Main Icon

باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 722

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:کَانَتْ يَدُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُوْرِهِ وَطَعَامِهِ وَكَانَتِ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ وَمَا كَانَ مِنْ اَذًى.

عن عائشة رضي الله عنها قالت:کانت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم اليمنى لطهوره وطعامه وكانت اليسرى لخلائه وما كان من اذى.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا داہنا ہاتھ طہارت حاصل کرنے اور کھانے کے لیے تھا اوربایاں ہاتھ قضائے حاجت اورکراہیت والی چیزوں کے ہٹانے کے لیے تھا۔“

شرح حدیث

دائیں ہاتھ کا کام بائیں سے نہ کرو:مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامحصولِ طہارت یعنی وضو اور غسل کرنے کے لیے دائیں ہاتھ سے ابتدا فرماتے اور کھانا بھی آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسیدھے ہاتھ سے ہی تناوُل فرماتے تھے لیکن قضائے حاجت یعنی استنجاء کرنے کے لیے اور اسی طرح کے دیگر اُمور جیسے ناک صاف کرنا وغیرہ میں بایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”(حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام) داہنے ہاتھ سے وضو،غسل کرتے تھے اور پہلے اسی کو دھوتے تھے، نیز اسی سے کھاتے تھے اور پانی پیتے تھے اوربائیں ہاتھ سے استنجاء، ناک کی صفائی، وغیرہ ہر وہ کام جس سے دِل کراہت کرے کرتے تھے لہٰذا ایک ہاتھ کے کام دوسرے سے نہ کرو۔‘‘عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”یہ بات بہت دیکھنے میں آئی ہے کہ طالب علم کتاب کو بائیں ہاتھ میں پکڑتے ہیں اور جوتیوں کو سیدھے ہاتھ میں، شاید اس کی وجہ لاعلمی یا غفلت ہے۔‘‘(کتاب ہمیشہ دائیں ہاتھ میں پکڑنی چاہیے اور جوتے بائیں ہاتھ میں۔)سیدھے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت بنائیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو کام دائیں ہاتھ سے کرنا سنت یا مستحب ہیں انہیں دائیں ہاتھ سے ہی کریں اور جو کام بائیں ہاتھ سے کرنا سنت یا مستحب ہیں انہیں بائیں ہاتھ سے ہی کریں لیکن افسوس! آج کل ہم دُنیا کے چکر میں اِس قدر گِھر چکے ہیں کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محبوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پیاری پیاری سنتوں کی طرف ہماری توجُّہ ہی نہیں رہتی۔ یاد رکھیے! حدیث پاک میں ہے:”شیطان انسان کی رَگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے“ظاہر ہے کہ یہ ہمیں سُنَّتوں کی طرف کہاں جانے دے گا؟ اگرچہ ہم سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے کی سنت پر عمل کرتے ہوں لیکن پھر بھی اُلٹے ہاتھ سے کچھ دانے پھانک ہی لیتے ہیں، کھاتے ہوئے چونکہ سیدھا ہاتھ آلودہ ہوتا ہے لہٰذا پانی اُلٹے ہی ہاتھ سے پی لیتے ہیں، چائے پیتے وقت کپ سیدھے ہاتھ میں اور رِکابی اُلٹے ہاتھ میں لیے چائے پیتے ہیں، کسی کو پانی پلاتے وقت جگ سیدھے ہاتھ میں ہو تا ہے جبکہ گلاس اُلٹے میں اور اُلٹے ہاتھ سے گِلاس دوسروں کودیتے ہیں، کسی سے جگ اور گلاس دونوں لینے ہوں تو ہم دونوں ہاتھوں سے ایک ساتھ لے لیتے ہیں جبکہ یہ طریقہ غلط ہے پہلے سیدھے ہاتھ سے جگ لیں اور پھر جگ کو اُلٹے ہاتھ میں پکڑلیں تاکہ سیدھا ہاتھ خالی ہو جائے اور اب سیدھے ہاتھ سے گلاس لے لیں۔ اگر ہم غور کریں تو اس طرح بہت سے کام ہیں جنہیں ہم سیدھے ہاتھ ہی سے کرتے ہیں لیکن کسی نہ کسی طرح شیطان ہم سے ان کاموں میں اُلٹا ہاتھ استعمال کروا ہی دیتا ہے لہٰذا جن کاموں کو دائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے انہیں کامل طورپر دائیں ہاتھ سے کریں اور بایاں ہاتھ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ مُحَدِّث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد قادری چشتیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”لینے اور دینے میں دائیں ہاتھ کو استِعمال کرو، یہ عادت ایسی پختہ ہو جائے کہ کل قِیامت کو جب نامہ ٔ اَعمال پیش ہو تو اِسی عادت کے مُوافِق دایاں ہاتھ آگے بڑھ جائے تب تو کام بن جائے گا۔“مدنی گلدستہ’’آبِ کوثر‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسیدھے ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے تھے اور وضو و غسل کرتے وقت سیدھے ہاتھ سے ابتدا فرماتے تھے۔
(2) قضائے حاجت،ناک صاف کرنے اور ان جیسے دیگر امور کے لیے آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامبایاں ہاتھ استعمال فرماتے تھے۔
(3) دِینی کتابیں ہمیشہ سیدھے ہاتھ میں پکڑیں اور چپل اُلٹے ہاتھ میں۔
(4) جو کام دائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہیں انہیں دائیں ہاتھ سے کریں اور جو بائیں ہاتھ سے کرنا مستحب ہیں انہیں بائیں ہاتھ سے کریں۔
(5) سیدھے ہاتھ سے کام کرتے ہوئے اِس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ کہیں شیطان ہم سے اُلٹا ہاتھ بھی استعمال نہ کروالے جیساکہ سیدھے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے اُلٹے ہاتھ سے پانی پی لینا۔
(6) سیدھے ہاتھ سے کام کرنے کی ایسی پختہ عادت بنا لیں کہ قیامت کے دن جب نامۂ اعمال دیا جائے تو ہمارا سیدھا ہاتھ خود بخود آگے بڑھ جائے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں دائیں ہاتھ سے کرنے والے کام دائیں ہاتھ سے اور بائیں ہاتھ سے کرنے والے کام بائیں ہاتھ سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 722