Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 432

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِیَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللهُ اِلَى كُلِّ مُسْلِـمٍ يَهُودِيًّا اَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ : هٰذَا فِكَاكُكَ مِنَ النَّارِ. ( ) وَفي رِوَايَةٍ عَنْهُ عَنِ النَّبیِّ صَلَّى اللهُ

عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَجِيْءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ بِذُنُوبٍ اَمْثَالِ الْجبَالِ يَغْفِرُهَا الله لَهُمْ. ( )

عن ابي موسى الاشعري رضی الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اذا كان يوم القيامة دفع الله الى كل مسلـم يهوديا او نصرانيا فيقول : هذا فكاكك من النار. ( ) وفي رواية عنه عن النبی صلى الله

عليه وسلم قال : يجيء يوم القيامة ناس من المسلمين بذنوب امثال الجبال يغفرها الله لهم. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰ اَشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جب قیامت برپا ہوگی تواللہ عَزَّ وَجَلَّہرمسلمان کو ایک یہودی یا عیسائی دے کر ارشاد فرمائے گا یہ تیرے لیے جہنم سے بچنے کا فدیہ ہے ۔ ‘‘ اور ایک اور روایت میں حضرت سَیِّدُنَا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ہی مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑ کے برابر گناہ لے کر آئیں گےاللہ عَزَّوَجَلَّاُن کے گناہوں کو معاف فرمادے گا ۔ ‘‘

شرح حدیث

کفار کو فدیہ بنائے جانے کی وجہ :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : حدیث پاک میں جو یہ بیان ہوا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّہر مسلمان کو ایک یہودی یا عیسائی دے کر ارشاد فرمائے گا : یہ تیرے لیے جہنم سے بچنے کا فدیہ ہے ۔ “اس کا مطلب وہ ہے جو حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں ہے کہ : ” ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں ہے ، جب مؤمن جنت میں چلا جاتا ہے تو جہنم میں اس کی جگہ کافر کو ڈال دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے کفر کی وجہ سے جہنم کا مستحق ہوچکا تھا ۔ “ حدیث کے لفظفِكَاكُكَکا مطلب یہ ہے کہ ’’تجھے جہنم پر پیش کیا جائے گا تو یہ تیرا فدیہ ہوگا کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّنے ایک تعداد مقرر فرمادی ہے جس سے وہ جہنم کو بھرے گاتو جب کفار اپنے گناہوں اور کفر کی وجہ سے جہنم میں داخل ہوں گے تو گویا کہ وہ مسلمانوں کے لیے فدیہ ہوگئے ۔ ‘‘ ( )
¥
دو خوشخبریاں :مذکورہ روایات میں دو قسم کی بشارتیں ہیں : ایک تو یہ کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکافر کو مسلمان کے لیے آگ سے بچنے کا فدیہ بنادے گا ۔ دوسری بشارت یہ کہ بعض مسلمان قیامت کے دن پہاڑ کے برابر گناہ لے کر آئیں گےاللہ عَزَّوَجَلَّاپنے کرم سے اُنہیں مُعاف فرمادے گا ۔مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’فَكٌّکے معنیٰ ہیں گروی چیز کو چھڑانا ،فِکَاكوہ مال ہے جو دے کر گروی چیز چھڑائی جاوے ۔ ہرشخص کے لیے ایک ٹھکانہ دوزخ میں ہے دوسرا جنت میں ، مؤمن جنت میں اپنا ٹھکانا بھی لے گا اور کسی کافر کا بھی اور کافر دوزخ میں اپنا مقام بھی لے گا اورکسی مؤمن کا بھی ۔ یہاں یہ ہی مطلب ہے کہ اے مؤمن تو جنت میں اپنا ٹھکانہ بھی لے اور اس یہودی عیسائی کا بھی ، یہ تیرے لیے ایسا ہے جیسے گروی چیز کافِکَاک۔ چونکہ عیسائی یہودی مسلمانوں سے قریب ہوتے ہوئے بھی دور رہے تھے اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر ہوا ، یہ مطلب نہیں کہ مسلمان کے گناہوں کے عوض کافر دوزخ میں جاوے گا کہ یہ اسلامی قانون کے خلاف ہے : (αلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ-) ( ) (پ۸ ،الانعام: ۱۶۴ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی ۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز اور حضرت سَیِّدُنَا امام شافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاسے مروی ہے کہ’’اس حدیث میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ اس میں تصریح ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّہر مسلمان کو جنت میں داخل کرے گا اور اس کے بدلے میں ایک یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥
ربّ سے بلند درجات کا سوال کرو :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ربّ تعالیٰ کی رحمت بہت بڑی ہے ، اپنے پاک پروردگار عزوجل سے بلندی درجات کا سوال کرتے رہنا چاہیے ۔ چنانچہ رسولِ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّسے بلند درجات کا سوال کیا کرو اس لیے کہ تم کریم ( یعنی کرم فرمانے والی ذات ) سے سوال کررہے ہو ۔ ‘‘ ( ) ایک حدیث پاک میں ہے کہ’’جب تماللہ عَزَّوَجَلَّسے سوال کرو تو اس سے فردوس اعلیٰ کا سوال کرو ۔ ‘‘ ( )
یاخدا میری مغفرت فرما ……… باغِ فردوس مرحمت فرما
موت ایماں پہ دے مدینے میں ……… اور محمود عاقبت فرما
مدنی گلدستہ
’’فاروق ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
کل بروزِ قیامتاللہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں پراپنا خاص فضل وکرم فرمائے گا ۔
(2) اگر کسی کے گناہ پہاڑ کے برابر بھی ہوں تب بھی اسے رحمتِ خدا وندی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
(3) کفار مسلمانوں کا فدیہ بن کر واصل جہنم ہوں گے کہ وہ جہنم ہی کے مستحق ہیں ۔
(4) کفار اپنے کفر اور اَعمال کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے نہ کہ مسلمانوں کے گناہوں کی وجہ سے ۔
(5) قیامت کے دن کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھا ئے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حشر کی ذِلَّت ورُسوائی سے محفوظ فرمائے ، پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے ، جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 432