باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر پر جانے کے لیے سواری پر بیٹھ جاتے تو تین بار تکبیر(اللّٰہ اَکْبَر) کہتے پھریہ کلمات ادا فرماتے:”سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْئَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْاَهْلِ اللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْ ءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْاَهْلِ وَالْوَلدِیعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اِسے ہمارے قابو میں دیا اور ہم اس کو مطیع کرنے والے نہ تھے۔بے شک ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہم تجھ سے اپنے سفر میں بھلائی، تقویٰ اور تیرے پسندیدہ عمل پر توفیق کا سوال کرتے ہیں۔ اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!ہمارے اِس سفر کو ہم پر آسان کردے اور مسافت کو لپیٹ دے۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا والی ہے۔اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ!میں تیری پناہ مانگتا ہوں سفر کی مشقتوں سے، ناخوشگوار منظر سے اور مال اور اہل وعیال کی طرف بُری واپسی سے۔“ جب حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسفر سے واپس لوٹتے تو یہی کلمات کہتےاورساتھ میں ان کلمات کا اضافہ کرتے:”آيِبُوْنَ تَائِبُونَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَیعنی ہم لوٹنے والے، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی ثنا کرنے والے ہیں۔“

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ اِذَا اسْتَوَى عَلَى بَعِيْرِهِ خَارِجًا اِلٰي سَفَرٍ كَبَّرَ ثَلَاثاً ثُمَّ قَالَ:سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ اللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْئَلُكَ فِي سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى اللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ اللّٰهُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيفَةُ فِي الْاَهْلِ اللّٰهُمَّ اِنِّي اَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْ ءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْاَهْلِ وَالْوَلدِ واِذَا رَجَعَ قَالَهُنَّ وَزَادَ فِیْهِنَّ : آيِبُوْنَ تَائِبُونَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 972 ، باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟

حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن سرجسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب سفر کے لیے نکلتے تو اِن چیزوں سے پناہ طلب کرتےسفر کی مشقتوں سے، بُری واپسی سے، بھلائی کے بعد بُرائی سے، مظلوم کی بد دعا سے اور گھر بار اور مال میں بُرائی دیکھنے سے۔

عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَرْجِسَ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا سَافَرَ يَتَعَوَّذُ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِوَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ وَالْحَوْرِ بَعْدَ الْكَوْنِ وَدَعْوَةِ الْمَظْلُومِ وَسُوْ ءِ الْمَنْظَرِ فِي الْاَهْلِ وَالْمَالِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 973 ، باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟

حضرت علی بن ربیعہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیکَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کے پاس سواری کے لیے ایک گھوڑا لایا گیا جب آپ نے اُس کی رکاب پر پاؤں رکھا تو فرمایا:”بِسْمِ اللَّهِ“جب سواری کی پیٹھ پر سیدھے بیٹھ گئے تو فرمایا: ”اَلْحَمْدُلِلَّهِ“پھریہ کہا:’’سُبْحٰنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَیعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اِسے ہمارے قابو میں دیا اور ہم اس کو مطیع کرنے والے نہ تھے۔ بے شک ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں۔‘‘پھر تین بار”اَلْحَمْدُ لِلَّهِ“ کہا پھر تین بار”اللّٰہ اَكْبَرُ“ کہا پھر یہ الفاظ کہے:”سُبْحَانَكَ اِ نِّي ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ اِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَیعنی پاک ہے تیری ذات بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ تو مجھے بخش دے،بے شک تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخشتا۔پھرآپ ہنسے۔آپ سے پوچھا گیا:اے امیر المؤمنین! آپ کس بات پر ہنسے؟ فرمایا :میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اسی طرح کرتے دیکھا جس طرح میں نے کیا ۔ پھر جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکرائےتو میں نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کس وجہ سے مسکرائے؟توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تمہارا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے:اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمیرے گناہ بخش دے۔ربّ فرماتا ہے:میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشتا۔“

عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ اُتِيَ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ قَالَ:بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ:الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ قَالَ: سُبْحٰنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَاِنَّا اِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:اللہُ اَكْبَرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ:سُبْحَانَكَ اِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ اِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ اِلَّا اَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ فَقِيْلَ يَا اَمِيْرَ الْمُؤْمِنِيْنَ! مِنْ اَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ:رَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ ثُمَّ ضَحِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِنْ اَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ؟ قَالَ: اِنَّ رَبَّكَ يَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ اِذَا قَالَ اغْفِرْ لِيْ ذُنُوبِيْ يَعْلَمُ اَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ غَيْرِيْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 974 ، باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟