- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:نماز کا وقت ہوا تو جن لوگوں کے گھر قریب تھے وہ اٹھے اور (وضو کرنے کے لئے )اپنے گھروں کو چلے گئے،کچھ لوگ باقی رہ گئے، پھر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ اقدس میں پتھر کا ایک برتن لایا گیا وہ برتن اتنا چھوٹا تھا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دستِ مبارک اس میں نہ آ سکتا تھا ،اس سے تمام صحابہ کرام نے وضو کیا ،لوگوں نے حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا،آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟فرمایا:’’اسّی(80)سے کچھ اوپر۔‘‘بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پانی کا ایک برتن منگوایا،تو ایک کُشادہ گہرا پیالہ لایا گیا اس میں کچھ پانی تھا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی انگلیاں مبارک اس میں رکھ دیں۔حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی انگلیوں سے پانی نکلتا ہوا دیکھ رہا تھا،میں نے وضو کرنے والوں کا اندازہ لگایا تو وہ ستّر(70)سے اسّی(80) کے درمیان تھے۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ:حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ منْ كَانَ قَريْبَ الدَّارِ اِلَى اَهْلِهِ وَبَقِىَ قَوْمٌ فَاُتِىَ رسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَصَغُرَ الْمِخْضَبُ اَنْ يَّبْسُطَ فِيْهِ كَفَّهُ فَتَوَضَّاَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ.قَالُوا:كَم ْ كُنْتُمْ؟قَالَ:ثَمَانِيْنَ وَزِيَادَةً.
وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِمُسْلِمٍ:اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم دَعَا بِاِنَاءٍ مِنْ مَاءٍفَاُتِيَ بِقَدْحٍ رَحْرَاحٍ فِيْهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ اَصَابِعَہُ فِيْهِ.قَالَ اَنَسٌ:فَجَعَلْتُ اَنْظُرُ اِلَى الْمَاءِ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ اَصَابِعِهِ فَحَزَرْتُ مَنْ تَوَضَّاَ مَا بَيْنَ السَّبْعِيْنَ اِلَى الثَّمَانِيْنَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 774 ، باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائےتو ہم نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے پیتل کے ایک برتن میں پانی پیش کیا، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے وضو فرمایا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:اَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَاَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً في تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّاَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 775 ، باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک انصاری کے پاس تشریف لے گئےاور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےہمراہ ایک صحابی بھی تھے ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے (انصاری سے )فرمایا:اگر تمہارے پاس مشکیزے میں رات کا بچا ہوا پانی ہے(تولے آؤ)ورنہ ہم (نہر سے) منہ لگا کر پی لیں گے۔
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْاَنْصارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ في شَنَّةٍ وَ اِلَّا كَرَعْنَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 776 ، باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا حذیفہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے فرماتے ہیں:نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ریشمی کپڑوں کے استعمال اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے منع فرمایااور فرمایا:یہ ان(کفار) کے لئے دنیا میں ہے اور تمہارے لئے آخرت میں۔
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:اِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نَهَانَا عَنِ الحَرِيْرِ وَالدِّيْبَاجِ والشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَقَالَ:هِيَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَاوَهِىَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 777 ، باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔‘‘ مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ” جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے۔ “اور دوسری روایت میں ہے کہ ”جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔“
عَنْ اُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:الَّذِيْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الفِضَّةِ اِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ.وَفِي رِوَايَةِ لمُسْلِم: اِنَّ الَّذِيْ يَاْكُلُ اَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الفِضَّةِ والذَّهَبِ. وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ:مَنْ شَرِبَ فِي اِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ اَوْ فِضَّةٍ فَاِنَّما يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَاراً مِنْ جَهَنَّمَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 778 ، باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان