Main Icon

باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 973

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَرْجِسَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِوَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوْ ءِ الْمَنْظَرِ فِي الْاَهْلِ وَالْمَالِ.

عن عبد اللہ بن سرجس رضي اللہ عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سافر يتعوذ من وعثاء السفروكآبة المنقلب والحور بعد الكون ودعوة المظلوم وسو ء المنظر في الاهل والمال.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن سرجسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب سفر کے لیے نکلتے تو اِن چیزوں سے پناہ طلب کرتےسفر کی مشقتوں سے، بُری واپسی سے، بھلائی کے بعد بُرائی سے، مظلوم کی بد دعا سے اور گھر بار اور مال میں بُرائی دیکھنے سے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث میں اس بات کا ذِکر ہے کہ سفر پر روانہ ہوتے ہوئے کن کن چیزوں سے پناہ طلب کرنی چاہیے ۔یہ کلمات بہت ہی جامع ہیں جو کہ حضورِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں سکھائے ہیں لہٰذا جب بھی سفر پر روانہ ہوں تو اس طرح دعا کرلینی چاہیے۔سفر کی مشقت اوربُری واپسی سے پناہ:سفر کی مشقت سے پناہ طلب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سفر کی مشقت ذِکر وفکر سے غافل کردیتی ہے اور سفر کی شدت ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں خشوع وخضوع کے ساتھ حاضری کو مانع ہوتی ہے۔بُری واپسی سے پناہ طلب کرنا یہ ہے کہ جب گھر لوٹوں تو کوئی نقصان دہ چیز نہ دیکھوں۔اسی طرح جب سفر دنیا سے وطن آخرت کی طرف واپس جاؤں تو کوئی مصیبت نہ اٹھاؤں۔اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:﴿ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷)﴾(پ۱۹،الشعراء:۲۲۷)ترجمہ ٔکنز الایمان: اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔بھلائی کے بعد بُرائی سےپناہ:حدیثِ پاک میں بھلائی کے بعدبرائی سے پناہ مانگی گئی ہےیعنی زیادتی کے بعد نقصان، اصلاح کے بعد فساد،جمع ہونے کے بعد بکھرنا،جماعت میں ہونے کے بعد الگ ہوجانا،آرام کے بعد تکلیف،بھلائی کے بعد بُرائی،ثابت قدمی کے بعد بدل جانا ان سب سے تیری پناہ۔صوفیا فرماتے ہیں کہ ترقی کے بعد تنزلی،توبہ کے بعد گناہ،ذکر کے بعد غفلت اور حاضری کے بعد غائب ہوجانا ان سب سے پناہ۔مظلوم کی بددعا سے پناہ:حدیث شریف میں مظلوم کی بددعا سے بچنے کا کہا گیا ہے چونکہ سفر میں ساتھیوں سے جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں،خصوصاً عرب میں پانی پراورکبھی ان جھگڑوں میں ظلم بھی ہوجاتا ہے اس لیے سفر کے موقع پر مظلوم کی بددعا سے خصوصیت سے پناہ مانگی گئی،مظلوم کی بددعا اور قبولیت کے درمیان حجاب نہیں۔شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”مظلوم کی بددعا سے پناہ مانگنا درحقیقت ظلم سے پناہ مانگنا ہے یعنی ہم کسی پر ظلم نہ کریں تاکہ وہ مظلوم ہمارے خلاف بددعا نہ کرے۔“مدنی گلدستہ’’رحمت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) سفر پر نکلنے سے پہلےسفر کی مشقت اور بُری چیزوں سے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگنی چاہیے۔
(2) سفر میں اپنے ساتھیوں کا خیال رکھنا چاہیے ہم سے کسی کی حق تلفی نہ ہوجائے۔
(3) سفر میں اپنے ساتھیوں سے لڑائی جھگڑے سے بچنا چاہیے اور اس سے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگنی چاہیے۔
(4) مظلوم کی بد دعا سے بچنا چاہیے یعنی اس بات کا خیال رکھیں کہ ہم سے کسی پر ظلم نہ ہوجائے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سفر کی مشقتوں سے محفوظ فرمائے، ہمارے ہر سفر کو آسان بنائےاور خاص طور پر سفرِ آخرت ہمارے لیے آسان فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 973