Main Icon

باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 957

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ صَخْرِ بْنِ وَدَاعَةَ الْغَامِدِيِّ الصَّحَابِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللّٰهُمَّ بَارِكْ لِاُمَّتِيْ فِیْ بُكُوْرِهَا وَكَانَ اِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً اَوْ جَيْشًا بَعَثَهُمْ مِنْ اَوَّلِ النَّهَارِ. وَكَانَ صَخْرٌ تَاجِرًا، فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ اَوَّلَ النَّهَارِ، فَاَثْرٰى وَكَثُرَ مَالُهُ.

عن صخر بن وداعة الغامدي الصحابی رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اللهم بارك لامتي فی بكورها وكان اذا بعث سرية او جيشا بعثهم من اول النهار. وكان صخر تاجرا، فكان يبعث تجارته اول النهار، فاثرى وكثر ماله.

حدیث ترجمہ

صحابئ رسول حضرت سَیِّدُنا صَخْر بن وَدَاعہ غَامِدیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اےاللّٰہ! میری اُمَّت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔“اورآپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب بھی کوئی چھوٹا یا بڑا لشکر بھیجتے تو دِن کے شروع میں بھیجتے تھے اور حضرت سیدناصخررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتاجر تھے وہ اپنا مالِ تجارت دن کے ابتدائی حصے میں بھیجاکرتے تھے وہ دولت مند ہوگئے اور ان کا مال بہت بڑھ گیا۔

شرح حدیث

صبح سویرے کام کرنا سنت ہے:حدیثِ مذکور میں حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اےاللّٰہ(عَزَّ وَجَلَّ)! میری اُمَّت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔“یعنی میری اُمَّت کے تمام اُن دِینی و دنیاوی کاموں میں برکت دے جو وہ صبح سویرے کیا کرے جیسے سفرِطلبِ علم،تجارت وغیرہ۔ اور خود حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا بھی اسی پر عمل تھا، جیساکہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامجب بھی کوئی لشکر بھیجتے تو صبح کے شروع میں بھیجتے تھے، اسی لیے حضور کی دعا اور عمل سے یہ صبح کا ابتدائی وقت برکت والا ہے۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جو تلاوت کرنے یا علمِ شرعی حاصل کرنے اور تسبیح پڑھنے،یا صنعت کاری کے لیے کوئی وقت مقررکرناچاہے تو اس کے لیے اس حدیث پاک کی وجہ سے صبح کا ابتدائی وقت مقرر کرنا سنت ہے، اسی طرح سفر، نکاح اور کوئی بھی نیا کام صبح کے ابتدائی وقت میں کرنا سنت ہے۔“عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تمام اوقات میں سے صبح کے ابتدائی وقت کے لیے خاص طورپر برکت کی دعا اس لیے فرمائی کہ اس وقت لوگ اپنے کام شروع کرنے کا اِرادہ کرتے ہیں، یہ نشاط اور نیند سے بیدار ی کا وقت ہوتا ہے تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے خاص طورپر اس وقت کے لیے دعا فرمائی تاکہ آپ کی دعا کی برکت آپ کی تمام اُمَّت کو حاصل ہو جائے۔“سنت پر عمل کرنے کی برکت:حدیثِ مذکورمیں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنا صَخْر بن وَدَاعہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُصبح صبح اپنا تجارتی مال بھیجتے تھے اسی وجہ سے وہ امیر ہوگئے اور ان کے مال میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”دن کے ابتدائی حصے میں سفر کرنا سنت ہے اور حضرت سیدنا صخررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتاجر تھے اور وہ اس سنت پر عمل کرتے ہوئے اپنا مال تجارتی سفر پر دن کی ابتدا ہی میں روانہ فرمادیتے تھے تو اس سنت پر عمل کرنے کی برکت سے ان کے مال میں بہت اضافہ ہوگیا کیونکہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اس وقت کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے اور حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی دعا لامحالہ مقبول ہے۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”صحابہ کا تجربہ بھی اس کے متعلق ہوچکا ہے کہ وہ حضرات اس سنت پر عمل کی برکت سے بہت فائدے اٹھا چکے ہیں۔ فقیر نے بھی تجربہ کیا کہ صبح سویرے کاموں میں بہت برکت ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو طالبِ علم مغرب و عشا کے دوران اور فجر کے وقت محنت کرے پھر عالِم نہ بنے تو تعجب ہے اور جو طالبِ علم ان دو وقتوں میں محنت نہ کرے اور عالِم بن جاوے تو بھی حیرت ہے۔“مدنی گلدستہ’’غارِ ثور ‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجمعرات کوسفر کرنا پسند فرماتے تھے۔جمعرات کو بندوں کے اعمالاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں۔
(2) ہفتہ اور پیر شریف کا دن بھی سفر کے لیے بہت بابرکت ہے،جو ہفتہ کے دن سورج نکلنے سے پہلے سفر پرروانہ ہو
اِنْ شَآءَ اللّٰہوہ کامیاب و بامُراد واپس ہوگا۔
(3) اگر کسی مجبوری کی وجہ سے جمعرات، ہفتہ اور پیر کے علاوہ کسی اور دن سفر کی حاجت ہوتو بغیر کسی اندیشہ کے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے سفر کیجئے،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کرم سے آپ کا سفر بخیر و عافیت انجام پذیر ہوگا۔
(4) جو جائز کام صبح سویرے کیا جائے مصطفےٰ کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلّمکی دعا کی برکت سےاِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس میں برکت ہوگی۔
(5) اسلام میں چند دن بابرکت ضرور ہیں لیکن کوئی دن منحوس و بد نہیں۔
(6) طلبۂ کرام کو چاہیےکہ مغرب و عشاکے دوران اور فجر کے وقت خوب محنت سے اپنے اَسباق یاد کریں کہ یہ اوقات بہت بابرکت ہیں ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں صرف جائز مقاصد کے لئے جمعرات اورابتدائی دن میں سفر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 957