- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 2
:حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ (نیک) اَعمال میں جلدی کرو، اُن فتنوں سے پہلے جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے۔آدمی صبح مؤمن ہوگا، شام کو کافر ہوجائے گااور شام کو مؤمن ہوگا تو صبح کافر ہوجائے گا ، وہ اپنے دین کو مال ِ دنیا کے بدلے بیچے گا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِالْاَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّیْلِ الْمُظْلِمِ :یُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا ویُمْسِیْ کَافِرًا وَیُمْسِیْ مُؤْمِنًا وَیُصْبِحُ کَافِرًا یَبِیْعُ دِیْنَہُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْیَا. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 87 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنااَبُو سَرُوْعَہعُقْبہ بن حارثرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نے مدینہ منورہ میں حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھےنمازِ عصرادا کی۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسلام پھیرنے کے بعدتیزی سے کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات میں سے کسی ایک کے حجرے میں تشریف لے گئے ۔لوگ آپ کی اس تیزی سے گھبرا گئے۔واپسی پرلوگوں کو اس جلدی فرمانے پرمتعجب دیکھا تو ارشادفرمایا: ’’ مجھےاپنے پاس سونے کا ایک ٹکڑا یاد آگیا تو مجھے ناپسند ہوا کہ وہ مجھے مشغول کرے، پس میں نے اسے صدقہ کرنے کا حکم دے دیا۔ ‘‘ بخاری شریف کی دوسری روایت میں یوں ہے کہ فرمایا: ’’ میں گھر میں صدقے کے سونے کا ایک ٹکڑا چھوڑ آیا تھا مجھے اس کا رات بھر رکھنا پسند نہ آیا۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ سَرُوْعَۃَ عُقْبَۃَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:صَلَّیْتُ وَرَاءَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بِالْمَدِیْنَۃِ اَلْعَصْرَ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ إِلٰی بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِہٖ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِہٖ فَخَرَجَ عَلَیْہِمْ فَرَاٰی اَنَّہُمْ قَدْ عَجِبُوْا مِنْ سُرْعَتِہٖ.قَالَ:ذَکَرْتُ شَیْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا فَکَرِہْتُ اَنْ یَّحْبِسَنِیْ فَاَمَرْتُ بِقِسْمَتِہٖ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:کُنْتُ خَلَّفْتُ فِیْ الْبَیْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَۃِ فَکَرِہْتُ اَنْ اُبَیِّتَہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 88 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
:حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ غزوۂ اُحُد کے دن ایک شخص نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی: ’’ اگر میں شہید کردیا جاؤں تو آپ کی کیا رائے ہے، میں کہاں ہوں گا؟ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جنت میں ۔ ‘‘ چنانچہ انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں وہیں چھوڑیں ۔ پھر جہاد کیا یہاں تک شہید کردیئے گئے۔
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِیِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یَوْمَ اُحُدٍ:اَرَاَ یْتَ اِنْ قُتِلْتُ فَاَیْنَ اَنَا ؟ قَالَ:فِیْ الْجَنَّۃِ، فَاَلْقٰی تَمَرَاتٍ کُنَّ فِیْ یَدِہٖ، ثُمّ قَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 89 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
: حضرت سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی: ’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کس صدقے میں زیادہ ثواب ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ تیراصدقہ کرنا اس حال میں کہ تو تندرست اور مال کاحریص ہو، تجھے تنگدستی کا خوف ہواور مالداری کی امید ہواور تو صدقہ کرنے میں اتنی دیر مت کر کہ سانس حلق تک پہنچ جائے ۔پھر تو کہے کہ فلاں کے لیے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا، حالانکہ وہ فلاں کا ہو ہی چکا تھا۔ ‘‘
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَال:جَاءَرَجُلٌ إلی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ فَقَالَ :اَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الْغِنَی، وَلَا تُمْھِلْ حَتَّی إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ، قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَاوَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 90 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے غزوہ اُحُد کے دن ایک تلوار اٹھا ئی اور فرمایا: ’’ یہ تلوارمجھ سے کون لے گا؟ ‘‘ تو وہاں موجود ہر شخص نے ہاتھ بڑھا تے ہوئے کہا: ’’ میں ، میں ۔ ‘‘ پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ اسے اس کے حق کے ساتھ کون لے گا؟ ‘‘ پس لوگ سوچ میں پڑ گئے ۔پھر حضرت سَیِّدُنَاابودُجانہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی: ’’ میں اسےا س کے حق کے ساتھ لیتا ہوں ۔ ‘‘ پھر انہوں نے وہ لی اور اس سے مشرکین کی کھوپڑیاں توڑ ڈالیں ۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ سَیْفًا یَوْمَ اُحُدٍ فَقَالَ:مَنْ یَاخُذُ مِنِّی ہَذَا؟ فَبَسَطُوْا اَ یْدِیَہُمْ کُلُّ اِنْسَانٍ مِنْہُمْ یَقُوْلُ:اَنَا، أَنَا. قَالَ:فَمَنْ یَاخُذُہُ بِحَقِّہَ؟ فَاَحْجَمَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ أَبُوْدُجَانَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ :اَنَا اٰخُذُہُ بِحَقِّہِ، فَاَخَذَہُ فَفَلَقَ بِہِ ہَامَ الْمُشْرِکِیْنَ. ( )
اِسْمُ اَبِی دُجَانَۃَ: سِمَاکُ بْنُ خَرَشَۃَ. قَوْلُہُ :اَحْجَمَ الْقَوْمُ، اَیْ تَوَ قَّفُوْا. وَفَلَقَ بِہٖ، اَیْ شَقَّ. ھَامَ الْمُشْرِکِیْنَ، اَیْ رُؤُوْسَہُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 91 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
:حضرتِ سَیِّدُنا زُبیر بن عَدِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہے کہ ہم نے حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہو کر جحاج بن یوسف کے مَظالِم کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا: ’’ صبر کرو، بے شک!تم پر آنے والا ہر دَور پہلے دَورسے زیادہ بُرا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کرو گے۔ یہ بات میں نے تمہارے نبی حضور نبی اکرم، رسولِ محتشم، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے۔ ‘‘
عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ قَالَ:اَتیْنَا اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ فَشَکَوْنَا اِلَیْہِ مَا نَلْقَی مِنَ الْحَجَّاجِ فَقَال:اِصْبِرُوا فَاِنَّہُ لَا یَا تِی عَلَیْکُمْ زَمَانٌ اِلَّا وَالَّذِیْ بَعْدَہُ شَرٌّ مِنْہُ حَتَّی تَلْقَوْا رَبَّکُمْ سَمِعْتُہُ مِنْ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلمّ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 92 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
حضرت سيدناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو!تمہیں انتظار نہیں مگر بھُلا دینے والی محتاجی یاسر کش بنا دینے والی مالداری یامُفسدمَرض یاعقل زائل کردینے والے بڑھاپے یا
اچانک آنے والی موت یادجّال کا جو غائب شر ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے یا قیامت کا۔اور قیامت شدید مصائب والی اور بہت کڑوی ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَ ۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِا لْاَعْمَالِ سَبْعًا، ہَلْ تَنْتَظِرُونَ اِلَّا فَقْرًامُنْسِیًا اَوْ غِنًی مُطْغِیًا اَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا اَ وْ ہَرَمًا مُفْنِدًا اَوْمَوْتًا مُجْہِزًا اَوِ الدَّجَّالَ، فَشَرُّ غَائِبٍ یُنْتَظَرُ ، اَوِ السَّاعَۃَ ، فَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 93 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خیبر کے دن ارشاد فرمایا: ’’ میں یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جواللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کرتا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ میں نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی اِمارت (سرداری ) کی خواہش نہ کی۔تو میں نے یہ امید کرتے ہوئے گردن کو بلند کیا کہ مجھے اس کے لیے بلایا جائے۔ ‘‘ پھررسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت علی بن ابوطالبکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو بلا کر انہیں وہ جھنڈا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ ادھرا دھر دیکھے بغیر چل پڑو، یہاں تک کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں فتح عطا فرما دے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعلیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمچند قدم چل کر رک گئے اور ادھر ادھر دیکھے بغیر بلند آواز میں
عرض کی: ’’یارسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں لوگوں سے کس بنیاد پر جہاد کروں ؟ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ تم لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرو کہ وہلَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ،کی شہاد ت دیں ۔ جب وہ اس کی شہادت دے دیں تو انہوں نے تم سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیا ، مگریہ کہ ان پر کسی کا حق ہو اور ان کا حساباللہ تعالٰیکے ذمہ ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِی ہُرَیْرََۃ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ خَیْبَر َ:لَاُعْطِیَنَّ ہَذِہِ الرَّایَۃَ رَجُلًا یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَی یَدَیْہِ، قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا ا َحْبَبْتُ الْاِمَارَۃَ اِلَّا یَوْمَئِذٍ، قَالَ فَتَسَاوَرْتُ لَہَا رَجَاءَ اَنْ اُدْعَی لَہَا، قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ اَبِی طَالِب رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَاَعْطَاہ اِیَّاہَا، وَقَالَ:امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّی یَفْتَحَ اللَّہُ عَلَیْکَ، فَسَارَعَلِیٌّ شَیْئًا، ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ یَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ! عَلَی مَاذَا اُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: قَاتِلْہُمْ حَتَّی یَشْہَدُوْا اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ، فَاِذَافَعَلُوْاذَلِکَ فَقَدْمَنَعُوْامِنْکَ دِمَاء َہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ اِلّابِحَقِّہَاوَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 94 ، باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان