حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ تو وہ اس پر ظلم کرے اور نہ ہی اُسے کسی ظالِم کے حوالے کرے۔ جو مسلمان اپنے کسی بھائی کی حاجت پوری کرتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے۔ جوکسی مسلمان بھائی کی ایک دُنیوی تکلیف کو دُور کرے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کی تکالیف میں سے

اُس کی ایک تکلیف کو دور فرمائے گا۔ جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ اَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَ .( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 244 ، حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان

حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جس نے کسی مسلمان کی دُنیوی تکلیف دُور کی تو قیامت کےدن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی اُخروی تکلیف کو دُور فرمائے گا۔ جو کسی تنگدست پر کشادگی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے دنیا اور آخرت میں کشادگی عطافرمائے گا۔ جو دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس وقت تک بندے کی مدد فرماتا رہتا ہے ، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتارہتا ہے۔ جو شخص علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کے لیے جنت کی طرف راستہ آسان فرمادیتاہے۔ جب کچھ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوکر تلاوتِ قرآنِ مجید اور درس و تدریس کرتے ہیں تو اُن پر سکینہ نازل ہوتاہے ، رحمتِ خداوندی انہیں ڈھانپ

لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اوراللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی خاص مجلس میں اُن کا ذکرِ خیر فرماتاہے اور جس کا عمل اُسے پیچھے رکھے تواُس کا نسب اُسے آگے نہیں بڑھا سکتا۔ ‘‘

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًاسَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ اَخِيهِ وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا لَى الْجَنَّةِ وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ملَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَحَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ وَمَنْ بَطَّا َبِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 245 ، حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان