Main Icon

باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 776

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ في شَنَّةٍ وَ اِلَّا كَرَعْنَا.

عن جابر رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على رجل من الانصار ومعه صاحب له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ان كان عندك ماء بات هذه الليلة في شنة و الا كرعنا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک انصاری کے پاس تشریف لے گئےاور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےہمراہ ایک صحابی بھی تھے ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (انصاری سے )فرمایا:اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا بچا ہوا پانی ہے(تولے آؤ)ورنہ ہم (نہر سے) منہ لگا کر پی لیں گے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک ریاض الصالحین میں یہاں تک ہی ہے جبکہ بخاری شریف کی روایت میں مزید یہ ہے کہ اُن انصاری نے عرض کی:میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے ۔چنانچہ وہ چھپر کی طرف گئے،پیالہ میں پانی انڈیلا پھر اس میں بکری کا دودھ ملا کر حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں پیش کردیا جسے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نوش فرمایا پھر وہ انصاری دوبارہ پانی ملا دودھ لائے تو اُن صحابی نے پیا جو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے۔نہرسے منہ لگاکر پینے کی کراہت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:جن انصاری صحابی کے پاس آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لےگئے اُن کا نام ابو الہیثمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھا اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ صحابی حضرت سَیِّدُناابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتھے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انصاری سے فرمایا:”اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا بچا ہوا پانی ہے (تولے آؤ)۔‘‘شَنپرانے مشکیزے کو کہتے ہیں جو عموماً پانی کو ٹھنڈا رکھتا ہے چونکہ وہ گرمی کا موسم تھا اور رات کا بچا ہوا پانی طلب فرمانے کی حکمت یہ تھی کہ رات کا بچا ہوا پانی ٹھنڈا اور صاف ہوتا ہے اسی وجہ سے رات کا بچا پانی طلب فرمایا۔ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرما نا کہ ’’ورنہ ہم نہر سے منہ لگا کر پی لیں گے۔‘‘عربی میںکَرَعٌاس طرح پینے کو کہتے ہیں جس میں برتن یا ہاتھ استعمال نہ ہو یعنی نہر وغیرہ سے منہ لگاکر پی لینا ۔یہ فرمانا بیانِ جواز کے لئے تھا کیونکہ ابنِ ماجہ کی ایک حدیث میں اس طرح پانی پینے کی ممانعت ہےاور اس طرح پیٹ کے بل جھک کر پانی پینا مکروہِ تنزیہی ہے۔حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پیٹ کے بل جُھک کر پانی میں منہ ڈال کر پینے سے منع فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 776