Main Icon

باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 724

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا انْتَعَلَ اَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَاْ بِالْيُمْنَی وَ اِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَاْ بِالشِّمَالِ لِتَكُنِ الْيُمْنَى اَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ.

عن ابی ھريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اذا انتعل احدكم فليبدا باليمنی و اذا نزع فليبدا بالشمال لتكن اليمنى اولهما تنعل وآخرهما تنزع.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب اُتارے تو بائیں سے شروع کرے تاکہ دایاں پہننے میں پہلے اور اُتارنے میں آخری رہے۔“

شرح حدیث

دونوں جوتے ایک ساتھ نہ پہنو:مذکورہ حدیث پاک میں چپل پہننے کا سنت طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ چپل پہنتے وقت پہلے سیدھے پاؤں میں پہنے اور اُتارتے وقت پہلے اُلٹے پاؤں سے نکالے پھر سیدھے پاؤں سے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ حکم اِستحبابی ہے۔ اس کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ اچھا و اعلیٰ کام داہنی طرف سے شروع کیا جاوے اور ادنیٰ اورگھٹیا کام بائیں طرف سے، مسجد میں داخل ہو تو داہنا پاؤں پہلے داخل کرے بایاں پاؤں پیچھے، جب نکلے تو اس کے برعکس کرےکہ بایاں پاؤں پہلے نکالے داہنا پاؤں پیچھے اور پاخانہ(بیت الخلاء) جاتے وقت بایاں پاؤں پاخانہ میں داخل کرے بعد میں داہنا مگر وہاں سے نکلتے وقت اس کے برعکس۔ جوتے پہننا اعلیٰ کام ہے اور اُتارنا ادنیٰ کام لہٰذا یہ حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دونوں جوتے یکدم اُتارنا پہننا بھی سنت کے خلاف ہے، اَوَّلاً داہنے پاؤں میں پہنے پھر بائیں میں۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمسجدمیں داخل ہونےکاطریقہ:مذکورہ حدیثِ پاک میں چپل پہننے کا یہ طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ پہنتے وقت دائیں اور اُتارتے وقت بائیں قدم سے ابتدا کرے لیکن مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت اس طریقے پر عمل کرنا دشوار ہے کیونکہ مسجد میں داخل ہوتے وقت حکم یہ ہے کہ پہلے سیدھا پاؤں مسجد میں رکھے اور جب مسجد سے نکلے تو پہلے اُلٹا پاؤں نکالے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے اس کا حل یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جب مسجد میں جانا ہو تو پہلے بائیں پیر کو نکال کر جوتے پر رکھ لے پھر داہنے پیر سے جوتا نکال کر مسجد میں داخل ہواور جب مسجد سے باہر ہو تو بایاں پیر نکال کر جوتے پر رکھ لے پھر داہنا پیر نکال کر داہنا جوتا پہن لے پھر بایاں پہن لے۔“حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں: ”علامہ حلیمیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جوتا پہنا عزت کا سبب ہے اور یہ بدن کو تکلیف سے بچاتا ہے اور دائیں جانب بائیں سے افضل ہے اسی لیے پہلے سیدھے پیر میں جوتا پہنیں گے اور اُتارتے وقت پہلے بائیں پیر کا جوتا اُتاریں گے اور آخر میں دائیں کا تاکہ شرف و عزت بائیں قدم کے مقابلے میں زیادہ دیر تک دائیں قدم میں رہے۔ علامہ ابنِ عبدُ البررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ جس نے پہلے اُلٹے پاؤں میں جوتا پہنا اس نے بُرا کیا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی لیکن اس پر یہ جوتا پہننا حرام نہیں ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اسے چاہیے کہ اُلٹے پاؤں سے اُتاردے اور پھر سیدھے پاؤں سے ابتدا کرے۔“جوتا پہننے کی سنتیں اور آداب:مذکورہ حدیثِ پاک میں جوتا پہننے اور اُتارنے سے متعلق بیان کیا گیا ہے، اسی ضمن میں جوتے سے متعلق مزید سنتیں اور آداب ملاحظہ فرمائیں: (1) جوتے کثرت سے استعمال کرنے چاہئیں کہ اس سے آدمی کم تھکتا ہے۔(2) جوتا پہلے سیدھے پاؤں میں پہنے پھر اُلٹے میں اور اُتارتے وقت پہلے اُلٹا جوتا اُتارے پھر سیدھا۔ (3) ایک جوتا پہن کر نہ چلیں دونوں اُتار دیں یا دونوں پہن لیں۔ (4) جوتا یا بوٹ وغیرہ کھڑے ہوکر پہننا منع ہیں انہیں بیٹھ کر پہنیں البتہ ایسی چپل یا جوتا جسے کھڑے ہو کر پہننے میں دِقّت نہیں ہوتی انہیں کھڑے ہو کر پہننے میں مُضائقہ نہیں۔ (5) مرد مردانہ اور عورت زنانہ چپل استعمال کرے۔ (6) کسی بھی رنگ کی چپل پہن سکتے ہیں لیکن پیلی چپل پہننا بہتر ہے کیونکہ حضرت سَیِّدُنا علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ پیلی چپل پہننے والے کی فکروں میں کمی ہوگی۔حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ ”جو پیلے جوتے پہنے گا تو جب تک اسے پہنے رہے گا ہمیشہ مسرور رہے گا۔“(7) جب بیٹھیں تو جوتا اُتار لینا سنت ہے۔ (8) جوتا پہننے سے پہلے جھاڑ لیں تاکہ کیڑا یا کنکر وغیرہ ہوتو نکل جائے۔ (9) استعمالی جوتا اُٹھانے کے لیے اُلٹے ہاتھ کا انگوٹھا اور برابر والی انگلی استعمال کریں ۔ (10) استعمالی جوتا اُلٹا پڑا ہوتو سیدھا کردیجئے ورنہ فقروتنگ دستی کا اندیشہ ہے۔مدنی گلدستہ’’غارِثَور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) چپل پہنتے وقت سیدھے اور اُتارتے وقت اُلٹے پاؤں سے ابتدا کریں۔
(2) دونوں جوتے ایک ساتھ پہننا یا اُتارنا خلافِ سنت ہے لہٰذا یکدم جوتے پہننے اور اُتارنے سے بچیں۔
(3) مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاؤں نکال کر چپل پر رکھیں پھر دایاں چپل سے نکال کر مسجد میں داخل ہو جائیں اور مسجد سے باہر آتے وقت پہلے بایاں پاؤں نکال کر چپل پر رکھیں پھر دایاں باہر نکال کر چپل پہن لیں۔
(4) جوتا پہننا عزت کا سبب ہے اور جوتے پہننے سے بدن تکلیف سے محفوظ رہتا ہے۔
(5) اگر کسی نے پہلے بائیں قدم میں چپل پہنی تو اس نے سنت کی مخالفت کی اُسے چاہیے کہ بائیں پیر سے چپل نکال دے اور پھر دائیں پیر میں چپل پہنے۔
(6) کسی بھی رنگ کی چپل پہن سکتے ہیں لیکن پیلی چپل پہننے سے فکروں میں کمی آتی ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق جوتے پہننے اور اُتار نے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 724