Main Icon

باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 777

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نَهَانَا عَنِ الحَرِيْرِ وَالدِّيْبَاجِ والشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ:هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَاوَهِىَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ.

عن حذيفة رضي الله عنه قال:ان النبي صلى الله عليه وسلم نهانا عن الحرير والديباج والشرب في آنية الذهب والفضة وقال:هي لهم في الدنياوهى لكم في الآخرة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں:نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ریشمی کپڑوں کے استعمال اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایااور فرمایا:یہ ان(کفار) کے لئے دنیا میں ہے اور تمہارے لئے آخرت میں۔

شرح حدیث

مسلمان کا زیور:مذکورہ حدیثِ پاک میں ریشم پہننے اور سونے چاندی کے برتن میں پینے کی ممانعت کو بیان کیا گیا ہے مزید فرمایا گیا ہےکہ یہ نعمتیں کفار کے لئے دنیا میں ہیں اور تمہارے لئے آخرت یعنی جنت میں۔مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:جس کپڑے کا تانا (یعنی وہ دھاگا جو کپڑا بنُنے کے لئے لمبائی میں استعمال ہوتا ہے )بانا (وہ دھاگا جو کپڑا بننے کے لئے چوڑائی میں استعمال ہوتا ہے )یاصرف بانا ریشم کا ہو وہ مرد کو پہننا حرام ہے،عورت کو حلال اور جس کا تانا ریشم کا ہو بانا سوت کا یا اُون کا اس کا پہننا مردکو بھی حلال ہے۔ریشم سے مراد کیڑے کا ریشم ہے،دریائی ریشم یا سَن (ایک پودا) کا ریشم سب کو حلال ہے کہ وہ حریرودیباج نہیں۔ کفار اگر سونے چاندی کے برتنوں میں کھائیں تم انہیں نہ روکو نہ ان سے لڑو مگر ان کی دیکھا دیکھی تم نہ پہنو تمہارے واسطے سونا چاندی جنت میں تیار ہےاِنْ شَاءَاللّٰہخوب استعمال کرنا،اس ممانعت میں لاکھوں حکمتیں ہیں۔اگر مسلمان مَردوں نے سونے چاندی کے زیور پہننا شروع کردیئے تو تلوار و بندوق سے جہاد کون کرے گا،مسلمان کا زیور علم اور ہتھیار ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 777