- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 2
:اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ رسول اکرم، نورِمُجَسَّم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاِرشاد فرمایا: ’’ جس نے ہمارے دین میں کوئی ایسی چیز ایجادکی جو ہمارے دین سے نہیں تو وہ مردود ہے۔ ‘‘ اورمسلم کی ایک روایت میں یوں ہے: ’’ جس نے ایسا عمل کیا جو ہمارے دین سے نہیں تو اس کا عمل مردود ہے۔ ‘‘
عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ اَحْدَثَ فِي اَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْہُ فَهُوَ رَدٌّ. ( ) وَفیِ رَوَایَۃٍ لِمُسْلِم ٍ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ اَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 169 ، باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
:حضرت سَیِّدُنَاجابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارمدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجایا کرتیں ، آواز بلند ہوجاتی اور آپ کے جلال میں اِضافہ ہوجاتا، ایسا لگتا جیسے آپ کسی لشکر سے ڈراتے ہوئے فرمارہے ہوں کہ: ’’ وہ لشکر تمہارے پاس صبح کے وقت یا شام کے وقت آنے والاہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی درمیانی اور شہادت والی انگلی کو ملا کر فرماتےکہ: ’’ میری بعثت اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ پھرفرماتے: ’’اَمَّا بَعْدُ!بہترین کلامکتاب اللہہے اور بہترین ہدایت ہدایتِ محمدیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے اور ( دین میں ) نئےایجادہونےوالےکام سب سے بُرے ہیں اورہر بدعت گمراہی ہے۔ ‘‘ پھر ارشاد فرماتے: ’’ میں ہر مؤمن سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں ، جس شخص نے مال چھوڑا تووہ اس کے اہل وعیال کے لیے ہے اور جس نے قرضہ یا نادار اہل وعیال چھوڑے تووہ میری طرف ہیں اور میرے ذمہ ہیں ۔ ‘‘
حضرت سَیِّدُنَاعِرباض بن ساریہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےسنت پر محافظت کے باب میں اس مضمون کی حدیث گزرچکی ہے۔
عَنْ جَابِرٍ ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا خَطَبَ اِحْمَرَّتْ عَيْنَاهُ ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، حَتَّى كَاَ نَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُوْلُ: ’’ صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ ‘‘ وَيَقُوْلُ: ’’ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ‘‘ وَيَقْرِنُ بَيْنَ اُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى، وَيَقُوْلُ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَخَيْرَ الْهَدْىِ هَدْىُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَشَرَّ الْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا ، وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ‘‘ ثُمَّ يَقُوْلُ : ’’ اَنَا اَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ .مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِاَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا اَوْ ضَيَاعًا فَاِلَيَّ وَعَلَيَّ ‘‘ . ( )
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ، رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، حَدِیْثُہُ السَّابِقُ فیِ بَابِ الْمُحَافَظَۃِ عَلیَ السُّنَّۃِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 170 ، باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان