- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- خوفِ خدا سے رونا
- حدیث نمبر 453
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَمَّا اِشْتَدَّ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قِيْلَ لَهُ فِيْ الصَّلاَةِ فَقَالَ : مُرُوْا اَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُرَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اِنَّ اَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيْقٌ اِذَا قَرَاَ الْقُرْآنَ غَلَبَهُ البُكَاءُ فَقَالَ : مُرُوْهُ فَليُصَلِّ. ( ) وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قُلْتُ : اِنَّ اَبَا بَكْرٍ اِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ. ( )
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : لما اشتد برسول الله صلى الله عليه وسلم وجعه قيل له في الصلاة فقال : مروا ابا بكر فليصل بالناس فقالت عائشةرضي الله عنها : ان ابا بكر رجل رقيق اذا قرا القرآن غلبه البكاء فقال : مروه فليصل. ( ) وفي رواية عن عائشةرضي الله عنها قالت : قلت : ان ابا بكر اذا قام مقامك لم يسمع الناس من البكاء. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ جب مرض الموت میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا درد بڑھ گیا توآپ سے نماز کے بارے میں عرض کیا گیا ۔ ارشادفرمایا : ’’ابو بکر سے کہو : لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔ ‘‘ اُمّ المؤمنین حضر ت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی : ’’ابوبکر ایک نرم دل انسان ہیں ، جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تواُن پر رونا غالب آ جاتا ہے ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ابوبکرسے کہو : نماز پڑھائیں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : ’’سیدنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو ( قرآن ) نہیں سناسکیں گے ۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب نماز میں کھڑے ہوں گے تو ( خوفِ خدا یاعشق مصطفے ٰ میں ) رونے لگ جائیں گے اور یہ باب بھی خوفِ خدا میں رونے کی فضیلت کے بارے میں ہے اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیثِ پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥سیدنا صدیق اکبر کا خوفِ خدا :میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو ! مذکورہ حدیث پا ک میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے خوفِ خدا کا ذکر ہے ۔ حدیث پاک کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ جب حضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مرضِ وفات لاحق ہوا اور بیماری شدت اختیار کرگئی تو آپ نے اُمُّ المؤمنین حضر ت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمایا : ’’ابو بکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘‘ اس پر سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابو بکر ایک نرم دل انسان ہیں ۔ ‘‘ دراصل امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبہت ہی زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے تھے ، جب بھی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُقرآن کی تلاوت سنتے یا خودقراءت کرتے تو بے ساختہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ۔ سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو یہ خدشہ تھا کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی غیر موجودگی میں نماز پڑھاتے ہوئے دوران تلاوت خوفِ خدا کی وجہ سے اُن پر رنج و غم کا ایسا غلبہ طاری ہو گا کہ وہ اپنے آنسو ؤں کو روک نہیں سکیں گے جیساکہ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ ’’میرے والد ماجد حضرت سَیِّدُنَا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب قرآنِ پاک کی تلاوت فرماتے تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنے آنسوؤں پر اختیار نہ رہتا یعنی زار و قطار رونے لگ جاتے ۔ ‘‘ ( )
چونکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بیٹی
تھیں اور آپ اپنے والد کے احوال سے بخوبی واقف تھیں اسی وجہ سے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے یہ عُذرپیش کیا ۔ لیکن حضور سیدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ہی امامت مقصود تھی اسی لئے آپ نے دوبارہ حکم فرمایا کہ : ’’ابو بکر سے کہو : لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘‘
¥بیماری کی شدت کی وجہ :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’جب حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشدید بیمار ہو گئے ۔ یعنی جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیماری نے شدت اختیار کرلی اور یہ وہ ہی بیماری تھی جس کے سبب آپ دنیا سے رُخصت ہوئے ۔ بیماری کی یہ شدت اجر کے زیادہ ہونے اور بلندیٔ درجات کے لئے تھی ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے نماز کے بارے میں عرض کیا گیا ۔ یعنی اب نماز کون پڑھائے گا اور لوگوں کا امام کو ن ہوگا؟توآپ نے ارشادفرمایا : ” ابو بکر سے کہو : لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔ “یعنی کوئی امام ان کو نماز پڑھائے تا کہ وہ اپنی نماز قائم کر سکیں ، یہاں سے سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد خلیفہ ہونا اور تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے افضل ہونا ثابت ہوا اور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناُمَّت میں سب سے افضل ہیں ۔ اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’ہم اس شخص کو دنیا ( خلافت ) کے معاملے میں کیوں پسند نہ کریں جسے حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمارے دِین ( امامت ) کے لئے پسند فرمایا ۔ ‘‘ اُمّ المؤمنین حضر ت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی ۔ یعنی حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اپنے والد کی طرف سے عرض کیا : اگر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات اسی حالت میں ہو گئی تو لوگ ابو بکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ( کی امامت ) کے بارے میں بد گمانی کریں گے ۔ سَیِّدُنَا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک نرم دل انسان ہیں ۔ سَیِّدُنَا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپراللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف کی حالت غالب رہتی تھی ۔ جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں توان پر رونا غالب آ جاتا ہے ۔ یعنی امام کے لئے نماز میں جتنی قراءت کرنے کا حکم ہے وہ اسے ( خوف خدا میں رونے کی وجہ سے ) پورا نہیں کر سکیں گے ، اس کا یہ مطلب نہیں کہ رونے کے سبب نماز میں دو حروف پیدا ہوں گے ، کیونکہ ان سے تو نماز ہی باطل ہو
جاتی ہے اگر معاملہ ایسا ہوتا تو سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدوسری بار نماز پڑھانے کا حکم نہ فرماتے ۔ ایک روایت میں اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’میں نے کہا : سَیِّدُنَا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے ۔ ‘‘ یعنی جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جگہ امام بنیں گے تو رونے کی وجہ سے لوگ ان کوسن نہیں سکیں گے ۔ ‘‘ علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس حدیث پاک کو اس باب میں اس لئے لائے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اس کام ( یعنی خشیت الٰہی کے سبب رونے ) سے راضی تھے اور اسی لئے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکوامامت کے معاملے میں مُقَدَّم رکھا اور یہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خوفِ خدا سے رونا پسند تھا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : (اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ) (پ۹ ،الانفال: ۲ )ترجمۂ کنزالایمان: ایمان والے وہی ہیں کہ جباللہیاد کیا جائے ان کے دل ڈر جائیں ۔ “ ( )
¥خلافت کے سب سے زیادہ مستحق :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث پا ک سے معلوم ہو ا کہ جب امام کو کوئی عذر لاحق ہو تو وہ کسی دوسرے شخص کو اپنا خلیفہ مقرر کر سکتا ہے ، امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی فضیلت تمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے زیادہ ہے ، کیونکہ اگر سرورِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نگاہ میں کوئی اور شخص افضل ہو تا تو آپ اس کو ہی اما م مقرر فرماتے ۔ یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ سرکارِ مکہ مکرمہ ، سردارِ مدینہ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد خلافت کے سب سے زیادہ مستحق امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہی ہیں ۔ ( )
¥سیدنا صدیق اکبر کا خوف خدا وگریہ وزاری :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک سے جہاں امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی افضیلت ، ان کا اعلیٰ مقام ومرتبہ ،رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد امام المسلمین
جیسے بڑے بڑے فضائل ثابت ہوتے ہیں ، وہیں آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے خوفِ خدا کا بھی پتا چلتا ہے ، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنہایت ہی خوف خدا رکھنے والے اور خوفِ خدا کے سبب گریہ وزاری کرنے والے تھے ۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 723صفحات پرمشتمل کتاب’’ فیضانِ صدیق اکبر ‘‘ ص148تا152سے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے خوفِ خدا اور گریہ وزاری سے متعلق چند اقتباسات پیش خدمت ہیں : ( 1 ) حضرت سَیِّدُنَا معاذبن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک باغ میں داخل ہوئے ، درخت کے سائے میں ایک چڑیاکو بیٹھے ہوئے دیکھاتوآپ نے ایک آہِ سرد دلِ پردرد سے کھینچ کرارشاد فرمایا : ’’اے پرندے ! توکتنا خوش نصیب ہے کہ ایک درخت سے کھاتاہے اور دوسرے کے نیچے بیٹھ جاتاہے ، پھرتوبغیر حساب کتاب کے اپنی منزل پہ پہنچ جائے گا ۔ اے کاش ! ابوبکر بھی تیری طرح ہوتا ۔ ‘‘ ( 2 ) حضرت سیدنا محمد بن سیرینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْنفرماتے ہیں : ’’سرکارمدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُواحد شخص تھے جو ایسی بات کہنے سے سب سے زیادہ ڈرتے جواُن کے علم میں نہ ہوتی ۔ ‘‘ ( 3 ) حضرت سیدنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں دو عالم کے مالِک و مختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں موجود تھا قرآن پاک کی جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی : (α مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ-وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(۱۲۳)) (پ۵ ،النساء: ۱۲۳ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اوراللہکے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مددگار ۔ ‘‘ توحضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اے ابوبکر ! کیا میں تمہیں وہ آیت نہ سناؤں جو مجھ پر ابھی نازل ہوئی ہے ۔ میں نے عرض کیا : ’’ جی ہاں ! کیوں نہیںیارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہی آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ۔ جیسے ہی میں نے یہ آیت مبارکہ سنی تو (اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خوف کے سبب ) مجھے ایسا لگا کہ میری کمر کی ہڈی ٹوٹ جائے گی ، میں نے درد کی وجہ سے انگڑائی لی تو سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اے ابوبکر ! ( گھبراؤ نہیں ) تم اور تمہارے مؤمنین دوستوں کو اس کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جائے گا ، یہاں تک کہ تماللہ عَزَّوَجَلَّسے ایسی
حالت میں ملاقات کرو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔ لیکن دیگر لوگوں کے گناہ جمع ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کو قیامت کے دن ان کا بدلہ دیاجائے گا ۔ ‘‘
یقیناً منبعِ خوفِ خدا صدیقِ اکبر ہیں ……… حقیقی عاشقِ خیرالوریٰ صدیقِ اکبر ہیں
نہایت متّقی و پارسا صدیقِ اکبر ہیں ……… تَقِی ہیں بلکہ شاہِ اَتقیا صدیقِ اکبر ہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔ آمین
امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی سیرتِ طیبہ کے مختلف گوشوں کی تفصیلی معلومات کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۳صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر ‘‘رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا مطالعہ کیجئے ۔مدنی گلدستہ
’’خوف خدا ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی خوف خدا رکھتے اور خوف خداکے سبب گریہ وزاری کرتے تھے ۔
(2) جب امام کو کوئی عذر لاحق ہو تو وہ کسی دوسرے کو اپنا خلیفہ مقرر کر سکتا ہے ۔
(3) امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتمام صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے افضل ہیں ۔
(4) امامت کے معاملے میں سرکار دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سَیِّدُنَا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو حکم دیا ، اس سے معلوم ہو ا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد خلافت کے مستحق سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہی تھے ۔
(5) امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبہت زیادہ خوف خدا رکھنے والے تھے ۔
(6) رائے کے معاملے میں چھوٹا بڑے کے آگے ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی رائے بھی پیش کر سکتاہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنا خوف نصیب فرمائے ، ہمیں خوف خدا میں رونا نصیب فرمائے ،
امیر المؤمنین سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی سیرت پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 453