Main Icon

باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 726

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا لَبِسْتُمْ وَاِذَا تَوَضَّاْتُمْ فَابْدَءُوْا بِاَيَامِنِكُمْ.

عن ابی ھريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اذا لبستم واذا توضاتم فابدءوا بايامنكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب وضو کرو تو اپنی دائیں جانب سے ابتدا کرو۔“

شرح حدیث

دائیں جانب مبارک ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان کیا گیا ہے کہ لباس پہنتے وقت اور وضو کرتے وقت دائیں جانب سے ابتدا کرنی چاہیے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں: ”لباس پہننے اور وضو کرنے میں سیدھی جانب سے ابتدا اس لیے کریں گے کہ یہ تکریم (فضیلت وفوقیت)والے اَفعال ہیں اور یہ بات کئی مرتبہ بیان کی جاچکی ہے کہ تکریم والے کاموں میں دائیں جانب سے شروع کرنا بہتر ہے۔ اور خاص طور اِن دو چیزوں کا ذِکر اس لیے کیا کیونکہ یہ دونوں کام تکریم والے تمام اُمُور کا اِحاطہ کیے ہوئے ہیں۔ وضو اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہےکہ تمام عبادات کا دروازہ اسی سے کھلتا ہے اسی لیے اسے ذِکر کرنے کی وجہ سے ان تمام عبادات کو بیان کرنے کی حاجت نہ رہی، جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے: ”اَلطُّهُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ“ طہارت نصف ایمان ہے۔ اور لباس کو اس لیے ذِکر کیا کہ یہ ان عظیم نعمتوں میں سے ہے جس کے ذریعےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے احسان جتایا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُم(پ۸، الاعراف:۲۶)ترجمہ ٔکنز الایمان:’’بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیں چھپائے۔
اس آیتِ مبارکہ میں اس بات کا احساس دلایا گیا ہے کہ ستر پوشی کو تقوے کے معاملے میں بڑا عمل دخل ہے۔“
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”پہننا ‘‘ کرتا، پائجامہ، جوتا ان سب کو شامل ہے اور وضو میں غسل و تیمم بھی داخل ہے۔اَیَامِنْ اَیْمَنکی جمع ہے جویَمِیْنٌ یا یُمْنٌسے بنا بمعنی برکت و مبارک۔ چونکہ اسلام میں داہنا حصہ مبارک مانا گیا کہ قیامت میں نیکوں کے نامۂ اعمال بھی اسی ہاتھ میں ہوں گے اسی لیے اسےاَیْمَن یا یَمِیْنکہتے ہیں۔یعنی جب کچھ پہنو تو داہنے ہاتھ پاؤں میں پہلے، بائیں میں بعد میں پہنو اور جب وضو یا غسل و تیمم کرو تو داہنی جانب سے شروع کرو مگر اُتارنے میں اس کے برعکس۔مدنی گلدستہ’’لباس‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) لباس پہننے اور وضو کرنے کی ابتدا سیدھی جانب سے کرنی چاہیے۔
(2) وضو کے ذریعے تمام عبادات کا دروازہ کھلتا ہے۔
(3) لباس وہ عظیم نعمت ہے جس کا
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے قرآنِ کریم میں احسان جتایا ہے۔
(4) تیمم ، غسل اور تمام تکریم والے افعال دائیں جانب سے شروع کرنے چاہئیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں وضو، غسل اور تمام تکریم والےکاموں میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 726