Main Icon

باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 90

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال:جَاءَرَجُلٌ إلی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ فَقَالَ :اَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْغِنَی، وَلَا تُمْھِلْ حَتَّی إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَاوَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ. ( )

عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال:جاءرجل إلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللہ! أی الصدقۃ أعظم أجرا ؟ فقال :ان تصدق وأنت صحیح شحیح تخشی الفقر، وتأمل الغنی، ولا تمھل حتی إذا بلغت الحلقوم، قلت لفلان کذا ولفلان کذاوقد کان لفلان. ( )

حدیث ترجمہ

: حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کس صدقے میں زیادہ ثواب ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تیراصدقہ کرنا اس حال میں کہ تو تندرست اور مال کاحریص ہو، تجھے تنگدستی کا خوف ہواور مالداری کی امید ہواور تو صدقہ کرنے میں اتنی دیر مت کر کہ سانس حلق تک پہنچ جائے ۔پھر تو کہے کہ فلاں کے ‏لیے اتنا اور فلاں کے ‏لیے اتنا، حالانکہ وہ فلاں کا ہو ہی چکا تھا۔ ‘‘

شرح حدیث

’’شُحٌّ‘‘ کے مختلف معانی:حدیثِ مذکور میںشَحِیْحٌکا لفظ آیا ہے یہشُحٌّسے مشتق ہے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے”شُحٌّ“کے مختلف معانی بیان کیے ہیں : (۱) بخل (کنجوسی) (۲) وہ بخل جس کے ساتھ حرص بھی ہو۔ (۳) ابو اسحق حربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’شُحّکی تین صورتیں ہیں :٭ایک یہ کہ تو اپنے بھائی کا مال نا حق لے لے۔ ٭دوسریوہ جو حضرتِ سَیِّدُناابو سعید خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ زکوۃ روکنا اور حرام مال جمع کرناشُحّکہلاتا ہے ۔٭اور تیسریصورت وہی ہے جو مذکورہ حدیث پاک میں بیان کی گئی یعنی تندرست اور مال کے حریص کاصدقہ کرنا اور جو چیز بخل کی ان تینوں صورتوں سے بچاتی ہے وہ اس حدیث پاک میں بیان کی گئی ہے کہ وہ شخص بخل سےبَری ہوگیا جس نے زکوۃ ادا کی، مہمان نوازی کی اورتنگی و پریشانی میں لوگوں کو مال عطا کیا۔‘‘ ( )حریص (لالچی) کا صدقہ:عمدۃ القاری میں ہے: ’’ حریص کے صدقے کی افضلیت بالکل ظاہر ہے کیونکہ حرص کے ہوتے ہوئے مال خرچ کرنا نفس کے ‏لیے انتہائی تکلیف دِہ اور دُشوار اَمر ہے ۔ اور یہ اعمالِ صالحہ کی طرف راغب ہونے والی قوت اور یقین کامل ہی کی بدولت ممکن ہے۔ اس ‏لیے تندرستی کی حالت میں حریص کا صدقہ دوسروں سے افضل ہے۔ ‘‘ ( )مرتے وقت صدقہ وخیرات:عَلّامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمزید فرماتے ہیں : ’’ یعنی صحت وتندرستی اور مال کی طرف محتاجی کی حالت میں تیراصدقہ کرنا افضل ہے نہ کہ اس وقت جب توزندگی سے مایوس اور مرض الموت کی حالت میں ہو کیونکہ یہ اس حالت میں گویا کہ مال تیری ملکیت سے نکل کر تیرے غیر یعنی وُرَثہ کی ملکیت میں جاچکا ہے۔ جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُناابو سعیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ’’ آد می کا اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت ایک سو100 درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ ‘‘
علامہ خطابی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِینے فرمایا: ’’ بیماری میں سخاوت کرنے سے انسان کی علامتِ بخل ختم نہیں ہوتی، اسی وجہ سےشرط لگائی گئی ہے کہ (جب صدقہ کرنے والا) تندرُست ہو، اسے مال کی حرص ہو، طویل زندگی کی اُمید اور تنگدستی کے خوف کی وجہ سے اس کے دل میں مال کی قدر و وُقعت باقی ہو۔ ‘‘ (تو اب اس کا صدقہ دوسروں سے افضل ہے۔)
حضرتِ سَیِّدُناابو دَرْداء
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورسید عالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ جوموت کے وقت غلام آزاد کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کا کسی شے سے دل بھر جائے پھر اسے ہبہ کردے۔‘‘
حضرت سَیِّدُنَا میمون بن مہران
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکو جب بتایا گیا کہ ہشام کی بیوی نے مر تے وقت اپنے تمام غلام آزاد کر دیئے ہیں توآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’ لوگ اپنے مال میں دو مرتبہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کرتے ہیں : (۱) جب ان کے پاس اپنا مال ہوتا ہے تو بخل کرتے ہیں ۔ (۲) جب وہ مال غیر وں کا ہونے لگتا ہے (یعنی موت کے وقت ) اسے خرچ کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ صدقات ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی ضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
حریص آدمی کے ‏لیے مال خرچ کرنا بہت تکلیف دہ ہے اسی ‏لیے اس کا صدقہ افضل قرار دیا گیا ۔
(2) اپنےمسلمان بھائی کا مال نا حق لے لینا، زکوۃ ادا نہ کرنا اور حرام مال جمع کرنا یہ سب بخل کی وجہ سے ہوتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بخل سے بچے ۔
(3) زکوۃ کی ادائیگی، مہمان نوازی اور تنگدستی میں لوگوں کو مال دینا، یہ ایسےفضیلت والے اعمال ہیں کہ ان کی وجہ سے بندہ بخل جیسی مذموم صفت سے بری ہو جاتا ہے ۔
(4) حالت صحت میں کیے گئے نیک اعمال اورصدقہ وخیرات موت کے وقت کیے گئے نیک اعمال اور صدقہ وخیرات سے بہت بہتر ہیں ۔
(5) نیک بندے ہر حال میں اپنے دلوں کو دنیا کی محبت سے خالی رکھتے ہیں ۔ ان کے دل یادِ الٰہی سے معمور رہتے ہیں ۔وہ ہر اس چیز سے تعلق ختم کر دیتے ہیں جو آخرت کی تیاری میں رُکاوٹ بنے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کے صدقے ہمارے دلوں کو دنیاکی محبت سے پاک کر کے اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبت سے سرشار فرمائے، ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 90