Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 421

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی قَالَ : أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَاَذْنَبَ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَاَذْنَبَ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ فَلْیَفْعَلْ مَا شَاءَ. ( )
وَقَوْلُہُ تَعَالٰی : فَلْیَفْعَلْ مَا شَاءَ اَیْ : مَا دَامَ یَفْعَلُ ھٰکَذَا یُذْنِبُ وَ یَتُوْبُ اَغْفِرُ لَہُ فَاِنَّ التَّوْبَۃَ تَھْدِمُ مَا قَبْلَھَا.

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يحكي عن ربه تبارک و تعالی قال : أذنب عبد ذنبا فقال : اللهم اغفر لي ذنبي فقال اللہ تبارك وتعالى : اذنب عبدي ذنبا فعلم ان له ربا يغفر الذنب وياخذ بالذنب ثم عاد فاذنب فقال : اي رب اغفر لي ذنبي فقال تبارك وتعالى : اذنب عبدي ذنبا فعلم ان له ربا يغفر الذنب وياخذ بالذنب ثم عاد فاذنب فقال : اي رب اغفر لي ذنبي فقال تبارك وتعالى : اذنب عبدي ذنبا فعلم ان له ربا يغفر الذنب وياخذ بالذنب قد غفرت لعبدی فلیفعل ما شاء. ( )
وقولہ تعالی : فلیفعل ما شاء ای : ما دام یفعل ھکذا یذنب و یتوب اغفر لہ فان التوبۃ تھدم ما قبلھا.

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے حکایت کرتے ہیں کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّنے ارشادفرمایا : ایک بندے نے گناہ کیا ، پھر کہا : اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! میرے گناہ کو بخش دے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اورگناہوں پر پکڑ بھی فرماتا ہے ، پھر وہ بندہ دوبارہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا

بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ پس میں نے اپنے بندے کو بخش دیااب وہ جو چاہے کرے ۔ ‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمان ” اب وہ جو چاہے کرے “ کا مطلب یہ ہے کہ یعنی اگر وہ ساری زندگی اسی طرح کرتا رہے یعنی پہلے گناہ کرے پھرتوبہ کرے تو میں اس کی توبہ کو قبول کروں گا کیونکہ توبہ ما قبل کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ۔

شرح حدیث

ربّ کریم بڑا غفور رحیم ہے :اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ ’’جو بار بار گناہ کرتا ہے اس کا معاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مشیت پر ہے ، وہ چاہے تو اُسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے معاف فرمادے اُس خوف کے غلبے کی وجہ سے جس خوف کے ساتھ وہ آیا ہے اور وہ اس کا یہ اعتقاد ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو اسے عذاب دینے پر بھی قادر ہے اور معاف کرنے پر بھی اور بندے کا رب سے اِستِغفار کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتا ہے ۔ ‘‘ ( ) ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’یعنی زبان سے بھی کہتا ہے اورعمل سے بھی کہ گزشتہ پرنادم ہوتا ہے اور آئندہ کے لیے بچنے کا عہد کرتا ہے اور بقدرِ طاقت گذشتہ گناہ کا کفارہ بھی ادا کردیتا ہے لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ لوگوں کے مال مار کر فقط کہہ دو معافی ہوگئی ۔ ‘‘ ( )
¥
اِستِغفار میں بڑا فائدہ ہے :” فتح الباری“ میں ہے : ” علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اِستِغفار کا فائدہ بہت بڑا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکا فضل بہت بڑا ہے ، نیز اُس کی رحمت ، اُس کا حلم اور اُس کا کرم بہت وسیع ہے لیکن مراد وہ اِستِغفار ہے جو دل میں ایسا پختہ ہو چکا ہو کہ جس سے اِصرار ( بار بارگناہ کرنے ) کی گرہ کھل جائے اور ساتھ ساتھ ندامت بھی ہو ۔ پس یہی توبہ کا معنیٰ ہے اور اس پر یہ حدیث بھی شاہد ہے کہ ” تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو فتنے میں مبتلا ہونے کے بعداللہ عَزَّ وَجَلَّسے بہت توبہ کرنے والے ہیں ۔ “اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص بار بار گناہ کرے اور توبہ بھی کرے یعنی جب بھی وہ گناہ میں

مبتلا ہو توفوراً توبہ کرلے لیکن توبہ اُس شخص کی طرح نہ ہو جو صرف زبان سے کہہ دے : ” میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ اور اُس کا دل اُس گناہ پر قائم ہو ، ایسے اِستِغفار کو تو خود اِستِغفار کی حاجت ہے ۔ “ مزید فرماتے ہیں : ” اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ ( گناہ سے توبہ کر کے پھر ) گناہ کی طرف لوٹنا گناہ کی ابتدا کرنے سے زیادہ بُرا ہے کیونکہ اس میں گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ توبہ کو بھی توڑنا ہے لیکن ایک مرتبہ توبہ کر کے پھر توبہ کرنا ابتداءً توبہ کرنے سے اچھا ہے کیونکہ توبہ میں
اللہ عَزَّوَجَلَّسے التجاء کرنا ، گڑ گڑا کر سوال کرنا اور اس بات کا اعتراف کرنا ہے کہ اُس کے سِوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ۔ “ ( ) ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ” یعنی توبہ کے وقت تو اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ کبھی گناہ نہ کروں گا پھر کر بیٹھا لہٰذا حدیث ، قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں : (وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا)گناہ پر اصرار اور ہے اور بار بار گناہ ہوجانا اور ، توبہ کرتے رہنا کچھ اور ۔ ‘‘ ( )
میں کر کے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کر دے شَرَف عطا یاربّ
¥
ہزار بار توبہ قبول :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگر بندہ سو 100بار گناہ کرے یا ہزار 1000بار کرے یا اس سے بھی زیادہ کرے اور ہر دفعہ گناہ کے بعد توبہ کرلے تو اُس کی توبہ قبول ہو جائے گی اور اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور اگر وہ تمام گناہوں کے بعد ایک ہی بار توبہ کرلے تب بھی اس کی توبہ صحیح ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( )
کر کے توبہ میں پھر گناہوں میں ……… ہو ہی جاتا ہوں مبتلا یاربّ
¥
توبہ کے ارادے سے گناہ کرنا کفر ہے :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی تو گناہ کرنے کا عادی اور میں بخشنے کا عادی ، جب تو گناہ سے بازنہیں آتا تو میں اپنے بخشنے کی عادت کیوں چھوڑ

دوں ، تو کرتا جا میں بخشتا جاؤں ، یہ فرمان گناہوں کی اجازت دینے کے لیے نہیں بلکہ وُسعت مغفرت کے اِظہار کے لیے ہے ۔ یعنی اس طرح بندہ اگر لاکھوں بار گناہ کرے گا میں بخش دوں گا کہ ہر توبہ کے وقت آئندہ گناہ نہ کرنے کا ہی عہد ہو مگر پھر کر بیٹھے لہٰذا حدیث بالکل ظاہر ہے ۔ توبہ کے اِرادے سے گناہ کرنا کفر ہے کہ چلو گناہ میں حرج ہی کیا ہے ، کل توبہ کرلیں گے ۔ یہ توبہ نہیں بلکہ شریعت کا مذاق اڑانا ہے اور خدائے تعالیٰ پر اَمن ( یعنی نڈر ہونا ) ، یہ دونوں باتیں کفر ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ایسے توبہ کرنے والے کو ربّ تعالیٰ اپنی امن میں لے لیتا ہے کہ پھر اس سے گناہ ہوتے ہی نہیں ، پھر فرمایا جاتا ہے کہ جو چاہے کرے جیسے پرندے کا پر کاٹ کر اس سے کہو کہ جا اُڑتا پھر ۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’اِستِغفار ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)
گناہوں سے توبہ و اِستِغفار ایسا ہو کہ بندہ پھر گناہ کی طرف نہ پلٹے ، سچے دل سے توبہ کرے ۔
(2) گناہ سے زبانی توبہ کرنا اور دل کا اُسی گناہ پر قائم رہنا توبہ نہیں بلکہ توبہ کا مذاق ہے ۔
(3) گناہ سے توبہ کر کے پھر اسی گناہ کو کرنا پہلی دفعہ گناہ کرنے سے زیادہ بُرا ہے ۔
(4) توبہ کے بعد دوبارہ توبہ کرنا پہلی دفعہ توبہ کرنے سے زیادہ اچھا ہے ۔
(5) اگر بندہ ہزار بار گناہ کرے اور ہزار بار توبہ کرے تب بھی اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔
(6) توبہ کے ارادے سے گناہ کرنا کہ بعد میں توبہ کرلوں گا کفر ہے ۔
(7) ∞شریعت کا مذاق اڑانا کفر ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچی پکی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 421