Main Icon

باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 89

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَوْمَ اُحُدٍ:اَرَاَ یْتَ اِنْ قُتِلْتُ فَاَیْنَ اَنَا ؟ قَالَ:فِیْ الْجَنَّۃِ، فَاَلْقٰی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِیْ یَدِہٖ، ثُمّ قَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ. ( )

عن جابر رضی اللہ عنہ قال:قال رجل للنبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم احد:ارا یت ان قتلت فاین انا ؟ قال:فی الجنۃ، فالقی تمرات کن فی یدہ، ثم قاتل حتی قتل. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحُد کے دن ایک شخص نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی: ’’ اگر میں شہید کردیا جاؤں تو آپ کی کیا رائے ہے، میں کہاں ہوں گا؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جنت میں ۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں وہیں چھوڑیں ۔ پھر جہاد کیا یہاں تک شہید کردیئے گئے۔

شرح حدیث

یہ جنتی شخص کون تھے؟عُمْدَۃُ الْقَارِیمیں ہے:اِبْنِ بَشْکُوَالکا گمان ہے کہ یہ شخص حضرت سَیِّدُنَا عُمَیْر بِنْ حُمامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔ صاحبِ تَلْوِ یحنے بھی ان کانام عُمَیْر بِنْ حُمامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبیان کیا ہے۔ ( )
¥
شہادت کا عظیم جذبہ:فَتْحُ الْبَارِیمیں ہے : حضرت سَیِّدُنَاعُمَیْر بن حُمامرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اپنے ہاتھ میں کھجوریں لی ہوئی تھیں ، پھر یہ کہہ کرکھجوریں وہیں چھوڑ دیں کہ : ’’ اگر میں انہیں کھانے تک زندہ رہوں تو یہ ایک طویل زندگی ہے ۔ ‘‘ پھر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجہاد میں شامل ہو گئے اورلڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش کر لیا ۔اس حدیث پاک سے پتہ چلا کہ صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنرضائے الٰہی پانے کے‏لیے اسلام کی مدد اورحصول ِشہادت میں بہت زیادہ رغبت رکھتے تھے۔ ( )مِرْقَاۃ شرحِ مِشْکاۃمیں ہے : ’’ اس صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’ اگر میں جہاد میں شہید کردیا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا؟ جنت میں یا جہنم میں ؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جنت میں ۔ ‘‘ پس اس صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مرتبہ شہادت اورجنت کے حصول کے ‏لیے کھجوریں وہیں چھوڑیں اور جہاد میں شریک ہوکر شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔ ‘‘ ( )
¥
جنت کی خوشبو:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاندین اسلام کی سر بلندی کی خاطر اپنی جانیں دیوانہ وار قربان کیا کرتے تھے۔انہیں اپنےپیارےآقا، مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےفرامین اوردینِ اسلام کی حقانیت پرایسا کامل یقین تھا کہ وہ حضراتِ قدسیہ دنیا میں رہ کر جنت کی خوشبو پا لیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میرے چچا حضرت سَیِّدُنَا انس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُغزوۂ بد ر میں نہ جاسکے۔انہوں نے بارگاہ ِرسالت میں عرض کی: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! غزوۂ بد ر جو مسلمانوں اور کفار کے درمیان پہلی جنگ تھی میں اس میں حاضر نہ ہوسکا ۔ اب اگراللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کاموقع دیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّدیکھ لے گا کہ میں کیسے لڑتا ہوں ۔ ‘‘
پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا اور لوگ پسپاہو کر بھاگنے لگے توحضرت سَیِّدُنَا انس بن نضر
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: ’’یااللہ عَزَّ وَجَلَّ! بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، ان کی طرف سےمیں معذرت خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں میں اُن سے بَری ہوں ۔ ‘‘ پھر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتلوار لے کر میدانِ کارْ زَار کی طر ف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سَیِّدُنَا سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ملاقات ہوئی تو فرمایا: ’’ اے سعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ! جنت کی طرف آؤ ، مجھے اپنے ربّ کی قسم!میں اُحد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں ۔ ‘‘ ( یہ کہہ کر آپ کفار پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کر لیا۔) اس موقع پرحضرت سَیِّدُنَاسعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جو کارنامہ حضرت سَیِّدُنَاانس بن نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنےسرانجام دیا، میں ایسا نہ کر سکا۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ ہم نے ان کی نعش مبارک کو اس حال میں پایا کہ ان کے جسم مبارک پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے 80سے زائد زخم تھے۔کفارِبداطوار نے ان کی آنکھیں پھوڑ کر اور ناک، کان، ہونٹ وغیرہ کاٹ کرچہرہ اس قدر مسخ کر دیا کہ کوئی ان کی لاش کو پہچان نہ سکا۔پھر ان کی بہن نے انگلیوں کے پَوروں کو دیکھ کر پہچان لیا۔ہم نےانہیں دیکھاتوگمان کیا کہ یہ آیت مبارکہ ان جیسوں کے حق میں نازل ہوئی ہے، جس میں ارشاد ہوتاہے:مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-(پ۲۲، الاحزاب:۲۳)ترجمۂ کنزالایمان: مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچاکردیاجوعہداللہسے کیاتھا۔ ( )
¥
رسول اللہکا علم غیب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور سے یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبمُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےاس صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ سوال کرنا کہ اگر مجھے شہید کردیا جائے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کیا رائے ہے، میں کہاں ہوں گا؟ یہ اس بات پردلالت ہے کہ صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکایہ عقیدہ تھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبعطائے الٰہی غیب کا علم جانتے ہیں ۔نیز اگر یہ عقیدہ قرآن وسنت کے خلاف تو یقینا آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس صحابی کو منع فرمادیتے کہ یہ سوال نہ کرو، لیکن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منع نہ فرمایا بلکہ انہیں جنت کی بشارت عطا فرمائی۔اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مُجَدِّدِدِین دین ومِلَّت، پراونۂ شمعِ رسالت مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناپنے نعتیہ کلام ’’ حدائق بخشش ‘‘ میں فرماتے ہیں :
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا
جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ شَہَادَت ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْندل وجان سے وہ عمل کرتے جس سے ربّ تعالی کی رضا ملتی اور جس پر جنت کا وعدہ ہوتا۔
(2) حضورنبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیارے صحابہ کو جو مسئلہ درپیش ہوتا وہ بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے اور اُن کا مسئلہ حل کر دیا جاتا۔
(3) صحابۂ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور سرورِ دوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے علم سیکھنے میں بہت حریص تھے ۔صُحْبَتِ نبوی کی برکت سے وہ ہمیشہ رضائے الٰہی والے اعمال کی جستجو میں رہتے تھے ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے پیارے نبی محمد مصطفےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو غیب کا علم عطا فرمایا ہےجبھی تو آپ لوگوں کے دلوں کے اخلاص، ان کی نیتیں اورجنت و دوزخ میں ان کے مقامات کے بارے میں نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اپنے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو ان کے متعلق خبر بھی دیتے ہیں ۔
(5)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے اعمال ِصالحہ کی طلب میں بہت جلدی کرتے ہیں ۔ بوقت ضرورت وہ بہت جذبے اور شوق سے اپنی جانیں دین اسلام کی سر بلندی کے ‏لیے قربان کر دیتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی نیکیاں کرنے کا جذبہ عطا فرمائے، گناہوں سے نفرت عطا فرمائے، صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرت طیبہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 89