Main Icon

باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1099

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْد اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:بَيْنَ كُلِّ اَذَانَيْنِ صَلاَةٌ ، بَيْنَ كُلِّ اَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ، بَيْنَ كُلِّ اَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ،قال في الثَّالِثةِ : لِمَنْ شَاءَ.

عن عبد الله بن مغفل رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:بين كل اذانين صلاة ، بين كل اذانين صلاة ، بين كل اذانين صلاة ،قال في الثالثة : لمن شاء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن مُغَفَّلرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حُضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہردواَذانوں کے درمیان نماز ہے،ہردواَذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے۔“پھر تیسری مرتبہ فرمایا:”اُس کے لئے جو پڑھنا چاہے۔“

شرح حدیث

دواذانوں سے مراد:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”دو اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”یا تو صلوٰۃبمعنیٰ دُعا ہے،یعنی اذان وتکبیر کے درمیان دعا مانگا کرو کہ یہ وقتِ قبولیت ہےیابمعنیٰ نماز،یعنی اذان و اِقامت کے درمیان نفل پڑھا کرو کہ یہ وقت افضل ہے تو اس میں نماز بھی افضل،نیز اس سے نماز میں سُستی نہ ہوگی،انسان جماعت سے اتنے پہلے مسجد میں پہنچے گا کہ وضو کرکے نفل پڑھ کرتکبیرِاُولیٰ پاسکے۔خیال رہے کہ اَحناف کے نزدیک اِس حکم سے مغرب علیحدہ ہے کہ اذانِ مغرب کے بعدنفل مکروہ ہیں(دو رکعت خفیف کا استثنا ہے)،فرض کے بعد پڑھ سکتے ہیں جیسا حضرت بریدہ اسلمی کی روایت میں ہے کہ ہردو اذانوں کے درمیان نمازہے۔”خَلَاصَلٰوۃَالْمَغْرِبسوائےنمازِمغرب کے۔“(اُس کے لیے جو پڑھنا چاہے) ”یعنی یہ نماز مؤذن کے ساتھ خاص نہیں جو مسلمان چاہے پڑھےیا یہ نماز فرض نہیں جس کا چھوڑنا سخت جرم ہے۔خیال رہے کہ فجراورظہر کی پہلی سنتیں مؤکدہ ہیں جس کے چھوڑنے کی عادت نہایت بُری ہے،عصراورعشاکی غیرمؤکدہ،مغرب کی منع۔“
شارِحِ بخاری علّامہ غلامِ رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتےہیں:”سیدعالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُمَّت کو اذان واقامت کے درمیان نفل نماز کی ترغیب دلائی ہے کیونکہ اس وقت کی شرافت کے باعث ان دونوں کے درمیان دعامُسْترد(رَد) نہیں ہوتی جب یہ وقت اشرف ہے تو اس میں عبادت کا ثواب بھی زیادہ ہے اور اذان واقامت کے درمیان وقفہ نہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ اذان کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو نماز کی تیاری کے لئے خبردار کیا جائے تاکہ وہ استنجا اور وضوکرکے نماز ادا کرنے کے لئے مسجد میں حاضر ہوں اور وقفہ نہ کرنے سے یہ مقصد فوت ہوجاتا ہے ۔“(مغرب کی نماز اس سے مستثنیٰ ہے۔)
¥مدنی گلدستہ
’’ابو بکر ‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) سنتِ مؤکدہ ایک بار بھی کوئی بلا عذر ترک کرے تو مستحقِ ملامت ہے اور ترک کی عادت کرے تو فاسق اور گناہ گار ہے۔
(2) اذان و اِقامت کے درمیان کا وقت بہت فضیلت کا حامل ہے اس وقت میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔
(3) اذانِ مغرب کے بعدفرضوں سے پہلے نفل مکروہ ہیں، دو رکعت خفیف کا استثنا ہے۔
(4) اذان واِقامت کے درمیان وقفہ نہ کرنا مکروہ ہے کیونکہ اذان کا مقصد لوگوں کو نماز کی تیاری کے لئے خبردار کیا جائے تاکہ وہ استنجا و وضو وغیرہ کرکے نماز کے لئے حاضر ہوں،مغرب کی نماز کا استثنیٰ ہے۔
(5) تراویح کے علاوہ باقی سنتوں کی جماعت مکروہ ہے۔
(6) دن رات میں بارہ رکعتیں سنتِ مُؤکدہ ہیں،دو فجر سے پہلے ،چار ظہر سے پہلے،دو ظہرکے بعد،دو مغرب کے بعد اور دو عشا کے بعد،جو ان بارہ رکعتوں کا پابندہوگا وہ جنتی محل کا حق دار ہے۔
اﷲعَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت قبلیہ و بعدیہ اورنوافل کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جنت الفردوس میں اپنے پیارے نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پڑوس میں جگہ عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1099