باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

مذکورہ باب کی احادیث میں سے حضرت سَیِّدُنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوالی حدیث بھی ہے کہ جورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اَہل بیت کرام کی تعظیم والے باب میں گزرچکی ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا زید بن ارقمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد و ثنا کی اور لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا: ”خبردار اے لوگو! میں ایک انسان ہوں، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اُس کا پیغام قبول کرلوں، میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں، اُن میں سے پہلی تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے پس تماللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو۔“چنانچہ آپ نےکِتَابُ اللّٰہپر عمل کرنے پر ابھارا ور اس کی رغبت دلائی۔پھر فرمایا: ”اور میرے اَہل بیت، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلقاللّٰہسے ڈراتا ہوں۔“

وَاَمَا اْلاَحَادِيْثُ فَمِنْهَا:حَدِيْثُ زَيْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّذِيْ سَبَقَ فِيْ بَابِ اِكْرامِ اهْلِ بَيْتِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْنَا خَطِيْبًا فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنٰی عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ:اَمَّا بَعْدُ! اَلَا اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُوْشِكُ اَنْ يَاْتِيَ رَسُوْلُ رَبِّيْ فَاُجِيْبَ وَاَنَا تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ:اَوَّلُهُمَا:كِتَابُ اللهِ فِيْهِ الْهُدٰى وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوْا بِهِ“ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيْهِ، ثُمَّ قَالَ:وَاَهْلُ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 712 ، باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابوسلیمان مالِک بن حُوَیرِثرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم چند ہم عمر نوجوانرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے،بیس20 دن حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس رہے، آپعَلَیْہِ السَّلَامنہایت مہربان اور شفقت فرمانے والے تھے، آپ نے خیال فرمایا کہ ہمیں اپنے گھر لوٹنے کا اشتیاق ہوگا، اسی لیے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ہم سے ہمارے گھر والوں کے متعلق دریافت فرمایا جنہیں ہم چھوڑ کر آئے تھے تو ہم نے آپ کو (گھر والوں کے بارے میں) عرض کردیا، آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا: ”اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ اور انہی کے ساتھ رہو اور انہیں اسلام کی تعلیم دو اور اچھی باتوں کا حکم دو اور فلاں نماز فلاں وقت میں اور فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھو اور جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔“بخاری کی ایک روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: ”اور ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“

عَنْ اَبِیْ سُلَیْمَانَ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَتَيْنَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُوْنَ فَاَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِيْنَ لَيْلَةً وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيْمًا رَفِيْقًا فَظَنَّ اَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا اَهْلَنَا فَسَاَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا مِنْ اَهْلِنَا فَاَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: اِرْجِعُوْا اِلَى اَهْلِيْكُمْ فَاَقِيْمُوْا فِيْهِمْ وَعَلِّمُوْهُمْ وَمُرُوْهُمْ وَصَلُّوْا صَلاَةَ كَذَا فِىْ حِيْنِ كَذَا وَصَلُّوْا صَلاَةَ كَذَا فِىْ حِيْنِ كَذَا فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ اَحَدُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ اَكْبَرُكُمْ. زَادَ الْبُخَارِيُّ فِیْ رِوَايَةٍ لَهُ: وَصَلُّوْا كَمَا رَاَيْتُمُوْنِيْ اُصَلِّي.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 713 ، باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان

امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عمرہ کے لیے جانے کی اجازت مانگی تو آپعَلَیْہِ السَّلَامنے اجازت عطا کی اور ارشاد فرمایا: ”اے میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھول نہ جانا۔“ حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ ایسی بات ارشاد فرمائی کہ اس کے بدلے مجھے پوری دنیا بھی مل جائے تو خوشی نہ ہو۔اور ایک روایت میں ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”اے بھائی! ہمیں بھی اپنی دعا میں شریک کرلینا۔“

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اِسْتَاْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعُمْرَةِ فَاَذِنَ وَقَالَ:لَا تَنْسَنَا يَا اُخَيَّ مِنْ دُعَائِكَ، فَقَالَ: كَلِمَةً مَا يَسُرُّنِيْ اَنَّ لِيْ بِهَا الدُّنْيَا.وَفِيْ رِوَايَةٍ قَالَ:اَشْرِكْنَا يَااُخَيَّ في دُعَائِكَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 714 ، باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا سالِم بنعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْسے روایت ہے جب کوئی شخص سفر پر جانے کا ارادہ کرتا تو حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَااس سے فرماتے کہ میرے قریب ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں اس طرح رخصت کروں جس طرحرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں رخصت فرماتے تھے، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے: ”میں تیرے دِین، تیری امانت اور تیرےآخری عمل کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سپرد کرتا ہوں۔“

عَنْ سَالِم بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُوْلُ لِلرَّجُلِ اِذَا اَرَادَ سَفَرًا: اُدْنُ مِنِّيْ حَتّٰى اُوَدِّعَكَ كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یُوَدِّعُنَا فَيَقُوْلُ:اَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكَ وَاَمَانَتَكَ وَخَوَاتِيْمَ عَمَلِكَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 715 ، باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان

صحابی رسول حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن یزید خطمیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب کسی لشکر کو رخصت کرنا چاہتے تو فرماتے: ”میں تمہارے دِین، تمہاری امانت اور تمہارے آخری اَعمال کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے سُپرد کرتا ہوں۔“

عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ يَزِيْدَ الْخَطْمِيّ الصَّحَابِیِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادَ اَنْ يُوَدِّعَ الْجَيْشَ قَالَ:اَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمْ وَاَمَانَتَكُمْ وَخَواتِيْمَ اَعْمَالِكُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 716 ، باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں سفر کرنا چاہتا ہوں مجھے زادِ راہ عنایت فرمائیے۔آپعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے۔“ اُس نے عرض کی:زیادہ دیجئے۔فرمایا: ”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے گناہ بخش دے۔“عرض کی:اور زیادہ عطا کیجئے۔ فرمایا: ”تم جہاں کہیں بھی ہواللّٰہ عَزَّوَجَلَّتمہارے لیے بھلائی کو آسان کردے۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اِنِّي اُرِيْدُ سَفَرًا فَزَوِّدْنِیْ فَقَالَ: زَوَّدَكَ اللَّهُ التَّقْوَى، قَالَ: زِدْنِيْ، قَالَ: وَغَفَرَ ذَنْبَكَ، قَالَ: زِدْنِيْ، قَالَ: وَيَسَّرَ لَكَ الْخَيْرَ حَيْثُمَا كُنْتَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 717 ، باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان