Main Icon

باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 92

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ قَالَ:اَتیْنَا اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَشَکَوْنَا اِلَیْہِ مَا نَلْقَی مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَال:اِصْبِرُوا فَاِنَّہُ لَا یَا تِی عَلَیْکُمْ زَمَانٌ اِلَّا وَالَّذِیْ بَعْدَہُ شَرٌّ مِنْہُ حَتَّی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلمّ. ( )

عن الزبیر بن عدی قال:اتینا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فشکونا الیہ ما نلقی من الحجاج فقال:اصبروا فانہ لا یا تی علیکم زمان الا والذی بعدہ شر منہ حتی تلقوا ربکم سمعتہ من نبیکم صلی اللہ علیہ وسلم. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا زُبیر بن عَدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہ ہم نے حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہو کر جحاج بن یوسف کے مَظالِم کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا: ’’ صبر کرو، بے شک!تم پر آنے والا ہر دَور پہلے دَورسے زیادہ بُرا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کرو گے۔ یہ بات میں نے تمہارے نبی حضور نبی اکرم، رسولِ محتشم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

نیا دور پہلے والے سے برا:عمدۃُالقاری میں ہے:امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور اُن کے بعد والے جب کسی گناہ گار کو پکڑتے تو اسے لوگوں کے سامنے کھڑا کرتے اور اس کا عمامہ اُتار دیتے۔ زِیاد کے دور میں مجرم کو کوڑے مارے جانے لگے۔ پھرمُصْعَب بِنْ زُبَیْرکے دور میں مجرم کی داڑھی مونڈھ دی جاتی۔ بشر بن مروان کے دور میں مجرم کے ہاتھوں میں کِیل ٹھوک دئیے جاتے۔پھرحجاج بن یوسف کا دور آیا تو اس نے کہا: ’’ یہ سب سزائیں بے کار ہیں ۔ ‘‘ اورپھر وہ تلوار سے گردن اڑانے لگا۔ ( ) (معلوم ہوا کہ صاد ق اور مصدوق آقاصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانبالکل حق ہے کہ آنے والا دور پچھلےدور سے بد تر ہوگا۔)
¥
مختلف زمانوں کی فضیلت کی وضاحت:سوال:حجاج بن یوسف کے زمانے کے فوراً بعد حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکا دَورِخلافت تھا۔جس کی اچھائی کی شہرت چہاردانگ عالَم میں تھی۔اُس دور میں شر اور فتنے ختم ہوگئے تھے۔ پھر حجاج بن یوسف کا دور پہلے ہونے کی وجہ سے اس دورسے بہتر کیسے ہوا؟
پہلاجواب:دور کے اچھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ مجموعی اعتبار سے وہ اچھا ہوگا۔حجاج بن یوسف (ظالم وجابر تھا لیکن اس) کےزمانے میں کثیر صحابۂ کر ام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانموجود تھے۔ جب کہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیزعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمَجِیْد(کا دورِخلافت عدل وانصاف سے بھرا ہوا تھالیکن ان) کے دور میں سرکار دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاکوئی بھی صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُموجود نہ تھا ۔ اور جس زمانےمیںرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانموجود ہوں وہ اپنے بعد والے زمانے سے اعلیٰ و افضل ہی ہوگا جیسا کہ اس حدیث پاک سے ثابت ہوتا ہے: ’’ بے شک ! سب سےبہتر میرا زمانہ ہے ، پھر وہ لوگ جو اُن کے بعد آئیں گے، پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے۔ ‘‘ ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: ’’ میرے صحابہ میری اُمَّت کے ‏لیے امان ہیں ، جب یہ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے تو میری اُمَّت پر وہ وقت آئے گا جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ‘‘
دوسراجواب:حضرتِ سَیِّدُناحسن بصری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیزمانے کی افضلیت کو اکثریت پر محمول کرتے ہیں لہٰذاکبھی اس کا خلاف بھی ہو سکتا ہے۔ (یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہر آنے والا دورپہلے سے برا ہو۔)
سوال:حضرت سَیِّدُنَا عیسٰی
عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا زمانہ دَجّال لعین کے زمانہ کے بعد ہوگا۔ اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’ ہر آنے والا دورپہلے سے بدتر ہوگا۔“ا ب تطبیق کی کیا صورت ہوگی؟
جواب:علامہ کِرمانی
قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حدیثِ مذکور میں جس دور کو بُرا کہا گیا ہے اس سےحضرت سَیِّدُنَا عیسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکےبعد کا دور مراد ہے۔یا پھرخاص وہ دور مراد ہے جس میں اُمَراء ہوں گے ، ورنہ یہ بات تو ضروریاتِ دِین سے ہے کہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا زمانہ
سب زمانوں سے افضل واعلیٰ ہے۔ ( ) (جبکہ آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دنیا میں جلوہ گر ی سےقبل جو بد ترین دَور تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔)
¥
شر سے کیا مراد ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیمرقاۃ شرح مشکاۃ میں اسی کی مثل ایک اور حدیث پاک بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، حضرت سَیِّدُنَا ابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ ’’ ایک دور ایسا آئے گا جس میں لوگ بدعتیں رائج کریں گے اور سنتوں کو چھوڑ دیں گے یہاں تک کہ ہر طرف بدعتوں کا رواج ہو گااورسنتیں ختم ہوجائیں گی۔ ‘‘ پس یہ حدیث اس بات پر صراحتاً دلالت کرتی ہے کہ ”شر“ سے مرادسنتوں کا خاتمہ اور بدعتوں کا زندہ ہونا ہے۔ ( )بدتر ہونے کی ایک وجہ:آنے والا دور پہلےسے بدتر ہو گا۔اس بدتری کی ایک وجہ عہدِ نبوی سے دُوری ہے۔ کیونکہ زمانہ جتنا حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ اَقدس سے دُور ہوتا جارہا ہے ، اُسی قدر بُرائیاں بڑھتی جارہی ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا زمانہ جہان کے ‏لیےروشن مشعل کی طرح ہے۔ پس جیسے جیسے دنیا زمانۂ نبوی سے دُور ہوتی جارہی ہے اس میں اندھیروں اور حجابات کی زیادتی ہو رہی ہے۔ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانجن کے قلوب صحبت ِنبوی کی برکت سے انتہائی باکمال و صاف وشفاف تھے لیکن حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد انہوں نے اپنی حالت میں تبدیلی محسوس کی۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد¥زمانۂ نبوی سے دُوری کا اثر:ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ایک رات میں جامع مسجد شیراز میں مشغول عبادت تھا کہ اچانک بغیر کسی ظاہری وجہ کے باہر جانے کا خیال دل میں پیدا ہو۔ میں باہرآیا تو ایک عور ت دیوار سے چمٹی ہوئی تھی ۔ میں نے سوچا شایدیہ اپنے گھر جانا چاہتی ہے لیکن شریر لوگوں کی وجہ سے خوفزدہ ہے۔پھرمیرے پوچھنے پر اس نےیہی وجہ بتائی۔پس میں اس کے آگے آگے چل دیا اور میں نے اس سے وہی کہا جو حضرت سَیِّدُنَاموسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنےحضرت سَیِّدُنَا شعیبعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی صاحبزادی سے فرمایا تھا کہ اگر میں (تمہارے گھر کا) راستہ بھولنے لگوں توپتھرپھینک کر درست راستہ بتا دینا۔پس میں اسے بحفاظت اس کے گھر پہنچا کر واپس لوٹ آیا۔اس وقت میرے دل میں کوئی نفسانی خواہش پیدا نہ ہوئی ۔پھر کافی عرصے بعد اچانک میرے دل میں شیطانی وسوسہ آیا ۔ پس میں نے شرمندہ ہو کر اپنا محاسبہ کیا اور سوچنے لگا کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ میں نےاپنے کھانے پینے ، لباس ، عبادت، دوستوں کی صحبت ، کسی ظالم سےمیل جول اور اسی طرح کے دیگر معاملات میں خوب غور و فکر کیا لیکن کوئی وجہ سامنے نہ آئی، بس ایک ہی وجہ سمجھ آئی کہ یہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانہ سے دُوری کا اثر ہے۔اِسی دُوری کے سبب میرے دل میں یہ بُرا خیال پیدا ہوا ہے۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔ آمین
¥
مدنی گلدستہ
’’ ایمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
جو زمانہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّم شاہِ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے سے جتنا زیادہ قریب ہے وہ اتنا ہی زیادہ بابرکت ہے۔
(2) عموماً ہر نیا حاکم سابق حاکم سے زیادہ سختیاں اور سزائیں لے کر آتا ہے ۔
(3) سب سے ا فضل و پاکیزہ زمانہ حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا زمانہ ہے ۔ پھر صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا زمانہ پھر تابعین عظام کا۔
(4) جس زمانے میں بدعتیں عام ہوجائیں اور سنتیں ختم ہونے لگیں تو وہ زمانہ برا ہے ۔
(5)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنیک بندے غیر محرم عورتوں سے کلام تک نہیں کرتے۔بوقت ضرورت بھی مختصر بات کرتے ہیں بلکہ حتی الامکان کوئی ایسی راہ تلاش کرتے جس سے بات کرنے کی نوبت نہ آئے۔ جیسا کہ واقعہ مذکورہ میں ان بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اس عورت سے کہا تھا کہ اگر میں تمہارے گھر کا راستہ بھولوں تو زبان سے بات کرنے کے بجائے پتھر پھینک کر راستہ بتا دینا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ظالم وجابر حکمرانوں کے ظلم سے محفوظ فرمائے، سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اَحکامِ شَرْعِیَّہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 92