- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- حدیث نمبر 724
باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 724
جلد 6
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا انْتَعَلَ اَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَاْ بِالْيُمْنَی وَ اِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَاْ بِالشِّمَالِ لِتَكُنِ الْيُمْنَى اَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ.
عن ابی ھريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اذا انتعل احدكم فليبدا باليمنی و اذا نزع فليبدا بالشمال لتكن اليمنى اولهما تنعل وآخرهما تنزع.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب اُتارے تو بائیں سے شروع کرے تاکہ دایاں پہننے میں پہلے اور اُتارنے میں آخری رہے۔“
شرح حدیث
دونوں جوتے ایک ساتھ نہ پہنو:مذکورہ حدیث پاک میں چپل پہننے کا سنت طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ چپل پہنتے وقت پہلے سیدھے پاؤں میں پہنے اور اُتارتے وقت پہلے اُلٹے پاؤں سے نکالے پھر سیدھے پاؤں سے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یہ حکم اِستحبابی ہے۔ اس کے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ اچھا و اعلیٰ کام داہنی طرف سے شروع کیا جاوے اور ادنیٰ اورگھٹیا کام بائیں طرف سے، مسجد میں داخل ہو تو داہنا پاؤں پہلے داخل کرے بایاں پاؤں پیچھے، جب نکلے تو اس کے برعکس کرےکہ بایاں پاؤں پہلے نکالے داہنا پاؤں پیچھے اور پاخانہ(بیت الخلاء) جاتے وقت بایاں پاؤں پاخانہ میں داخل کرے بعد میں داہنا مگر وہاں سے نکلتے وقت اس کے برعکس۔ جوتے پہننا اعلیٰ کام ہے اور اُتارنا ادنیٰ کام لہٰذا یہ حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دونوں جوتے یکدم اُتارنا پہننا بھی سنت کے خلاف ہے، اَوَّلاً داہنے پاؤں میں پہنے پھر بائیں میں۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمسجدمیں داخل ہونےکاطریقہ:مذکورہ حدیثِ پاک میں چپل پہننے کا یہ طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ پہنتے وقت دائیں اور اُتارتے وقت بائیں قدم سے ابتدا کرے لیکن مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت اس طریقے پر عمل کرنا دشوار ہے کیونکہ مسجد میں داخل ہوتے وقت حکم یہ ہے کہ پہلے سیدھا پاؤں مسجد میں رکھے اور جب مسجد سے نکلے تو پہلے اُلٹا پاؤں نکالے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے اس کا حل یہ ارشاد فرمایا ہے: ”جب مسجد میں جانا ہو تو پہلے بائیں پیر کو نکال کر جوتے پر رکھ لے پھر داہنے پیر سے جوتا نکال کر مسجد میں داخل ہواور جب مسجد سے باہر ہو تو بایاں پیر نکال کر جوتے پر رکھ لے پھر داہنا پیر نکال کر داہنا جوتا پہن لے پھر بایاں پہن لے۔“حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں: ”علامہ حلیمیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: جوتا پہنا عزت کا سبب ہے اور یہ بدن کو تکلیف سے بچاتا ہے اور دائیں جانب بائیں سے افضل ہے اسی لیے پہلے سیدھے پیر میں جوتا پہنیں گے اور اُتارتے وقت پہلے بائیں پیر کا جوتا اُتاریں گے اور آخر میں دائیں کا تاکہ شرف و عزت بائیں قدم کے مقابلے میں زیادہ دیر تک دائیں قدم میں رہے۔ علامہ ابنِ عبدُ البررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ جس نے پہلے اُلٹے پاؤں میں جوتا پہنا اس نے بُرا کیا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی لیکن اس پر یہ جوتا پہننا حرام نہیں ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ اسے چاہیے کہ اُلٹے پاؤں سے اُتاردے اور پھر سیدھے پاؤں سے ابتدا کرے۔“جوتا پہننے کی سنتیں اور آداب:مذکورہ حدیثِ پاک میں جوتا پہننے اور اُتارنے سے متعلق بیان کیا گیا ہے، اسی ضمن میں جوتے سے متعلق مزید سنتیں اور آداب ملاحظہ فرمائیں: (1) جوتے کثرت سے استعمال کرنے چاہئیں کہ اس سے آدمی کم تھکتا ہے۔(2) جوتا پہلے سیدھے پاؤں میں پہنے پھر اُلٹے میں اور اُتارتے وقت پہلے اُلٹا جوتا اُتارے پھر سیدھا۔ (3) ایک جوتا پہن کر نہ چلیں دونوں اُتار دیں یا دونوں پہن لیں۔ (4) جوتا یا بوٹ وغیرہ کھڑے ہوکر پہننا منع ہیں انہیں بیٹھ کر پہنیں البتہ ایسی چپل یا جوتا جسے کھڑے ہو کر پہننے میں دِقّت نہیں ہوتی انہیں کھڑے ہو کر پہننے میں مُضائقہ نہیں۔ (5) مرد مردانہ اور عورت زنانہ چپل استعمال کرے۔ (6) کسی بھی رنگ کی چپل پہن سکتے ہیں لیکن پیلی چپل پہننا بہتر ہے کیونکہ حضرت سَیِّدُنا علیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ پیلی چپل پہننے والے کی فکروں میں کمی ہوگی۔حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ ”جو پیلے جوتے پہنے گا تو جب تک اسے پہنے رہے گا ہمیشہ مسرور رہے گا۔“(7) جب بیٹھیں تو جوتا اُتار لینا سنت ہے۔ (8) جوتا پہننے سے پہلے جھاڑ لیں تاکہ کیڑا یا کنکر وغیرہ ہوتو نکل جائے۔ (9) استعمالی جوتا اُٹھانے کے لیے اُلٹے ہاتھ کا انگوٹھا اور برابر والی انگلی استعمال کریں ۔ (10) استعمالی جوتا اُلٹا پڑا ہوتو سیدھا کردیجئے ورنہ فقروتنگ دستی کا اندیشہ ہے۔مدنی گلدستہ’’غارِثَور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) چپل پہنتے وقت سیدھے اور اُتارتے وقت اُلٹے پاؤں سے ابتدا کریں۔
(2) دونوں جوتے ایک ساتھ پہننا یا اُتارنا خلافِ سنت ہے لہٰذا یکدم جوتے پہننے اور اُتارنے سے بچیں۔
(3) مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاؤں نکال کر چپل پر رکھیں پھر دایاں چپل سے نکال کر مسجد میں داخل ہو جائیں اور مسجد سے باہر آتے وقت پہلے بایاں پاؤں نکال کر چپل پر رکھیں پھر دایاں باہر نکال کر چپل پہن لیں۔
(4) جوتا پہننا عزت کا سبب ہے اور جوتے پہننے سے بدن تکلیف سے محفوظ رہتا ہے۔
(5) اگر کسی نے پہلے بائیں قدم میں چپل پہنی تو اس نے سنت کی مخالفت کی اُسے چاہیے کہ بائیں پیر سے چپل نکال دے اور پھر دائیں پیر میں چپل پہنے۔
(6) کسی بھی رنگ کی چپل پہن سکتے ہیں لیکن پیلی چپل پہننے سے فکروں میں کمی آتی ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق جوتے پہننے اور اُتار نے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 724