- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے تمام کاموں میں دائیں جانب سے ابتدا کرنے کو پسند فرماتے تھے،(جیساکہ)اپنی طہارت میں، کنگھی کرنے میں اور نعلین مبارک پہننے میں۔“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُعْجِبُهُ التَّيَمُّنُ في شَاْنِهِ كُلِّهِ: فِيْ طُهُوْرِهِ وَتَرَجُّلِهِ وَتَنَعُّلِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 721 ، باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا داہنا ہاتھ طہارت حاصل کرنے اور کھانے کے لیے تھا اوربایاں ہاتھ قضائے حاجت اورکراہیت والی چیزوں کے ہٹانے کے لیے تھا۔“
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:کَانَتْ يَدُ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُوْرِهِ وَطَعَامِهِ وَكَانَتِ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ وَمَا كَانَ مِنْ اَذًى.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 722 ، باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ عطیہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی صاحبزادی حضرت سَیِّدَتُنا زینبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو غسل دینے کے بارے میں ان سے فرمایا :’’ان کی دائیں طرف اور وضو کی جگہوں سے شروع کرنا۔“
عَنْ اُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُنَّ فِیْ غَسْلِ اِبْنَتِهِ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: ابْدَاْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الوُضُوْ ءِمِنْهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 723 ، باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب اُتارے تو بائیں سے شروع کرے تاکہ دایاں پہننے میں پہلے اور اُتارنے میں آخری رہے۔“
عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا انْتَعَلَ اَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَاْ بِالْيُمْنَی وَ اِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَاْ بِالشِّمَالِ لِتَكُنِ الْيُمْنَى اَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 724 ، باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھانے، پینے اور لباس پہننے کے لیے اپنا داہنا دستِ اقدس استعمال فرماتے تھے اور ان کے علاوہ دیگر امور کے لیے بایاں دستِ اقدس استعمال فرماتے۔
عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَجْعَلُ يَمِيْنَهُ لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَثِيَابِهِ وَيَجْعَلُ يَسَارَهُ لِمَا سِوَى ذٰلِكَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 725 ، باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم لباس پہنو اور جب وضو کرو تو اپنی دائیں جانب سے ابتدا کرو۔“
عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا لَبِسْتُمْ وَاِذَا تَوَضَّاْتُمْ فَابْدَءُوْا بِاَيَامِنِكُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 726 ، باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممنیٰ میں تشریف لائے تو جمرہ(عقبہ) کے پاس گئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منٰی میں اپنی قیام گاہ پر تشریف لائے اور قربانی کی پھر حجام سے اپنی دائیں جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا یہ بال اُتارو پھر بائیں جانب اشارہ فرمایا پھر وہ بال مبارک لوگوں میں تقسیم فرمائے۔اور ایک روایت میں ہے: جب جمرہ کو کنکریاں ماریں اور اپنی قربانی کو ذبح فرمادیا تو سر منڈوانے کے لیے اپنی دائیں جانب حجام کی طرف کی، حجام نے اس جانب سے بال مبارک اُتارے تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو بلایا اور انہیں وہ بال عطا فرمادیے، پھر اپنی بائیں جانب حجام کی طرف بڑھائی اور فرمایا :یہ بال اُتاردو، حجام نے وہ جانب مونڈدی پھر یہ بال بھی حضرت سَیِّدُنَا ابو طلحہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو عطا کیے اور فرمایا: ”اسے لوگوں میں تقسیم کردو۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَتَى مِنًى فَاَتَى الْجَمْرَةَ فَرَمَاهَا ثُمَّ اَتَى مَنْزِلَهُ بِمِنًى وَنَحَرَ ثُمَّ قَالَ لِلْحَلَّاقِ خُذْ وَاَشَارَ اِلَى جَانِبِهِ الْاَيْمَنِ ثُمَّ الْاَيْسَرِ ثُمَّ جَعَلَ يُعْطِيْهِ النَّاسَ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:لَمَّا رَمَى الْجَمْرَةَ وَنَحَرَ نُسُكَهُ وَحَلَقَ نَاوَلَ الْحَلَّاقَ شِقَّهُ الْاَيْمَنَ فَحَلَقَهُ ثُمَّ دَعَا اَبَا طَلْحَةَ الْاَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاَعْطَاهُ اِيَّاهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الشِّقَّ الْاَيْسَرَ فَقَالَ:احْلِقْ فَحَلَقَهُ فَاَعْطَاهُ اَبَا طَلْحَةَ فَقَالَ: اقْسِمْهُ بَيْنَ النَّاسِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 727 ، باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان