Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 431

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَن ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِّنْ اَرْبَعِينَ فَقَالَ : اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا رُبُعَ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ! قَالَ : اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا : نَعَمْ ! فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، اِنِّي لَاَرْجُو اَنْ تَكُونُوا نِصْفَ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَذٰلكَ اَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا اِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا اَنْتُمْ فِي اَهْلِ الشِّرْكِ اِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ ، اَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَحْمَرِ. ( )

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة نحوا من اربعين فقال : اترضون ان تكونوا ربع اهل الجنة؟ قلنا : نعم ! قال : اترضون ان تكونوا ثلث اهل الجنة؟ قلنا : نعم ! فقال : والذي نفس محمد بيده ، اني لارجو ان تكونوا نصف اهل الجنة وذلك ان الجنة لا يدخلها الا نفس مسلمة وما انتم في اهل الشرك الا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الاسود ، او كالشعرة السوداء في جلد الثور الاحمر. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم چالیس ( 40 ) کے قریب اَفراد حضورسرورِ دوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک خیمہ میں حاضر تھے ، سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم سے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات پر راضی ہوکہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟ ‘‘ ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی جان ہے ! مجھے اُمید ہے کہ تم اہل

جنت کا نصف حصہ بنو گے کیونکہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری تعداد ایسے ہوگی جیسا کہ سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال یاسرخ بیل کے چمڑے میں سیاہ بال ۔ ‘‘

شرح حدیث

اُمَّتِ محمدیہ کے لیے بشارت عظمٰی :اس حدیث پاک میں اُمَّتِ محمدیہ کے لیے بڑی بشارت ہے کہ جنت میں سب سے زیادہ تعداد اُمتِ محمدیہ کی ہوگی نیزرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے ہیں کہ جنت میں کس اُمَّت کی کتنی تعداد ہوگی جبھی تو بتادیا کہ جنتیوں میں آدھے جنتی اِس اِمَّت کے ہوں گے بلکہ بعض احادیث مبارکہ میں تو اس بات کا بھی بیان ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجنتیوں کے نام ، ان کے والد ، ان کے قبائل اور پھر ان سب کا ٹوٹل ، اسی طرح جہنمیوں کے نام ، ان کے والد ، ان کے قبائل اور پھر ان سب کا ٹوٹل بھی جانتے ہیں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّکے محبوب ، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علمِ غیب کی تفصیلی معلومات کے کے لیے اعلیٰ حضرترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مایہ ناز تصنیف ’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ‘‘ کا مطالعہ فرمائیے ۔
¥
کیا یہ بات یقینی نہیں ہے ؟حدیث پاک میں فرمایا : ” مجھے اُمید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ بنو گے ۔ “ اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات یقینی نہیں ہے بلکہ اُمید ہے شاید ایسا ہوجائے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّو رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کلام میں شک و شبہ نہیں ہوتا ، نیز یہ بادشاہوں کا طریقہ ہے کہ وہ جب کسی کو کوئی چیز دینے کا عزم کرتے ہیں تو ایسے کلمات کہتے ہیں کہ شاید تمہیں یہ چیز دے دی جائے حالانکہ وہ اس چیز کے دینے کا پکا ارادہ کر چکے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں کہ جب بھیاللہ عَزَّوَجَلَّیا حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اُمید جیسے کلمات صادر ہوں تو وہاں یقینی اور قطعی معنیٰ مراد ہوتے ہیں یعنی وہ بات ہوکر ہی رہے گی ، حدیث میں یقینی کلمے کے بجائے رجاء کا کلمہ ذکر کیا کیونکہ بادشاہوں کا طریقہ ہے کہ جس کام کو یقینی کرنا ہوتا اس کے لیے کہتے کہ شاید تمہیں یہ چیز دے دی جائے ۔ علامہ قرطبیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : یہ طماعیت ( خواہش دلانا )اللہ عَزَّوَجَلَّکے اِس فرمان میں بھی ہے : (وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵)) (پ۳۰ ،الضحی:۵ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور بے شک

قریب ہے کہ تمہارا ربّ تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے ۔ ‘‘ اس بشارت کو یقینی الفاظ کے بجائے طمعیت کے الفاظ کے ساتھ بیان فرمانے کی دو2 وجوہات ہیں : ایک یہ کہ بارگاہِ الٰہی کے آداب کا لحاظ کرتے ہوئے اور دوسری وجہ یہ کہ بندے اَحکامِ الٰہی پر کاربند رہیں ۔ ‘‘ ( ) ( کیونکہ اگر یقینی اَلفاظ کے ساتھ ذکر کر دیا جاتا تو ہوسکتا تھا کہ لوگ اسی پر تکیہ کرلیتے اور اَعمال چھوڑ دیتے ۔ )
¥
اُمّت محمدیہ پر خاص عنایت :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیارشاد فرماتے ہیں : ’’سرکارِمدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاپہلے چوتھائی پھرتہائی پھر نصف ارشاد فرمانے میں حکمت یہ ہے کہ ایسی بات عموماً دل میں زیادہ اثر کرتی ہے اور اِس میں اُمَّت کا اِکرام بھی زیادہ ہے ، نیز انسان کو ایک مرتبہ دینے کے بعد دوبارہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اُس پر خاص توجہ ہے اور وہ ہمیشہ نظر میں ہی رہتا ہے ۔ ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں تکرار یعنی پہلے ایک خوشخبری دینے کے بعد دوسری خوشخبری دیناہے دوسرا فائدہ یہ ہے کہ کثرتِ نعمت پر بار باراللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرنے اور اُس کی حمد وتکبیر بیان کرنے پر برانگیختہ کرنا ہے ( کیونکہ اگر ایک بار خوشخبری سنائی جاتی تو ایک بار ہیاللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر اور حمد ہوتی بار بار سنائی تاکہ حمدوشکر بھی زیادہ ہو ) ایک حدیث یہ بھی ہے کہ جنتیوں کی ایک سو بیس ( 120 ) صفیں ہوں گی جن میں سے اسّی ( 80 ) صفیں اِس اُمَّت کی ہوں گی ۔ ‘‘ ( )
¥
چار درہم کے عوض چار دعائیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اللہ عَزَّ وَجَلَّکا اس اُمَّت محمدیہ پر بڑا احسان وفضل وکرم ہے کہ سب سے زیادہ جنتی اسی اُمَّت سے ہوں گے ۔ ربّ تعالیٰ کی رحمت کے کیا کہنے ! جب رحمت خداوندی جوش پر آتی ہے تو بڑے بڑے گناہگاروں کی بخشش ومغفرت کردی جاتی ہے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ ایک شخص بہت زیادہ شراب پیا کرتا تھا ۔ ایک دن اس نے اپنے ہم نشینوں کو جمع کیا اور غلام کو چاردرہم دے کر کر کہا : ’’اہل محفل کے لیے کچھ پھل خرید لاؤ ۔ ‘‘ غلام حضرت سَیِّدُنَا منصور بن عمارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکی مجلس کے پاس سے گزرا تو

حضرت سَیِّدُنَا منصور بن عمار
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّاراس وقت کسی حاجت مند کے لیے کچھ مانگ رہے تھے اور فرمارہے تھے کہ ’’جو اسے چار درہم دے گا میں اس کے لیے چار دعائیں کروں گا ۔ ‘‘ غلام نے چار درہم دے دیے ۔ حضرت سَیِّدُنَا منصور بن عمارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارنے اس سے پوچھا : ’’تم اپنے لیے کیا دعا کرانا چاہتے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’میرا ایک آقا ہے اس سے چھٹکارا چاہتاہوں ۔ ‘‘ آپ نے اس کی آزادی کے لیے دعا کردی اور پوچھا کہ دوسری دعا کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے اِن چار درہم کا عوض عطا کر دے ۔ ‘‘ آپ نے یہ دعا بھی کردی اور دریافت کیا کہ تیسری دعا کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّمیرے آقا کو توبہ کی توفیق دے ۔ ‘‘ آپ نے آقا کے لیے بھی دعا کردی ، پھر پوچھا کہ چوتھی دعا کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّمیری ، میرے آقا کی ، آپ کی اور حاضرین مجلس کی مغفرت فرمائے ۔ ‘‘ آپ نے یہ دعا بھی کردی ۔ غلام جب واپس لوٹا تو آقا نے تاخیر کا سبب پوچھا تو اس نے سارا واقعہ بیان کردیا ۔ آقا نے پوچھا کہ : ’’تم نے کون کون سی دعائیں کروائی ہیں؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’پہلی دعا یہ تھی کہ مجھے آزادی مل جائے ۔ ‘‘ آقا نے کہا : ’’جا تو آزاد ہے ۔ ‘‘ غلام نے عرض کی : ’’دوسری دعا یہ تھی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے ان دراہم کا بدلہ عطا فرمائے ۔ ‘‘ آقا نے کہا : ’’تیرے لیے چار ہزار درہم ہیں ۔ ‘‘ غلام نے کہا : ’’تیسری دعا یہ تھی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو توبہ کی توفیق عطا فرمائے ۔ ‘‘ آقا نے کہا : ’’میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ ‘‘ غلام نے عرض کی : ’’چوتھی دعا یہ تھی کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمیری ، آپ کی ، حاضرین مجلس اور واعظ ( یعنی حضرت سَیِّدُنَا منصور بن عمارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار) کی مغفرت فرمائے ۔ ‘‘ آقا نے کہا : ’’یہ چوتھی بات میرے اختیار میں نہیں ہے ۔ ‘‘ رات کو جب وہ سویا تو خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا ہے : ’’تیرے اختیار میں جو کچھ تھا وہ تونے کیا ، تیرا کیا خیال ہے جو میرے اختیار میں ہے وہ میں نہیں کروں گا ، میں نے تیری ، غلام کی ، منصور بن عمار کی اور تمام حاضرین کی مغفرت فرمادی ۔ ‘‘ ( )
طالبِ مغفرت ہوں
یااللہ……… بخش حیدر کا واسطہ یاربّ
سب نے ٹھکرا دیا تو کیا پرواہ ……… مجھ کو تیرا ہی آسرا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’الفردوس ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
حضورنبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے نہ صرف جنتیوں کی تعداد جانتے ہیں بلکہ جنتیوں کے نام ، ان کے قبائل کے نام اور کل جنتیوں کو بھی جانتے ہیں ۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کلام میں لفظ ” شاید“ شک و شبہ کے لیے نہیں ہوتا بلکہ یقین کے لیے ہوتا ہے ۔
(3) ہم جب کسی چیز کو بیان کریں تو درجہ بدرجہ بیان کریں اس سے چیز کی اہمیت سامع کے ذہن میں بیٹھ جاتی جیسا کہ حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جنت کا بیان فرمایا ۔
(4) جنت میں سرکار
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اُمَّت کی تعدادسب سے زیادہ ہوگی ۔
(5) جنت میں صرف مسلمان جائیں گے کافر کسی صورت جنت میں نہیں جائے گا ۔
(6) کل بروزِ قیامت کافروں کی تعدادمسلمانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگی ۔
(7) ہر ہر نعمت پر بار بار شکرِ الٰہی بجالانا چاہیے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کل بروز قیامت بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 431