Main Icon

باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 775

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:اَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَاَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً في تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّاَ.

عن عبد الله بن زيد رضي الله عنه قال:اتانا النبي صلى الله عليه وسلم فاخرجنا له ماء في تور من صفر فتوضا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائےتو ہم نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے پیتل کے ایک برتن میں پانی پیش کیا، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے وضو فرمایا۔

شرح حدیث

پیتل کا برتن قلعی کیا ہو:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !مذکورہ حدیث پاک میں پیتل کے برتن کے استعمال کا ذکر ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاں تشریف لے گئے تو حضرتعبداللّٰہبن زیدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وضو کے لئے پیتل کے برتن میں پانی پیش کیا جس سے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وضو فرمایا۔دلیل الفالحین میں ہے:”معلوم ہوا کہ پیتل کے برتن سے وضو کرنا یا دیگر ضروریات میں پیتل کے برتن کو استعمال کرنامنع نہیں اور بعض کا منع فرمانا حدیث کے خلاف ہےتو ایسی صورت میں اختلاف سے بچنے کے لئے پیتل کے برتن سے اجتناب کرنا مستحب نہیں۔“یہ بھی یاد رہے پیتل کا برتن بغیر قلعی کئے ہوئے استعمال نہ کیا جائے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہمولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:تانبے اور پیتل کے برتنوں پر قَلَعی (سفید رنگ کی ملائم دھات )ہونی چاہیے، بغیر قَلَعی ان کے برتن استعمال کرنا مکروہ ہے۔
مذکورہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے علامہ سید محمود احمد رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”تانبےپیتل وغیرہ جواہرِ ارض کے برتن سے وضو کرنا ،اس میں کھانا پینا سب بلاکراہت جائز ہے۔ایسے برتنوں سے وضو کرنے میں کچھ نقصان نہیں ہوتا ہاں بغیر قلعی کے برتن میں کھانا پینا مکروہ ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بے قلعی کا برتن جسمانی ضَرر کا باعث ہے اور مٹی کا برتن تانبے پیتل کے برتن سے افضل ہے ۔علماء نے وضو کے آداب ومستحبات سے یہ بھی شمار کیا ہے کہ مٹی کے برتن سے وضو کیا جائے ۔اسی طرح مٹی کے برتن میں کھانا کھانا تواضع کے قریب تر ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 775