- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 715
حدیث مبارکہ
عَنْ سَالِم بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُوْلُ لِلرَّجُلِ اِذَا اَرَادَ سَفَرًا: اُدْنُ مِنِّيْ حَتّٰى اُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُوَدِّعُنَا فَيَقُوْلُ:اَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَاَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِكَ.
عن سالم بن عبد الله بن عمر ان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يقول للرجل اذا اراد سفرا: ادن مني حتى اودعك كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم یودعنا فيقول:استودع الله دينك وامانتك وخواتيم عملك.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا سالِم بنعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْسے روایت ہے جب کوئی شخص سفر پر جانے کا ارادہ کرتا تو حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَااس سے فرماتے کہ میرے قریب ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں اس طرح رخصت کروں جس طرحرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں رخصت فرماتے تھے، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے: ”میں تیرے دِین، تیری امانت اور تیرےآخری عمل کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں۔“
شرح حدیث
مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو رخصت کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اور صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت پر عمل کرتے ہوئے اسی طرح مسافر کو رخصت کیا کرتے تھے۔ ایک حدیثِ پاک میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ جب حضورعَلَیْہِ السَّلَامکسی مسافر کو رخصت فرماتے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتے اور تواضع اور محبت و رحمت کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت تک اس کا ہاتھ نہ چھوڑتے جب تک وہ خود ہاتھ نہ چھوڑتا پھر اس کے بعد آپعَلَیْہِ السَّلَاموہی دعا پڑھتے جو مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان کی گئی ہے۔ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ جب کوئی شخص سفر پر جانے کا ارادہ کرتا تو حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاس سے فرماتے میرے قریب آؤ تاکہ میں تمہیں اسی طرح رخصت کروں جس طرح نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں رخصت کیا کرتے تھے پھر آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے:”میں نے تیرے دِین کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کیا۔“ یعنی تیرے دِین کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت میں دیا کیونکہ سفر بندے کو نیک اعمال سے غافل کردیتا ہے اور نیک اعمال ہی وہ چیز ہیں جن کی کمی زیادتی سے دِین میں کمی زیادتی ہوتی ہے اسی لیے دِین کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت میں دے دیا تاکہ اس میں نقصان نہ ہو۔ پھر فرماتے: ”تیری امانت کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کیا۔“ یعنی تیرے اہل و عیال اور وہ لوگ جنہیں تو اپنے پیچھے چھوڑ کر جارہا ہے اور تیرا مال جسے تونے کسی قابل اعتماد شخص کے پاس امانت کے طورپر رکھوایا ہے ان سب چیزوں کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت میں دیا۔ پھر فرماتے:”تیرے آخری عمل کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں۔“ یعنی یہاں رہتے ہوئے تونے جو آخری نیک عمل کیااللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی حفاظت فرمائے۔ مطلب یہ کہ جو آخری نیکی تو نے یہاں کیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتجھے وہ نیکی بعدمیں بھی کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔سفرپرجانےاورمسافرکورخصت کرنے کےآداب:عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:”سفر پر جانے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا اختتام کسی نیک کام پر کرے جیساکہ توبہ کرے، کوئی اچھائی کردے ،ظلم سے کنارہ کش ہو جائے ، نماز پڑھے ، صدقہ دے ، صلہ رحمی کرے، آیت الکرسی پڑھے ، وصیت کرے اور تمام حقوق وغیرہ سے بری ہوکر سفر کے لیے روانہ ہو اور وہ شخص جو کسی مسلمان کو رخصت کرے اس کے لیے مستحب ہےکہ وہ رخصت کرتے ہوئے یہ کلمات پڑھے:”اَسْتَوْدِعُ اللّٰہ دِيْنَكَ وَاَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِكَیعنی میں تیرے دِین، تیری امانت اور تیرےآخری عمل کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں۔“اور اخلاص و یکسوئی کے ساتھ ان کلمات کی تکرار کرتا رہے اور جب وہ مسافر چلا جائے تو یہ کہے:”اَللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبَعِیْدَوَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَیعنی اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اس کے لیے دوری کو لپیٹ دے (یعنی اس کے سفر کو چھوٹا کردے) اور اس پر سفر کو آسان فرما دے۔“صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدآخری سلام کے لیے بارگاہِ عالی میں حاضری:مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَامسافر سے فرماتے کہ میرے قریب ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں اس طرح رخصت کروں جس طرح حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہمیں رخصت فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماپنے غلاموں کو بڑے اہتمام کے ساتھ رخصت فرماتے تھے۔مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”صحابہ کرام سفر کو جاتے وقت حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اس بارگاہِ عالی سے وَداع (رخصت)ہوتے تھے اُس وقت کا یہاں ذکر ہورہا ہے،اب بھی زائرین مدینہ منورہ سے چلتے وقت آخری سلام کے لیے روضۂ انور پر حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں:”اَلْوَدَاعُ اَلْوَدَاعُ یَارَسُوْلَ اللّٰہ اَلْفِرَاقُ اَلْفِرَاقُ یَاحَبِیْبَ اللّٰہ“ ہم نے ایک وَداعیہ قصیدہ عرض کیا تھا جس کے کچھ شعر یہ ہیں۔شعر
دور سے آئے تھے پردیسی غلام ……… عرض کرنے کو غلامانہ سلام
آستانہ سے وَداع ہوتے ہیں اب ……… یہ فرماؤ کہ بلواؤ گے کب
چشم رحمت سے نہ تم کریو جدا ……… رکھیو اپنے سایہ میں ہم کو سدا
اُس وقت جو دل کا حال ہوتا ہے وہ وَداع ہونے والا ہی جانتا ہے۔شعر
بدن سے جان نکلتی ہے آہ سینے سے ……… ترے فدائی نکلتے ہیں جب مدینے سے
روضہ اچھا زائر اچھے،اچھی راتیں،اچھے دن ……… سب کچھ اچھا ایک رخصت کی گھڑی اچھی نہیں
مذکورہ حدیثِ پاک میں جو دعا بیان کی گئی ہے اس دعا کا مطلب بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں:”یعنی خُدا تیرے دِین و ایمان و خاتمے کی حفاظت کرے،سب کچھ اس کے سُپرد ہے۔امانت سے مراد یا تو اعمالِ شرعیہ ہیں یا مسافروں کے آپس کے اَخلاق و مالی معاملات،چونکہ سفر میں کبھی آپس میں تلخی ترشی بھی ہو جاتی ہے اس لیے خصوصیت سے اس کا ذکر فرمایا۔اس دعا میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ اے مدینہ میں میرے پاس رہنے والے اب تک تو تُو میرے سایہ میں تھا کہ ہر مسئلہ مجھ سے پوچھ لیتا تھا، ہر مشکل مجھ سے حل کرلیتا تھا اب تُو مجھ سے دور ہورہا ہے کہ ہر حاجت میں مجھ سے پوچھ نہ سکے گا تو تیرا ہر کام خدا کے سپردہے۔ کیسی پیاری دعا ہے اورکیسی مبارک وَداع! آخر عمل سے مراد وقتِ موت ہے یعنی اگر اس سفر میں تجھے موت آئے تو ایمان پر آئے،تیری زندگی و موت رب کے حوالے۔مدنی گلدستہ’’جبل نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جب کوئی شخص سفر پر جانے کا ارادہ کرتا تو حضورعَلَیْہِ السَّلَاماسے بڑی محبت و شفقت کے ساتھ رخصت فرماتے تھے اور آپ کی پیروی کرتے ہوئے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی مسافروں کو بڑے اہتمام کے ساتھ رخصت کیا کرتے تھے۔
(2) مسافر کو دِین، جان و مال اور خاتمہ بالخیر کی دعا دےکر رخصت کرنا چاہیے۔
(3) جب کوئی شخص سفر پر روانہ ہورہا ہو تو اُسے ان کلمات کے ساتھ رخصت کرنا مستحب ہے:”اَسْتَوْدِعُ اللّٰہ دِيْنَكَ وَاَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِكَیعنیمیں تیرے دِین، تیری امانت اور تیرےآخری عمل کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں۔“
(4) سفر پر جانے والے کے لیے سنت ہے کہ جانے سے پہلے نیک اعمال بجالائے مثلاً توبہ کرے، نماز ادا کرے، صدقہ دے، صلہ رحمی کرے اور لوگوں کے حقوق ادا کرکے سفر پر روانہ ہو۔
(5) جب مسافر چلا جائے تو مقیم یہ دعا پڑھے:”اَللّٰهُمَّ اطْوِ لَهُ البَعِیْدَ وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَیعنی اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اس کے لیے دوری کو لپیٹ دے اور اس پر سفر کو آسان فرما دے۔‘‘
(6) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسفر کو جاتے وقت حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور اس بارگاہِ عالی سے رخصت ہوتے تھے، اب بھی زائرین مدینہ منورہ سے چلتے وقت آخری سلام کے لیے روضہ ٔانور پر حاضر ہوتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سفر پر جانے والے کو سنت کے مطابق رخصت کرنے کی تو فیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 715