Main Icon

باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 170

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا خَطَبَ اِحْمَرَّتْ عَيْنَاهُ ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَاَ نَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُوْلُ: ’’ صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ ‘‘ وَيَقُوْلُ: ’’ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ‘‘ وَيَقْرِنُ بَيْنَ اُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَيَقُوْلُ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَخَيْرَ الْهَدْىِ هَدْىُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ‘‘ ثُمَّ يَقُوْلُ : ’’ اَنَا اَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ .مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِاَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا اَوْ ضَيَاعًا فَاِلَيَّ وَعَلَيَّ ‘‘ . ( )
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، حَدِیْثُہُ السَّابِقُ فیِ بَابِ الْمُحَافَظَۃِ عَلیَ السُّنَّۃِ.

عن جابر ، رضی اللہ عنہ، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا خطب احمرت عيناه ، وعلا صوته، واشتد غضبه، حتى كا نه منذر جيش يقول: ’’ صبحكم ومساكم ‘‘ ويقول: ’’ بعثت انا والساعة كهاتين ‘‘ ويقرن بين اصبعيه السبابة والوسطى، ويقول: اما بعد فان خير الحديث كتاب الله ، وخير الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم ، وشر الامور محدثاتها ، وكل بدعة ضلالة ‘‘ ثم يقول : ’’ انا اولى بكل مؤمن من نفسه .من ترك مالا فلاهله ، ومن ترك دينا او ضياعا فالي وعلي ‘‘ . ( )
وعن العرباض بن ساریۃ، رضی اللہ عنہ، حدیثہ السابق فی باب المحافظۃ علی السنۃ.

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَاجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارمدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجایا کرتیں ، آواز بلند ہوجاتی اور آپ کے جلال میں اِضافہ ہوجاتا، ایسا لگتا جیسے آپ کسی لشکر سے ڈراتے ہوئے فرمارہے ہوں کہ: ’’ وہ لشکر تمہارے پاس صبح کے وقت یا شام کے وقت آنے والاہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی درمیانی اور شہادت والی انگلی کو ملا کر فرماتےکہ: ’’ میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ پھرفرماتے: ’’اَمَّا بَعْدُ!بہترین کلامکتاب اللہہے اور بہترین ہدایت ہدایتِ محمدیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے اور ( دین میں ) نئےایجادہونےوالےکام سب سے بُرے ہیں اورہر بدعت گمراہی ہے۔ ‘‘ پھر ارشاد فرماتے: ’’ میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ، جس شخص نے مال چھوڑا تووہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہے اور جس نے قرضہ یا نادار اہل وعیال چھوڑے تووہ میری طرف ہیں اور میرے ذمہ ہیں ۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَاعِرباض بن ساریہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےسنت پر محافظت کے باب میں اس مضمون کی حدیث گزرچکی ہے۔

شرح حدیث

حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خطبے کی کیفیت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ جب حضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجمعہ کے ‏لیےخطبہ فرماتےاور اس بات کابھی احتمال ہے کہ جمعہ کےعلاوہ خطبہ فرماتےتوآپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں ۔ یعنی جب خدائے رحمٰنعَزَّ وَجَلَّکے کمال کی روشنی کی چمک اور واحد و یکتا کے جلال کے انوار کی چمک آپ کے دل پر نازل ہوتی اوراُمَّتِ مرحومہ کے اَحوال اور اُن میں اکثریت کے اَعمال میں کمی آپ پر پیش کی جاتی تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں۔اورآپعَلَیْہِ السَّلَامکی آوازغم کی وجہ سےبلند ہوجاتی یاسب لوگوں تک آواز پہنچانے کے‏لیےاپنی آوازبلندفرماتے۔ابن ملک کہتے ہیں : آواز اس ‏لیے بلند فرماتے تاکہ آپ کا وعظ سب لوگوں کے کانوں تک پہنچ جائے اور ان کے دلوں میں اس کی عظمت بیٹھ جائے اور وعظ کی
تاثیر ان کےدلوں میں اتر جائے۔ ‘‘
اوراُمَّت کےاَفعال میں سےقلتِ اَدب اور معصیتِ ربّ کی وجہ سے آپ کے چہرے مبارک پرجلال کے آثار ظاہر ہوتے۔گویا کہ آپ قوم کو ایک بہت بڑے لشکر سے ڈرارہے ہیں جوان پر حملہ کرنے کا قصد کر چکا ہے۔ابن ملک کہتے ہیں : ’’ صبح کے وقت یا شام کے وقت سے مراد یہ ہے کہ عنقریب دشمن صبح کے وقت یا شام کے وقت تمہارے پاس آنے والا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
بعثت نبی اکرم اورقیامت کا درمیانی فاصلہ:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّاب اِکْمَالُ الْمُعْلِمْمیں حدیث کے الفاظ ’’ میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ کےتحت فرماتےہیں : ’’ احتمال یہ ہے کہ دونوں کے قریب ہونے کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ان دونوں انگلیوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں ہے اور دونوں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اسی طرح محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ۔ آپ کی آنکھیں سرخ ہوجایا کرتیں ، آواز بلند ہوجاتی اور آپ کے جلال میں اِضافہ ہوجاتا۔یہ حکم وعظ و نصیحت کرنے والے کے ‏لیے ہے کہ واعظ و ذاکر جب وعظ کرے تو اس کی حالت و کیفیت اپنے بیان کے موضوع کےمطابق ہونی چاہیے، موضوع کے برخلاف کوئی چیز یا حرکت نہ ہو۔ (آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے) غیظ و غضب کا بڑھنا ، ہوسکتا ہے کہ جب کسی ایسے امر سے منع کیا جائے جس کی شریعت میں مخالفت کی گئی ہے تو اس وقت غضب بڑھ جاتا ہو۔ ‘‘ ( )
¥
ہدایت کیغیر اللہکی طرف اِضافت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہدایت دینے والی ذاتاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہے اور مذکورہ حدیث پاک میں ہدایت کی اضافترسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی طرف فرمائی ہے۔ دراصل ہدایت کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ ہدایت جس کی اضافتاللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ کسی اور کی طرف بھی کی جاسکتی ہے جبکہ دوسری وہ ہے جس کی اضافت صرفاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ساتھ خاص ہے،غیر اللہکی طرف نہیں کی جا سکتی۔ حدیث مبارکہ میں ہدایت کی پہلی قسم مراد ہے۔چنانچہعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ ہدایت کےدومعنی ہیں : (1) رہنمائی کرنا:اس کی اضافت رسولوں ، قرآنِ پاک اور بندوں کی طرف کی جاسکتی ہے جیساکہ ربّعَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: (وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ (۵۲)) (پ۲۵، الشوری:۵۲)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور بیشک تم ضرور سیدھی راہ بتاتے ہو۔ ‘‘ (اس آیت مبارکہ میں ہدایت کی اضافترسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف کی گئی ہے) ایک اور مقام پر فرمایا: (اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ) (پ۱۵، بنی اسرائیل:۹)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بیشک یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو سب سے سیدھی ہے۔ ‘‘ ایک اور مقام پر فرمایا: (فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ (۲)) (پ۱، البقرۃ:۲)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو۔ ‘‘ (ان دونوں آیات مبارکہ میں ہدایت کی اضافت قرآن کی طرف کی گئی ہے۔)اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان ہے:(وَ اَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَیْنٰهُمْ) (پ۲۴، حم السجدۃ:۱۷)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اور رہے ثمود انہیں ہم نے راہ دکھائی۔ ‘‘ یعنی ہم نے ان کے ‏لیے راہ بیان کردی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان ہے:(اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ) (پ۲۹، الدھر:۳)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بے شک ہم نے اسے راہ بتائی۔ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمان ہے:(وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ (۱۰))(پ۳۰، البلد:۱۰)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اوراسےدوابھری چیزوں کی راہ بتائی۔ ‘‘ (ان تینوں آیات مبارکہ میں ہدایت کی اضافتاللہ عَزَّوَجَلَّنے اپنی طرف فرمائی ہے۔) (2) ہدایت کا دوسرا معنی لطف، توفیق، پاک دامنی اور تائید ہے اور یہ معنیاللہ عَزَّوَجَلَّکےساتھ خاص ہے جیسا کہاللہ عَزَّوَجَلَّکافرمان ہے:اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُۚ-(پ۲۰، القصص:۵۶)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ بیشک یہ نہیں کہ تم جسے اپنی طرف سے چاہو ہدایت کردو ہاںاللہہدایت فرماتا ہے جسے چاہے۔ ‘‘ ( )
¥
کیا ہر بدعت گمراہی ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیمِرقَاۃ شرح مِشکاۃ میں ’’كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌیعنی ہر بدعت گمراہی ہے۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ ہربُری بدعت گمراہی ہے کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جس نے اسلام میں اچھا کام ایجاد کیا اس کے ‏لیے اس کا اَجر ہے اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی اجرہے۔حضرتِ سَیِّدُناابوبکرصدیق وسَیِّدُنَاعمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے قرآن کو جمع کیا، حضرت سَیِّدُنَا زیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس کو مُصْحف میں لکھااور حضرتِ سَیِّدُناعثمان غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دور میں اُس پر دوبارہ کام ہوا۔ ‘‘عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ بدعت ہر اس کا م کو کہتے ہیں جس کی مثال پہلےنہ ہو اور شرع میں ہر اس نئے کا م کو بدعت کہتے ہیں جورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دور میں نہ ہو۔لہٰذاكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌہر بدعت گمراہی ہے۔یہ فرمان عام مخصوص ہے۔ ‘‘ ( ) (یعنی اِس سے ہر بُری بدعت مراد ہے۔)
¥
بدعتی کی مذمت پرتین احادیث مبارکہ:(1) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے کہ ’’ بدعتی لوگ جہنم میں جہنمیوں کے کُتّے ہوں گے۔‘‘ ( )(2) سرکار مکہ مکرمہ، سردار مدینہ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّہر بدعتی کی توبہ کو روک لیتا ہے۔ ‘‘ ( ) (3) دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنہ تو کسی بدعتی کا روزہ، صدقہ، حج، عمرہ اور جہاد
قبول کرتاہے اور نہ اس کی کوئی فرض یانفل عبادت قبول فرماتاہے، بدعتی اِسلام سے اِس طرح نکل جاتاہے جیسے آٹے سے بال نکلتاہے۔ ‘‘ ( )
¥
بدعتی کی مذمت پر تین اقوالِ بزرگانِ دین:(1) حضرت سَیِّدُنَافضیل بن عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جو بدعتی کو دوست رکھے گااللہ عَزَّوَجَلَّاس کے اَعمال کو بربادکردیتا ہے اور اس کے دل سے اسلام کا نور نکل جاتاہے، جو شخص بدعتی کے ساتھ بیٹھتا ہو اس سے بھی بچنا لازم ہے ۔ ‘‘ انہی سے روایت ہے کہ ’’ اگر کسی راستے میں بدعتی آتاہو تو دوسرا راستہ اختیار کرو۔ ‘‘ (2) حضرت سَیِّدُنَافضیل بن عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جو شخص بدعتی سے ملنے گیا اس کے دل سے نور ایمان جاتارہا۔ ‘‘ (3) حضرت سَیِّدُنَاسفیان ثوریرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ جس نے بدعتی کی بات سنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کو اس بات سے فائدہ نہیں دیتا اور جو بدعتی سے مصافحہ کرتا ہے وہ اسلام کا زور توڑ دیتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
حضورعَلَیْہِ السَّلَاممؤمنین کی جانوں کے زیادہ حق دار ہیں :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس فرمان: ’’ میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یہ فرماناللہ عَزَّ وَجَلَّکے اس ارشاد کے موافق ہے:(اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ) (پ۲۱، الاحزاب:۶)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ ‘‘ یعنی ان سے زیادہ حق دار ہے۔ہمارے اصحاب فرماتے ہیں کہ جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کھانے یاکسی اور چیز کی حاجت درپیش ہو تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاصحاب پریہ واجب تھا کہ اس شے کو آپ کی بارگاہ میں حاضرکردیں اورحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ‏لیے یہ بھی جائز تھا کہ آپ مالک کی اجازت کے بغیر وہ چیز لے لیں مگرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ مبارکہ میں کبھی بھی ایسانہ ہوا۔ ‘‘ ( )حضورعَلَیْہِ السَّلَامحاضر وناظر ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:(اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ)(پ۲۱، الاحزاب:۶)ترجمۂ کنزالایمان: ’’ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے۔ ‘‘مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اَولیٰ کے معنی ہیں زیادہ مالک، زیادہ قریب، زیادہ حقدار، یہاں تینوں معنی درست ہیں ۔ معلوم ہوا کہ حضور ہر مؤمن کے دل میں حاضر وناظر ہیں کہ جان سے زیادہ قریب ہیں ۔ ربّ فرماتاہے: (لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ) الآیۃ (پ۱۱، التوبۃ:۱۲۸) یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کا حکم ہرمؤمن پربادشاہ، ماں باپ سے زیادہ نافذ ہے کہ حضور ہمارے سب سے زیادہ مالک ہیں ۔ یا یہ معنی ہیں کہ حضور تم کو تمہاری جانوں سے زیادہ راحت پہنچانے والے ہیں دنیا و آخرت میں ۔ ‘‘ ( )
¥
آقاعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکااپنی اُمَّت پراحسان:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں اس فرمان: ’’ جس نے قرضہ یا نادار اہل وعیال چھوڑے تووہ میری طرف ہیں اور میرے ذمہ ہیں ۔ ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں کہ: ’’ یہ الفاظ حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اس فرمان ’’ میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ۔ ‘‘ کی تفسیر ہیں ، ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ جس شخص کا قرض ادا کیے بغیر وصال ہوجاتارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے تاکہ لوگ قرض ادا کرنے میں سستی نہ کریں اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایسے لوگوں کی نماز جنازہ کو ترک کرنے کا مقصد دوسرے لوگوں کو اس سے روکنا تھا، پھر جباللہ عَزَّ وَجَلَّنے مسلمانوں پر فتوحات کا دروازہ کھول دیا تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا جو قرض چھوڑ کر وفات پاگیا تواس کا قرض مجھ پر ہے (یعنی میں اس کی طرف سےادا کروں گا) پھر حضورعَلَیْہِ السَّلَاماس کی طرف سے قرض ادا فرماتے تھے۔اس بارے میں ہمارے اصحاب کا اختلاف ہے کہ حضور پر یہ قرض ادا کرنا واجب تھا یا پھر آپعَلَیْہِ السَّلَاماپنے کرم سے اسے ادا فرماتےتھے؟ زیادہ درست بات یہ ہےکہ آپعَلَیْہِ السَّلَامپر واجب تھا، پھر ہمارے اصحاب کے مابین اس بارے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ حضور کے خصائص میں سے ہے یا نہیں ؟ بعض نے کہا کہ یہ حضور کے خصائص میں سے ہے اور یہ کسی خلیفہ پر لازم نہیں کہ وہ بیت المال سے اس شخص کا قرض ادا کرے جو قرضہ ادا کیے بغیر وفات پا گیا ہو۔ ‘‘ ( )
¥
لشکرسےکون سا لشکرمرادہے؟مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : ’’ خطبہ کی نصائح کا اثر خود حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اپنے قلب شریف پر ہوتا تھاجس کی علامتیں آپ کی آواز اور آنکھوں سے نمودار ہوتی تھیں ۔ تبلیغ وہی مؤثر (اثرانداز) ہوتی ہے جس کا اثر مُبَلِّغ (تبلیغ کرنے والے) کے دل میں ہو۔خیال رہے کہ یہاں غصہ سے مراد جلالِ الٰہی اور عظمت ربانی کی تجلیات کا آپ کے چہرے پر ظاہر ہونا ہے نہ کہ کسی پر ناراض ہونا۔ لشکروں سے مراد حضرت ملک الموت (عَلَیْہِ السَّلَام) کا لشکر ہے یعنی موت قریب ہے، تیاری کرو، صبح کے وقت شام کی امید نہ کرو اور شام کے وقت صبح کی۔ ‘‘ میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں کے تحت فرماتے ہیں : ’’ جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ نہیں ایسے ہی میرےاورقیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں میرادین تاقیامت ہے یاجیسے یہ دو انگلیاں بہت ہی قریب ہیں ایسے ہی قیامت اب بہت ہی قریب ہے دنیا کی عمر کا بہت حصہ گزر چکاہے تھوڑا باقی ہے یا جیسے یہ دو انگلیاں ایک دوسرے پر ظاہر ہیں ایسے ہی قیامت مجھ پر ظاہر ہے، میں اس کے حالات اور اس کے آنے کی تاریخ سے خبردار ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ گناہ سے بچو ‘‘ کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1)
اِشاعت دین و احیائے سنّت کے لیے کوشاں رہنا سعادت مندی ہے ۔نیکی کی دعوت پیش کرتے وقت مبلغ کو چاہیے کہ صدقِ دل سےبیان کی سعادت حاصل کرے تاکہ سامع کے دل پر اس کا اثر ہو اور وہ ان مدنی پھولوں کو عملی زندگی میں نافذ کرکے ثواب کا عظیم خزانہ حاصل کرسکے۔
(2) مبلغین کا ترغیبات (یعنی نیک اَعمال کے فضائل) کے ساتھ ساتھ ترہیبات (یعنی گناہوں کی وعیدات و عذابات) کو بیان کرنا بھی بہت مفید ہے کہ اس سے سننے والوں کا برائیوں سے بچنے کا مدنی ذہن بنے گا۔
(3) مبلغین ، واعظین و مقررین جس عنوان پر گفتگو فرمائیں اسی اعتبار سے ان پر حقیقی کیفیات کا ظہوربھی ایک سعادت ہے کہ اس سے ان کا کلام مزید مؤثر ثابت ہوگا۔اسی طرح جہاں حُزن وملال کا تقاضاہو وہاں غم کا اظہاراور جہاں اظہارِ مسرت ہو وہاں تبسم نفع بخش ثابت ہوگا۔
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ(4) قیامت بہت قریب ہے، یقیناً سمجھدار وہی ہے جو جلدازجلد اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنی موت سے پہلے آخرت کی تیاری میں مشغول ہوجائے، گناہوں سے کنارہ کشی کرکے نیکیوں پر کمربستہ ہوجائے۔
(5) حقیقی طور پر ہدایت دینے والی ذات
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ہے، البتہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضور سید المرسلین رحمۃ اللعالمینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان، اولیائے عظامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامبھی ہدایت دے سکتے ہیں ۔
(6) دین میں بدعات سیئہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جو شخص اچھا طریقہ ایجاد کرے گا تو اسے اس کا ثواب ملے گا بلکہ جو جو لوگ اس اچھے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے ان تمام کا بھی ثواب ملے گا اور ان کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی، اسی طرح جو بھی دین کے اندر برا طریقہ ایجاد کرے گا اسے اس کا گناہ ملے گا اور جو جو لوگ اس برے طریقے پر عمل کرتے رہیں گے ان تمام کا گناہ بھی اسے ملے گا اور ان کےگناہ میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی۔
(7) بدعتی کی احادیث میں بہت مذمت بیان کی گئی ہے، بدعتی جب تک بدعت میں مبتلا رہتا ہے اس کی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی، بدعتی کا روزہ، صدقہ، حج ، عمرہ، جہاد بلکہ کوئی بھی فرض یا نفل تک قبول نہیں ہوتا۔
(8) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتمام مؤمنین کے ان کی جانوں سے زیادہ مالک ہیں ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر مؤمن کے دل میں حاضر وناظر ہیں ۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حکم ہرمؤمن پر اس کے بادشاہ اور اس مؤمن کے ماں باپ سے زیادہ نافذ ہے کہ حضور ہمارے سب سے زیادہ مالک ہیں ۔
(9) حقوق العباد کی ادائیگی میں قرض کا معاملہ بہت حساس ہے، معاشرتی زندگی میں لین دین ، بیع و شراء و دیگر کئی ایسے معمولات زندگی پیش آتے ہیں کہ جن میں ایک دوسرے سے قرض وغیرہ لیا جاتا ہے، یقیناً سمجھدار وہی ہے جو اپنے دل میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف پیدا کرے اور حتی المقدور قرض کی ادائیگی پر استطاعت کی صورت میں اپنی موت سے قبل ہی جلدازجلد ادائیگی کی ترکیب بنائے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنےکی توفیق عطافرمائے، حضورنبیٔ اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی سنتوں پرعمل پیراہونے اور بدعاتِ سیئہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔
تری سنتوں پر چل کر مری روح جب نکل کر
چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے
شہا ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں
تری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 170