Main Icon

باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1098

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنهُمَا قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الجُمُعَةِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ المَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ العِشَاءِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد الجمعة وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ”میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے پہلے، دو ظہر کے بعد، دو جمعہ کے بعد، دو مغرب کے بعد اوردو رکعتیں عشا کے بعد پڑھیں۔“

شرح حدیث

روزانہ کی مؤکدہ سنتیں:صَدْرُالشَّرِیْعَہ بَدرُالطَّرِیْقَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیروزانہ کی مؤکدہ سنتوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:”سُنتِ مُؤَکَّدَہیہ ہیں:(1)دو رکعت نما زِفجر سے پہلے (2)چارظہر کے پہلے، دو بعد(3)دو مغرب کے بعد (4) دو عشا کے بعد اور(5)چار جمعہ سے پہلے، چار بعد یعنی جمعہ کے دن جمعہ پڑھنے والے پر چودہ رکعتیں ہیں اور علاوہ جمعہ کے باقی دنوں میں ہر روز بارہ رکعتیں۔“ساتھ پڑھنے سے مراد:”حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ دو رکعت ظہر سے پہلے اور دو رکعت ظہر کے بعد پڑھیں“اس کی وضاحت کرتے ہوئےمُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یہاں ساتھ پڑھنے سے مراد جماعت سے پڑھنا نہیں کیونکہ سوائے تراویح باقی سُنن کی جماعت مکروہ ہے بلکہ ہمراہی میں پڑھنا مراد ہے یعنی میں نے بھی پڑھیں اور حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے بھی جیسے رب بلقیس کا قول یوں نقل فرماتا ہے﴿وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰن ﴾(پ۱۹،النمل:۴۴)(ترجمہ ٔکنزالایمان: اب سلیمان کے ساتھاﷲکے حضور گردن رکھتی ہوں۔)اس حدیث کی بنا پر امام شافعی(رَحْمَۃُ اﷲ عَلَیْہ)نے ظہر سے پہلے دو سنتیں مؤکدہ مانیں، ہمارے ہاں مؤکدہ چار ہیں جیسا کہ بہت سی اَحادیث میں ہے۔ یہاں تحیۃ المسجد کے نفل مراد ہیں کیونکہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسنتِ ظہر گھر میں ادا کرکے تشریف لاتے تھے۔چنانچہ اَزواجِ مُطَہَّرَات کی روایت یوں ہے کہ حضورِانورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمظہر سے (پہلے کی)چار سنتیں کبھی نہ چھوڑتے تھے۔“سنت مؤکدہ کی وضاحت:سنتِ مُؤکَّدَہوہ ہے جس کو حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیشہ کیا ہوا البتہ بیانِ جواز کے لئے کبھی ترک بھی کیا ہو۔سُنتِ مُؤَکَّدہایک بار بھی بِلا عُذر ترک کرے تو مستحق ِملامت ہے اور ترک کی عادت کرے تو فاسق اور گناہ گار ہے اگرچہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے۔سنتِ مؤکدہ کوسُنَنُ الْہُدٰیبھی کہتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1098