- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- حدیث نمبر 713
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ سُلَیْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَيْنَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُوْنَ فَاَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِيْنَ لَيْلَةً وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيْمًا رَفِيْقًا فَظَنَّ اَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا اَهْلَنَا فَسَاَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ اَهْلِنَا فَاَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: اِرْجِعُوْا اِلَى اَهْلِيْكُمْ فَاَقِيْمُوْا فِيْهِمْ وَعَلِّمُوْهُمْ وَمُرُوْهُمْ وَصَلُّوْا صَلاَةَ كَذَا فِىْ حِيْنِ كَذَا وَصَلُّوْا صَلاَةَ كَذَا فِىْ حِيْنِ كَذَا فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ اَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ اَكْبَرُكُمْ. زَادَ الْبُخَارِيُّ فِیْ رِوَايَةٍ لَهُ: وَصَلُّوْا كَمَا رَاَيْتُمُوْنِيْ اُصَلِّي.
عن ابی سلیمان مالك بن الحويرث رضي الله عنه قال: اتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن شببة متقاربون فاقمنا عنده عشرين ليلة وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم رحيما رفيقا فظن انا قد اشتقنا اهلنا فسالنا عمن تركنا من اهلنا فاخبرناه فقال: ارجعوا الى اهليكم فاقيموا فيهم وعلموهم ومروهم وصلوا صلاة كذا فى حين كذا وصلوا صلاة كذا فى حين كذا فاذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم احدكم، وليؤمكم اكبركم. زاد البخاري فی رواية له: وصلوا كما رايتموني اصلي.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابوسلیمان مالِک بن حُوَیرِثرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم چند ہم عمر نوجوانرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے،بیس20 دن حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس رہے، آپعَلَیْہِ السَّلَامنہایت مہربان اور شفقت فرمانے والے تھے، آپ نے خیال فرمایا کہ ہمیں اپنے گھر لوٹنے کا اشتیاق ہوگا، اسی لیے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ہم سے ہمارے گھر والوں کے متعلق دریافت فرمایا جنہیں ہم چھوڑ کر آئے تھے تو ہم نے آپ کو (گھر والوں کے بارے میں) عرض کردیا، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ”اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ اور انہی کے ساتھ رہو اور انہیں اسلام کی تعلیم دو اور اچھی باتوں کا حکم دو اور فلاں نماز فلاں وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھو اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔“بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”اور ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“
شرح حدیث
گھرلَوٹنے کی اجازت دینے کی وجہ:حضرت سَیِّدُنا مالِک بِن حُوَیرثرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُچند ہم عمر اَفراد کے ہمراہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں (اَحکامِ دِین سیکھنے کے لیے) ایک وفد کی صورت میں حاضر ہوئے، اِن کا قیام بیس دن تک رہا۔ جب حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے محسوس فرمایا کہ انہیں اپنے گھر والوں یعنی بیوی بچوں اور گھر کے دیگر اَفراد کی یاد آرہی ہے تو آپ نے اُن لوگوں سے فرمایا کہ اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں گھر لوٹنے کی اجازت اِس لیے عطا فرمائی کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کی فرضیت منقطع ہوچکی تھی اور مدینہ شریف میں رہنا اُن پر لازم نہ تھا بلکہ اُن کی مرضی پر موقوف تھا کہ چاہیں تو رہیں یا چلے جائیں تو اُن میں سے بعض مدینے میں ہی رہے اور بعض ضروری علم حاصل کرنے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی نصیحتیں:حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں رخصت کرتے ہوئے چند نصیحتیں بھی فرمائیں۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ تم اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ اور انہیں میں رہو اور انہیں اسلام کی تعلیم دو اور انہیں اچھی بات کاحکم دو یعنی انہیں واجبات کی ادائیگی کا حکم دو اور حرام کاموں سے اجتناب کرنے کا کہو اور فلاں وقت میں فلاں نماز اور فلاں وقت میں فلاں نماز ادا کرو اور جب نماز کا وقت داخل ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک اذان دے اور جو تم میں بڑا ہو وہ امامت کرے۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”اس حدیث پاک میں اَذان، جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے پر اور اِس بات پر اُبھارا گیا ہے کہ جب سب لوگ بقیہ خصلتوں( یعنی علم و فضل) میں برابر ہوں تو امامت کے لیے اُس شخص کو آگے کیا جائے جو عمر میں سب سے بڑا ہو اور یہاں یہی معاملہ تھا کہ یہ سب اَفراد بقیہ خصلتوں میں برابر تھے کیونکہ ان سب نے ہجرت کی، سب اسلام لائے، سب نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صحبت اختیار کی اور بیس دن حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس رہے اور سب نے ایک ساتھ آپ سے علم حاصل کیا جب یہ سب چیزوں میں ہم پلہ تھے تو اب صرف ایک ہی چیز باقی رہتی ہے اور وہ عمر ہے اسی لیے حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ حکم ارشاد فرمایا کہ جو تم لوگوں میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کروائے۔ اور ایک جماعت نے اس حدیث پاک سے یہ استدلال کیا ہے کہ امامت کرانا مؤذنی سے افضل ہے کیونکہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی اذان دے دے لیکن امامت وہ کروائے جو سب میں بڑا ہو۔ نیز یہ اشخاص اپنے گھر جانے کے لیے سفر پر روانہ ہورہے تھے تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں اذان و جماعت کے التزام کا حکم ارشاد فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اذان و جماعت مسافر کے لیے بھی مشروع ہے اور سفر و حضر میں ان دونوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔حضورکاعمل قرآن کی تفسیر ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں بخاری شریف کے حوالے سے ایک روایت یہ بیان کی گئی تھی جس میں حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے اُن لوگوں کو حکم دیا کہ تم اس طرح نماز پڑھنا جس طرح مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے یعنی تمام شرائط و اَرکان کا لحاظ کرتے ہوئے میرے طریقے پر نماز ادا کرنا۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”سُبْحَانَ اﷲ!کیسا ایمان اَفروزکلمہ ہے یعنی میں اور میرے اَفعال قرآن کی بولتی ہوئی تفسیر ہیں،رب نے صِرف نماز کا حکم دیا،طریقہ ٔاَدا نہ بتایا،فرمایا جارہا ہے:اَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَکی تفسیرمیں ہوں اورمیرا عمل،سارے قرآن کایہی حال ہے۔“مدنی گلدستہ’’سبزگنبد‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) ابتدائے اِسلام میں مسلمان وُفود کی صورت میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خدمت میں اَحکامِ دِین سیکھنے کے لیے حاضر ہوا کرتے تھے۔
(2) حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنہایت مہربان و رَحم دِل ہیں جب آپ نے خیال فرمایا کہ دِین سیکھنے کے لیے آئے ہوئے مسلمانوں کو گھروالوں کا اشتیاق ہے تو آپ نے انہیں گھر لوٹنے کا حکم اِرشاد فرمادیا۔
(3) فتحِ مکہ کے بعد ہجرت کی فرضیت منقطع ہوچکی تھی اس کے بعد مدینے شریف میں قیام کرنا مسلمانوں کی مرضی پر موقوف تھا کہ چاہیں تو مدینے شریف میں ہی رہیں یا اپنے گھر چلے جائیں۔
(4) جب وفد کے لوگ واپس اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تو حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں چند نصیحتیں فرمائیں کہ اپنے گھروالوں کو دِین کی تعلیم دینا، اچھے کاموں کا حکم دینا، نماز کا وقت آئے تو اذان دینا اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اور ایسے نماز ادا کرنا جیسے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(5) جب سب علم و فضل میں برابر ہوں تو امامت کے لیے اُسے آگے کیا جائے جو عمر میں سب سے بڑا ہو۔
(6) سفر و حضر میں اذان و جماعت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(7) حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا کہ ایسے نماز پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔معلوم ہوا کہ حضور کا عمل قرآنِ کریم کی تفسیر ہے، قرآن کہتا ہے: نماز قائم کرو۔ حضور فرماتے ہیں: میری نماز کی نقل کرو، اِسی طرح قرآن میں جس عمل کا بھی حکم دیا گیا وہ تمام اَعمال حضورعَلَیْہِ السَّلَامکی سیرت میں موجود ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دِین سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا فرمائے اور سفر و حضر میں اذان و جماعت کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 713