- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- حدیث نمبر 93
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَ ۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: بَادِرُوْا بِا لْاَعْمَالِ سَبْعًا، ہَلْ تَنْتَظِرُونَ اِلَّا فَقْرًامُنْسِیًا اَوْ غِنًی مُطْغِیًا اَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا اَ وْ ہَرَمًا مُفْنِدًا اَوْمَوْتًا مُجْہِزًا اَوِ الدَّجَّالَ، فَشَرُّ غَائِبٍ یُنْتَظَرُ ، اَوِ السَّاعَۃَ ، فَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ. ( )
عن ابی ہریر ۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: بادروا با لاعمال سبعا، ہل تنتظرون الا فقرامنسیا او غنی مطغیا او مرضا مفسدا ا و ہرما مفندا اوموتا مجہزا او الدجال، فشر غائب ینتظر ، او الساعۃ ، فالساعۃ ادہی وامر. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سيدناابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ محبوب ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو!تمہیں انتظار نہیں مگر بھُلا دینے والی محتاجی یاسر کش بنا دینے والی مالداری یامُفسدمَرض یاعقل زائل کردینے والے بڑھاپے یا
اچانک آنے والی موت یادجّال کا جو غائب شر ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے یا قیامت کا۔اور قیامت شدید مصائب والی اور بہت کڑوی ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
سات 7اُمورکی وضاحت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرو: (1) ایسی امیری جو تجھے سرکش وگناہ گار اوراحکامِ الٰہی سے روگردانی کرنے والا بنادے۔ (2) ایسی محتاجی کہ جس کی وجہ سے انسان بھوک ، لباس اور غذا کی جستجو میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت سے غافل ہو جائے۔ (3) ایسی بیماری جس کی شدت کی وجہ سے بدن میں خرابی یا ایسی سُستی پیدا ہوجو دین میں خرابی کا سبب بنے۔ (4) ایسا بڑھاپا جس کی وجہ سے انسان کی عقل کمزور ہو جائے اور اسے پتہ ہی نہ چلے کہ کیا بول رہا ہے۔ (5) اچانک آنے والی موت کہ مرنے والے کو توبہ اوروصیت کا وقت بھی نہ ملے۔ ‘‘ علامہ قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد ایسی موت جواچانک بغیر کسی سبب کے واقع ہو جیساکہ کسی نے اسے قتل کردیا، یاڈوب کر یادیوار کے نیچے دب کرمر گیا۔ (6) دجال جو بہت بڑا پوشیدہ فتنہ ہےجس کا انتظار کیا جارہا ہے۔ (7) اور قیامت جو بہت بڑی مصیبت ، شدیدخوفناک اور بہت سختی والی ہے۔ ‘‘ ( )
¥خوش نصیب کون؟اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں اس شخص کو سست قرار دیا گیا ہے جو فراغت کے باوجود فرصت کے لمحات کو غنیمت نہ جانے ۔ ایک قول کے مطابق حدیثِ مذکور کا معنی یہ ہے کہ ہر شخص دنیا میں مذکورہ حالات میں سے کسی ایک کا منتظر ہے۔خوش نصیب وہ ہے جو فرصت، صحت مندی اور جسمانی طاقت کو غنیمت جانتے ہوئے فرائض و سنن کی ادائیگی میں مشغول ہو جائے ۔ اس سے پہلے کہ کسی بیماری میں مبتلا ہو۔ ‘‘ ( ) ( اور پھر عبادت کا موقع ہی نہ ملے۔)
¥عبادت کب کرو گے ؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں بندوں کو دین میں کمی و کوتاہی کرنے پر ڈانٹا گیا ہے۔ یعنی تم اپنے ربّ کی عبادت کب کرو گے؟ اگر تم قلتِ مشاغل (فارغ اوقات) اورجسمانی قوت کے باوجود اس کی عبادت نہیں کرتے تو کثرت مشاغل (مصروفیت) اور بدن کی کمزوری کی صورت میں اس کی عبادت کیسے کرو گے؟ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں : ’’ صحت ، مالداری، فراغت ، اور زندگی کو رائیگاں نہ جانے دو ، اس میں نیک اعمال کرلو کہ یہ نعمتیں بار بار نہیں ملتیں ۔ میاں محمد صاحب (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) فرماتے ہیں : شعر
سدا نہ حُسن جوانی رہندی سدا نہ صحبت یاراں ……… سدا نہ بلبل باغاں بولے سدا نہ باغ بہاراں
باغ میں بہاراوربہار میں بلبل کی شور وپکار ہمیشہ نہیں رہتے، کبھی آتے ہیں اسے غنیمت جانو۔ (مزید فرماتے ہیں ) اگر تمہیں نیکیوں کا موقعہ ملا ہے اور تم کرتے نہیں ، کہتے ہو کہ آئندہ کرلیں گےتو کس چیز کا انتظار کر رہے ہو ؟ ایسی بیماری کا جو سرکش بنادے یا ایسی فقیری کا جب تمہیں کچھ نہ بن پڑے ، لوگ تمہیں بھول جاویں ۔ہم نے دیکھا کہ بعض لوگوں کوحج کا موقع ملتا ہے نہیں کرتے، یہ ہی کہتے رہتے ہیں کہ آئندہ دیکھا جائے گا ۔وہ آئندہ آئندہ کرتے ہی دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں ۔ جوانی کھیل کود سے گما کر بڑھاپے میں جبکہ ہاتھ پاؤں قابو میں نہ رہیں عبادت کرنے کی خواہش کرنا بے وقوفی ہے۔ جو کرنا ہے جوانی میں کرو، جوان صالح کا بہت بڑا درجہ ہے۔ اگر ابھی اعمال نہیں کرتے تو کیا دجال کی آمد یا قیامت آنے کے منتظر ہو، اس وقت تم نیکیوں کی تمنا کروگے مگر نہ کر سکو گے۔یہ فرمان، اِظہارِعِتاب کے لیے ہے مقصد یہ ہے کہ نیک اعمال میں جلدی کرے۔ ‘‘ ( ) شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم ہندمولانامصطفےٰ رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناپنے نعتیہ کلام میں فرماتے ہیں :
ریاضت کے یہی دن ہیں بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہو اَب کرلو ابھی نوری جواں تم ہو
¥فتنۂ دجال کے متعلق کچھ معلومات:فقہ حنفی کی مشہورومعروف کتاب”بہارِشریعت“ میں ہے: (دجال ) چالیس40دن میںحَرَمَیْنِ طَیِّبَیْنکے سوا تمام روئے زمین کا گشت کرے گا۔ چالیس دن میں ، پہلا دن سال بھر کے برابر ہوگا اور دوسرا دن مہینے بھر کے برابر اور تیسرا دن ہفتہ کے برابر اور باقی دن چوبیس چوبیس گھنٹے کے ہوں گے۔ اور وہ بہت تیزی کے ساتھ سیر کرے گا، جیسے بادل جس کو ہَوا اڑاتی ہو۔ اُس کا فتنہ بہت شدید ہوگا۔ ایک باغ اور ایک آگ اُس کے ہمراہ ہوں گی جن کا نام جنت و دوزخ رکھے گا۔جہاں جائے گا یہ بھی جائیں گی، مگر وہ جو دیکھنے میں جنت معلوم ہوگی وہ حقیقۃً آگ ہوگی اور جو جہنم دکھائی دے گا، وہ آرام کی جگہ ہوگی۔ اور وہ خدائی کا دعویٰ کرے گا ، جو اُس پر ایمان لائے گا، اُسے اپنی جنت میں ڈالے گا اور جو انکار کرےگا اُسے جہنم میں داخل کرے گا ، مُردے جِلائے گا۔ زمین کو حکم دے گا وہ سبزے اُگائے گی، آسمان سے پانی برسائے گا اور اُن لوگوں کے جانور لمبے چوڑے خوب تیار اور دودھ والے ہوجائیں گے۔اورویرانے میں جائے گا تو وہاں کے دفینے شہد کی مکھیوں کی طرح دَل کے دَل (ڈھیر کے ڈھیر) اس کے ہمراہ ہوجائیں گے۔
اِسی قسم کے بہت سے شُعبدے (نظر کے کھیل) دکھائے گا۔اور حقیقت میں یہ سب جادو کے کرشمے ہوں گے اور شیاطین کے تماشے، جن کو واقعیت (حقیقت) سے کچھ تعلق نہیں ، اِسی لیے اُس کے وہاں سے جاتے ہی لوگوں کے پاس کچھ نہ رہے گا۔ حرمین شریفین میں جب جانا چاہے گا ملائکہ اس کا منہ پھیردیں گے۔ البتہ مدینہ طیبہ میں تین زلزلے آئیں گے کہ وہاں جو لوگ بظاہر مسلمان بنے ہوں گے اور دل میں کافر ہوں گے اور وہ جو علمِ الٰہی میں دجّال پر ایمان لاکر کافر ہونے والے ہیں ، اُن زلزلوں کے خوف سے شہر سے باہر بھاگیں گے اور اُس کے فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ دجّال کے ساتھ یہود کی فوجیں ہوں گی، اُس کی پیشانی پر
لکھا ہوگا:”ک، ف، ر“ یعنی کافر، جس کو ہر مسلمان پڑھے گا اور کافر کو نظر نہ آئے گا۔جب وہ ساری دنیا میں پھِر پھِرا کر ملکِ شام کو جائے گا، اُس وقت حضرت مسیحعَلَیْہِ السَّلَامآسمان سے جامع مسجد دمشق کے شَرقی مینارہ پر نُزول فرمائیں گے، صبح کا وقت ہوگا، نمازِ فجر کے لیے اِقامت ہو چکی ہوگی، حضرت امام مَہدی کو کہ اُس جماعت میں موجود ہوں گے امامت کا حکم دیں گے، حضرت امام مہدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنماز پڑھائیں گے، وہ لعین دجّال حضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَامکی سانس کی خوشبو سے پگھلنا شروع ہوگا، جیسے پانی میں نمک گھلتا ہے اور اُن کی سانس کی خوشبو حدّ ِ بصر (نظر کی انتہا) تک پہنچے گی، وہ بھاگے گا، یہ تعاقب فرمائیں گے اور اُس کی پیٹھ میں نیزہ ماریں گے، اُس سے وہ جہنم واصل ہوگا۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ
’’ جَنَّتِ عَدْن ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)سمجھدار وہ ہی ہے جو زندگی کے قیمتی اور انمول لمحات کو غنیمت جان کر جلد از جلدآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جائے۔
(2) بیماری ، مالداری ، بہت زیادہ بڑھاپا اور محتاجی آخرت کی تیاری اور اعمالِ صالحہ میں رُکاوٹ بنتے ہیں ۔
(3) مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی موقع ملے بلکہ موقع نکال کر اَعمالِ صالحہ کی کثرت کرے کیونکہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی کیا خبر پھر نیکیوں کا موقع ملے یا نہ ملے ۔
(4) دجال کاظہور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔اس کا فتنہ بہت شدید ہو گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہم سب کو محفوظ رکھے ۔
(5) بڑھاپے میں عبادت کی امید پر جوانی میں نیکیاں چھوڑ دیناانتہائی احمقانہ اور بے وقوفانہ عمل ہے ۔
(6) فتنوں میں مبتلا ہونے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کر لینی چاہیےکیونکہ فتنوں کے ظہور کے بعد نیک
اعمال بجالانا بہت دشوار ہوجاتا ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 93