا متقضیٰ یہ ہے کہ مجاہد عذاب سے محفوظ رہے گا کیونکہ اس سے حفاظت کا ایسا وعدہ لیا گیا ہے جس کا خلاف نہیں ہوگا ۔ تو ظاہر کے اعتبار سے جہاد میں شہید ہونے والے یا جہاد کے بعد مرنے والے پر اسے محمول کیا جائے گاجبکہ وہ ہلاکت میں ڈالنے والا کوئی ایسا عمل نہ کرے جو اسے اس فضیلت سے محروم کردے ۔ ‘‘ ( ) لیکن بعض شارحین نے اسے جہاد کے لیے خاص نہیں فرمایا بلکہ عام رکھا ہے کہ یہاں کسی بھی نیک کام کے لیے راہِ خدا کا غبارمراد ہے ۔ چنانچہمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’راہِ خدا کا غبار وہ غبار ہے جو رب کی رضا کے لیے راستہ چلا جائے اور وہاں کا غبار بدن یا کپڑوں یا پاؤں یا چہرے پر پڑے جیسے مسجد کو جاتے ، طلبِ علم ، جہاد ، حج وعمرہ وغیرہ کرنے کی حالت میں جوگَردوغبار پڑے ۔ ’’راہ خدا کا غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے ۔ ‘‘ یعنی جیسے دو ضدیں جمع نہیں ہوسکتیں ایسے ہی ایک جگہ یہ دو چیزیں جمع نہیں ہوسکتیں ، رب تعالیٰ نے اس غبار اور دوزخ کے دھوئیں کو نقیضیں یا ضدیں بنادیا ہے یہ اس کی بندہ نوازی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
خوفِ خداسے رونے پر اَقوالِ بزرگانِ دِین :تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ616صفحات پرمشتمل کتاب’’نیکی کی دعوت ‘‘ سے خوفِ خدا سے رونے کے متعلق بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْنکے چند اَقوال پیش خدمت ہیں : ( 1 ) امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’جس سے ہوسکے وہ روئے اور جسے رونا نہ آئے تو وہ رونے جیسی صورت ہی بنالے ۔ ‘‘ ( 2 ) امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنَا مولائے کائنات ، علی المرتضیٰ شیرِخداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا : ’’جب تم

میں سے کسی کوخوفِ خداسے رونا آئے تو وہ آنسوؤں کو کپڑے سے صاف نہ کرے بلکہ رُخساروں پر بہ جانے دے کہ وہ اِسی حالت میں ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضِر ہو گا ۔ ‘‘ ( 3 ) حضرت سيِّدُنا محمد بن مُنكَدِر
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب روتے تو اپنے آنسوؤں کو چہرے اور داڑھی پر مل لیتے اورفرماتے : ’’مجھے معلوم ہوا کہ آگ اُس جگہ کو نہ چھوئے گی جہاں خوف خدا سے نکلنے والے آنسو لگے ہوں ۔ ‘‘ ( 4 ) حضرت سیِّدُناعبداللہبن عَمْرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ رویا کرو ! اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشِش کرو ، اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کسی کو عِلم ہوتا تو وہ اِس قَدَر چیختا کہ اُس کی آوازپھٹ جاتی اور اِس طرح نَماز پڑھتا کہ اُس کی پیٹھ ٹوٹ جاتی ۔ ‘‘ ( 5 ) حضرتِ سَیِّدُناابوسلیمان دارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ ( خوفِ خدا کے باعث ) جو آنکھیں ڈَبڈَبائیں گی ( یعنی آنسوؤں سے بھرجائیں گی ) ، اُس چہرے پرقِیامت کے دن سیاہی اور ذِلّت نہیں چڑھے گی اور اگر ان ڈَبڈَبانے والی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں گے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاُن آنسوؤں کے پہلے قطرے کے ساتھ ہی آگ کے کئی سَمُندر بجھا دے گا اور جس قوم میں سے کوئی شخص ( خوفِ خدا سے ) روتا ہے ، اُس قوم پررحم کیا جاتا ہے ۔ ‘‘ ( 6 ) حضرتِ سَیِّدُناعبدُاللہبِن عَمرْو بِن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے آنسو کا ایک قطرہ بہنا میرے نزدیک ایک ہزار دینار صَدَقہ کرنے سے بہتر ہے ۔ ‘‘ ( 7 ) حضرتِ سیدنا کعب احباررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’خوفِ خدا سے آنسو بہانا مجھے اپنے وَزن کے برابر سونا صَدَقہ کرنے سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے کیوں کہ جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ڈر سے روئے اور اُس کے آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرجائے تو آگ اُس ( رونے والے ) کو نہ چُھوئے گی ۔ ‘‘ ( )
مرے اَشک بہتے رہیں کاش ہردم ……… ترے خوف سے یا خدا یا الٰہی
ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ ……… میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہی
مدنی گلدستہ
’’رب کا خوف ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول

(1) خوفِ خدا کے سبب رونے والا فضلِ الٰہی سے کبھی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا ۔
(2) مسجد کو جاتے ، طلب علم ، جہاد ، حج وعمرہ کرنے کی حالت میں جو گردوغبار بدن یا کپڑوں یا پاؤں یا چہرے پر پڑے تو راہِ خدا کا یہ غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہوسکتے ۔
(3) جن چیزوں کو کرنے کا حکم ہے اُن پر عمل کرنا اور جن کی ممانعت ہے ان سے بچنا حقیقی خوفِ خدا ہے ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا حقیقی خوف علم سے ہی حاصل ہوتا ہے ، جس کے پاس علم نہیں اس کے خوف کا کوئی معنیٰ نہیں ، کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے خوفِ خدا کو علماء کی شان بیان فرمایا ہے ۔
(5) بندے کو چاہیے کہ کم ازکم اتنی معرفت حاصل کرے کہ عاجزی وخوفِ خدا سے رونے کا تصور کرسکے کیونکہ جو رونے کی وجہ نہیں جانتا اس کیلئے رونا ممکن نہیں ۔
(6) جو غبار ربّ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی راستے پر چلتے ہوئے بدن یا کپڑوں یا پاؤں یا چہرے پر پڑے وہ راہِ خدا کا غبار ہے ۔
(7) خوفِ خدا کے سبب رونے کے بہت فضائل بیان کیے گئے ہیں ، لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے اندر خوفِ خدا پیدا کریں اور خوفِ خدا کے سبب گریہ وزاری کریں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے ، خوف خدا میں رونا نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 448