Main Icon

باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 94

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی ہُرَیْرََۃ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ خَیْبَر َ:لَاُعْطِیَنَّ ہَذِہِ الرَّایَۃَ رَجُلًا یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی یَدَیْہِ، قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا ا َحْبَبْتُ الْاِمَارَۃَ اِلَّا یَوْمَئِذٍ، قَالَ فَتَسَاوَرْتُ لَہَا رَجَاءَ اَنْ اُدْعَی لَہَا، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَاَعْطَاہ اِیَّاہَا، وَقَالَ:امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْکَ، فَسَارَعَلِیٌّ شَیْئًا، ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ یَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! عَلَی مَاذَا اُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: قَاتِلْہُمْ حَتَّی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِذَافَعَلُوْاذَلِکَ فَقَدْمَنَعُوْامِنْکَ دِمَاء َہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلّابِحَقِّہَاوَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال یوم خیبر :لاعطین ہذہ الرایۃ رجلا یحب اللہ ورسولہ یفتح اللہ علی یدیہ، قال عمر رضی اللہ عنہ: ما ا حببت الامارۃ الا یومئذ، قال فتساورت لہا رجاء ان ادعی لہا، قال فدعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، فاعطاہ ایاہا، وقال:امش ولا تلتفت حتی یفتح اللہ علیک، فسارعلی شیئا، ثم وقف ولم یلتفت، فصرخ: یارسول اللہ! علی ماذا اقاتل الناس؟ قال: قاتلہم حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ، فاذافعلواذلک فقدمنعوامنک دماء ہم واموالہم الابحقہاوحسابہم علی اللہ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خیبر کے دن ارشاد فرمایا: ’’ میں یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جواللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی اِمارت (سرداری ) کی خواہش نہ کی۔تو میں نے یہ امید کرتے ہوئے گردن کو بلند کیا کہ مجھے اس کے ‏لیے بلایا جائے۔ ‘‘ پھررسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت علی بن ابوطالبکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو بلا کر انہیں وہ جھنڈا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ ادھرا دھر دیکھے بغیر چل پڑو، یہاں تک کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں فتح عطا فرما دے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعلیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمچند قدم چل کر رک گئے اور ادھر ادھر دیکھے بغیر بلند آواز میں
عرض کی: ’’
یارسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں لوگوں سے کس بنیاد پر جہاد کروں ؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ تم لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرو کہ وہلَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ،کی شہاد ت دیں ۔ جب وہ اس کی شہادت دے دیں تو انہوں نے تم سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیا ، مگریہ کہ ان پر کسی کا حق ہو اور ان کا حساباللہ تعالٰیکے ذمہ ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

چونکہ یہ حدیث پاک ”غزوہ خیبر“سے متعلق ہے۔اس ‏لیے اس غزوہ کے بارے میں شیخ الحدیث علامہ عبد المصطفے اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکی تالیف”سیرتِ مصطفیٰ“سے چند واقعات پیش خدمت ہیں ۔غزوہ ٔخیبر:”خیبر“مدینہ منورہ سے آٹھ منزل کی دوری پر ایک شہر ہے۔یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا اور یہاں عمدہ کھجوریں بکثرت پیدا ہوتی تھیں ۔ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی خیبر تھا۔یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے اور ان کو اپنی مالی اور جنگی طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا، یہ لوگ اسلام اور بانی اسلامصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بدترین دشمن تھے، یہاں یہودیوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے، جن میں بعض کے آثار اب تک موجود ہیں ۔ ان میں سے آٹھ قعلے بہت مشہور ہیں ۔ درحقیقت یہ آٹھوں قلعے آٹھ محلوں کے مثل تھے اور انہی آٹھوں قعلوں کا مجموعہ”خیبر“ کہلاتا تھا ۔جنگ ِخیبر کا سبب:جنگ ِخندق کے بعد جب ”بنونضیر“ کے یہودی مدینہ منورہ سے جِلاوطن کیے گئے تو وہ خیبر چلے گئے۔ ان کے سینوں میں انتقام آگ کی بھڑک رہی تھی۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ پر دو بارہ حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔اس مقصد کے ‏لیے انہوں نے عرب کے ایک بہت ہی طاقتور اور جنگجو قبیلے غطفان کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ۔خیبر کے یہودی خود بھی عرب کے سب سے بڑے سرمایہ دار ، جنگجو اور تلوار کے دھنی تھے۔ ان دونوں کے گٹھ جوڑ سے ایک بڑی طاقتور فوج تیار ہوگئی۔ وہ لوگ مسلمانوں کو تہس نہس کرنا چاہتے تھے۔ جب رسول خداصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خبر ملی توآپ 1600صحابۂ کرام کا لشکر لے کرجانب ِخیبر روانہ ہوئے ۔ اور نماز فجر کے بعد شہر میں داخل ہوگئے۔خیبر کے یہودی کھیتوں میں کام کاج کے ‏لیے قلعہ سے باہر نکلے توحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھ کر چلِّانے لگے: ’’ خدا کی قسم! اس لشکر کے ساتھ محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہیں ۔ ‘‘ ان کی چیخ وپکار سن کرحضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ خیبر برباد ہوگیا۔بلاشبہ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتےہیں تو کفار کی صبح بُری ہوجاتی ہے۔ ‘‘
یہودیوں نے اپنی عورتیں ، بچےاورراشن وغیرہ”ناعِم“قلعےمیں پہنچادیااور ان کی فوج ”نَطارَہ“اور ”قموص“ کے قلعوں میں جمع ہو گئی ۔ وہاں تمام قلعوں میں سب سے زیادہ مضبوط اور محفوظ قلعہ”قموص“ تھا۔ جس کا رئیس ”
مُرَحَّب“یہودی تھا جوعرب کے ایک ہزارسواروں کے برابر مانا جاتا تھا۔ یہودیوں کے پاس تقریباً بیس ہزار فوج تھی، جو مختلف قلعوں کی حفاظت کے ‏لیے مورچہ بندی کیے ہوئے تھی۔قلعہ خیبر پر پے درپے مختلف حملے:اس قلعے پر کئی حملوں کےباوجود یہ فتح نہ ہوسکا ۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس قلعہ پر پہلے دن حضرت ابوبکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی کمان میں اسلامی فوجوں کو چڑھائی کے ‏لیے بھیجا اور انہوں نے بہت ہی شجاعت و جانبازی سے حملہ کیا مگر یہودیوں نے قلعہ کی فصیل پر سے اس زور کی تیراندازی اور سنگ باری کی کہ مسلمان قلعہ کے پھاٹک تک نہ پہنچ سکے اور رات ہوگئی۔ دوسرے دن حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے زبردست حملہ کیااور مسلمان بڑی گرم جوشی کے ساتھ بڑھ بڑھ کر دن بھر قلعہ پر حملہ کرتے رہے مگر قلعہ فتح نہ ہوسکا۔ چنانچہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”کل میں اسےجھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پراللہ تعالٰیفتح دے گا، وہاللہورسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی۔“ راوی نے کہا کہ لوگوں نے یہ رات بڑے اِضطراب میں گزاری کہ دیکھیے کل جھنڈا کس کودیا جاتا ہے؟ صبح صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبارگاہِ اَقدس میں بڑے اشتیاق کے ساتھ یہ تمنا ‏لیے حاضر ہوئے کہ یہ اعزازوشرف ہمیں مل جائے۔ اس ‏لیے کہ جس کو جھنڈا ملے گا اس کے ‏لیے تین بشارتیں ہیں ۔ (۱) وہاللہو رسول کا محب ہے۔ (۲) وہاللہورسول کا محبوب ہے۔ (۳) خیبر اس کے ہاتھ سے فتح ہوگا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمولاعلی پر خصوصی فضل وکرم:حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ اس روز مجھے بڑی تمنا تھی کہ کاش! آج مجھے جھنڈا عنایت ہوتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس موقع کے سوا مجھے کبھی بھی فوج کی سرداری اور افسری کی تمنا نہ تھی۔لیکن صبح کو اچانک یہ صدا لوگوں کے کان میں آئی: ’’ علی کہاں ہیں ؟ ‘‘ عرض کی گئی : ’’ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بلایا اور ان کی دکھتی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا کر دعا فرمائی تو فوراً ہی انہیں ایسی شفا حاصل ہوئی کہ گویا کوئی تکلیف تھی ہی نہیں ۔ پھر تاجدارِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دست مبارک سے اُمُ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکی سیاہ چادر سے جھنڈا تیار کر کے حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِ یْمکودیا اور فرمایا : ’’ تم اطمنیان سے جاؤ اوریہودیوں کو اسلام کی دعوت دواور بتاؤ کہ مسلمان ہوجانے کے بعد تم پراللہ عَزَّ وَجَلَّکے یہ یہ حقوق واجب ہوں گے۔ خدا کی قسم!اگر ایک آدمی نے بھی تمہاری بدولت اسلام قبول کرلیا تو یہ دولت تمہارے ‏ لیے سُرخ اُونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے قلعے کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب اینٹوں ، پتھروں اور تیرو تلوار سے دیا اور قلعہ کا رئیس اعظم”مُرَحَّب“سرپرزَردیمنی چادرکاڈھاٹاباندھے اس پرپتھرکاخودپہنے، رجزکایہ شعر پڑھتے ہوئے حملے کے ‏لیے آگے بڑھا:قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ اَنِّیْ مُرَحَّب………شَاکِیْ السَّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّب(یعنی خیبر خوب جانتا ہے کہ میں ”مُرحَّب“ہوں ، اسلحہ پوش، بہت ہی بہادر اور تجربہ کار ہوں ۔) حضرتِ سَیِّدُناعلیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے جواب میں رِجْز کا یہ شعر پڑھا:اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ اُمِّیْ حَیْدَرَہ………کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہ(یعنی میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا ہے۔ میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں ۔) مُرَحَّب نے بڑے طَمْطَراق کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت شیرخدا پر اپنی تلوار سے وار کیا مگر
آپ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایسا پینترا بدلا کہ مُرَحَّب کا وار خالی گیا۔ پھر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بڑھ کر اس کے سر پر اس زور کی تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے خود کٹ گیا اور ذوالفقار حیدری سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اورایک روایت میں ہے کہ اس کی رانوں تک پہنچ گئی اور اس کے دو ٹکڑے ہوگئے۔
مُرَحَّب کی لاش کو زمین پر تڑپتادیکھ کر اس کی تمام فوج حضرت شیرخدا
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر ٹوٹ پڑی۔ لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمک چمک کر گرتی تھی جس سے صفوں کی صفیں اُلٹ گئیں اور یہودیوں کے مایہ ناز بہادر مُرَحَّب، حارِث، اَسِیْر، عَامِر وغیرہ کٹ گئے۔ اسی گھمسان کی جنگ میں حضرت علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ڈھال کٹ کر گر پڑی تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے آگے بڑھ کر قلعہ قموص کا پھاٹک اکھاڑ دیا اور درازے کو ڈھال بناکر اس پر دشمنوں کی تلواریں روکتے رہے۔ یہ اتنا بڑا اور وزنی تھا کہ جنگ کے بعدچالیس آدمی مل کر بھی اسے نہ اٹھاسکے۔جنگ جاری تھی کہ حضرت علی شیرخدارَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کمال شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے خیبر کو فتح کرلیا اور حضرت صادق الوعدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان، صداقت کا نشان بن کر فضاؤں میں لہرانے لگا کہ:”کل میں جھنڈا اسے دوں گا جس کے ہاتھ پراللہ عَزَّ وَجَلَّفتح دے گا وہاللہ عَزَّ وَجَلَّاو رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا محب و محبو ب ہے ۔“
بے شک! حضرت مولائے کائنات مولا مشکل کشا حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضی
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماللہو رسول کے محب و محبوب ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ سے خیبر کی فتح عطا فرمائی اور قیامت تک کے ‏لیےاللہ تعالٰینے آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو فاتح خیبر کے معزز لقب سے سرفراز فرما دیا اور یہ وہ فتح عظیم ہے جس نے پورے ”جزیرہ ٔعرب“میں یہودیوں کی جنگی طاقت کا جنازہ نکال دیا۔ فتح خیبر سے قبل اسلام یہودیوں اور مشرکین کے گٹھ جوڑ سے نزع کی حالت میں تھا لیکن خیبر فتح ہوجانے کے بعد اسلام اس خوفناک نزع سے نکل گیا اور آگے اسلامی فتوحات کے دروازے کھل گئے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی مکہ بھی فتح ہوگیا۔ اس ‏لیے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فاتح خیبر کی ذات سے تمام اسلامی فتوحات کا سلسلہ وابستہ ہے۔ بہرحال خیبر کا قلعہ20 دن کے محاصرہ اور زبردست معرکہ آرائی کے بعد فتح ہوا۔ ان معرکوں میں 93یہودی قتل ہوئے اور 15مسلمان جام شہادت سے سیراب ہوئے۔ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور بزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْناپنے پیارے نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین سن کر فوراً اس پر عمل پیرا ہونے اور نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے ۔ اس ضمن میں 2 واقعات ملاحظہ فرمائیے:
¥
حکم نبوی کی تعمیل میں جلدی:حضرت سَیِّدُنَا رافعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ سفر پر تھے۔ ہمارے اونٹوں پر سرخ ڈورے والی چادریں تھیں ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ میں دیکھتا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہوتی جارہی ہے۔ ‘‘ یہ فرمان سنتے ہی ہم گھبرا کر ایسے اُٹھے کہ ہمارے بھاگنے سے اونٹ بھی ادھر اُدھر بھاگنے لگے اور ہم نے فوراً سب چادریں اونٹوں سے اُتار لیں ۔ ‘‘ ( )نیک اَعمال میں جلدی کرو:حضرتِ سَیِّدُنامنذررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنَا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو دیکھا وہ اپنے آپ سے کہہ رہے تھے: ’’ کم بخت عمل پر جلدی کر، اس سے پہلے کہ حکم آجائے۔ ‘‘ یہ بات آپ نے60مرتبہ دہرائی میں سن رہا تھا لیکن وہ مجھے نہیں دیکھتے تھے۔
حضرتِ سَیِّدُناحسن بصری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرمایا کرتے تھے: ’’ جلدی کرو، جلدی کرو، کیونکہ یہ چند سانسیں ہیں اگر رک گئیں تو تم قرب خداوندی والے اعمال نہ کر سکو گے۔اللہ تعالٰیاس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کی فکر کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر روتا ہے۔ ‘‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ (۸۴)(پ۱۶، مریم:۸۴)ترجمۂ کنزالایمان: ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔
اس سے مراد سانس ہے اور آخری عدد جان کا نکلنا ہے پھر گھر والوں سے جدائی ہے اور قبر میں داخل ہونے کی آخری گھڑی ہے ۔ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
امام ’’ حسین ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
یہودی دین اسلام کے سب سے بڑے مخالف ودشمن ہیں ۔
(2) جنگ میں شجاعت و بہادری دکھانے کے ‏لیے اپنے ‏لیے تعریفی کلمات کہنا جائز ہے۔
(3) ہمارے پیارے آقا
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عَزَّ وَجَلَّنے غیب کا علم عطا فرمایا ہے جبھی تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے بتا دیا کہ خیبر حضرتِ علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے ہاتھوں فتح ہوگا ۔
اور کوئی غیب کیا تم سے نہاں ہو بھلا………جب نہ خدا ہی چھپا تم پہ کروڑوں درود
(4) ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکےحکم سے لوگوں کو شفا دیتے ہیں اور شفا بھی ایسی کہ وہ بیماری پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتی ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حضور سید عالَم نورِمُجَسَّم شاہ بنی آدَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اُسْوَۂ حَسَنَہ اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےصحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سیرت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 94