Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 437

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيْءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيْءُ اللَّيْلِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا. ( )

عن ابي موسى الاشعری رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : ان الله تعالی يبسط يده بالليل ليتوب مسيء النهار ويبسط يده بالنهار ليتوب مسيء الليل حتى تطلع الشمس من مغربها. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّرات بھر اپنا دستِ رحمت پھیلائے رکھتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن بھر اپنا دستِ رحمت پھیلائے رکھتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والاتوبہ کرے ، ( یہ کرم نوازی اُس وقت تک ہوتی رہے گی ) حتّٰی کہ سورج مغرب سے طلوع کرے ۔ ‘‘

شرح حدیث

آخری سانس تک مغفرت کی اُمید :مذکورہ حدیث باب التوبہ ( فیضانِ ریاض الصالحین ، جلداول ، ص۱۸۶ ، حدیث نمبر : ۱۶ ) میں بھی گزر چکی ہے یہاںعَلَّامَہ نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیباب الرجا میں اس حدیث کو دوبارہ لے کر آئے ہیں کیونکہ اس میں گناہگاروں کے لیے بخشش کی اُمید کا بھی سامان ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت بہت وسیع ہے ، بندے کو آخری سانس تک مہلت دی ہوئی ہے کہ توبہ کرکے اپنی مغفرت کروالے ،اللہ عَزَّوَجَلَّاُسے بخش دے گا ۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’توبہ کی قبولیت کا کوئی وقت خاص نہیں ہے ۔ حدیث میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاتھ پھیلانے سے مراد توبہ کا قبول کرنا ہے ۔بَسْط یَداس لیے کہا کیونکہ اہلِ عرب کا یہ طریقہ ہے کہ جب اُن میں سے کوئی کسی چیز پر راضی ہوتا ہے تو اُسے قبول کرنے کے لیے ہاتھ کو بڑھاتا ہے اورجب کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے تو اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور یہاں پر ہاتھ کا لفظ مجازاً استعمال کیا گیا ہے کیونکہ جسمانی ہاتھاللہکے لیے محال ہے ( کیونکہ وہ جسم سے پاک ہے ) ۔ ‘‘ ( )
¥
توبہاللہکو مطلوب و محبوب ہے :مذکورہ حدیث پاک سے پتہ چلا کہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے قبل توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، چاہے کوئی کتنا ہی بڑا گناہگار ہو ، اگر وہ توبہ کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت اُسے مایوس نہیں کرے گی ، اس کی رحمت بہت وسیع ہے ۔ وہ اسے معاف فرمادے گا ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’حدیث کا مقصد گناہگاروں کو توبہ کی طرف بلانا ہے اور یہ کہاللہ عَزَّوَجَلَّلوگوں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اُنہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کرلیں ۔ ہاتھ پھیلانے سے مراد اُس کی جُود و عطا کا وسیع ہونا ہے کہ وہ توبہ کرنے والے کو کبھی منع نہیں کرتا ۔ نیز حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ رحمتِ الٰہی بہت وسیع ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکثرت

سے گناہوں سے تجاوزفرماتا ہے ۔ علامہ طیبی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہ ایک مثال ہے جو کہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّکو توبہ مطلوب و محبوب ہے گویا کہ وہ چاہتا ہے کہ گناہگار توبہ کریں ۔ ‘‘ ( )
عِصیاں سے کبھی ہم نے کَنَارا نہ کیا …… پر تُو نے دل آزُردَہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تجویز …… لیکن تِری رَحمت نے گوارا نہ کیا
¥
رحمتِ خدا ہر دم گنہگار کو دامن کرم میں لینے کو تیار :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’مقصد یہ ہے کہ ربّ کا کرم بہت وسیع ہے ، گناہگار کو ہر وقت کرم میں لینے کو تیار ہے کوئی آنے والا ہو ۔ ( جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا ) اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا ، ربّ تعالیٰ فرماتاہے : (یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا) (پ۸ ،الانعام: ۱۵۸ ) الخ ۔ مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس وقت سے ان لوگوں کی توبہ قبول نہ ہوگی جو سورج کو پچھم ( مغرب ) سے نکلتے دیکھیں ، لیکن جو لوگ اِس واقعہ کے بعد پیدا ہوں اُن کی توبَۂ کفربھی قبول ہوگی اور توبَۂ گناہ بھی کہ انہوں نے علاماتِ قیامت دیکھی ہی نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
مکھی پر رحم کے سبب مغفرت فرمادی :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ربّ تعالیٰ کا کرم اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے ، جب وہ ربِّ کریم گناہگاروں کو بخشنے پر آتا ہے تو بسا اوقات ایک چھوٹے سے عمل کے سبب بھی بخش دیتا ہے ۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۳۲۴ صفحات پرمشتمل کتاب’’152رحمت بھری حکایات ‘‘ صفحہ۲۵۵پر ہے : حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’مَافَعَلَ اللہُ بِکَیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ جواب دیا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اپنی بارگاہ میں کھڑا کیا اور ارشاد فرمایا : تم میری بارگاہ میں کیا لائے ہو؟ میں نے مختلف عبادات کا ذکر کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا : تم ایک مرتبہ بیٹھے لکھ رہے تھے کہ ایک مکھی تمہارے قلم پر

آکر بیٹھ گئی تو تم نے اس پر رحم کرتے ہوئے سیاہی چوسنے کے لیے اسے چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا ، پس اسی وجہ سے میں آج تم پر رحم کرتا ہوں ۔ جاؤ ! میں نے تمہیں بخش دیا ۔ ‘‘ ( )
معاف فضل وکرم سے ہو ہر خطا یاربّ ……… ہو مغفرت پئے سلطان انبیاء یاربّ
بلا حساب ہو جنت میں داخلہ یاربّ ……… پڑوس خلد میں سرور کا ہو عطا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’صدیق ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت بہت بڑی ہے ، وہ بندے کو آخری وقت تک توبہ کا موقع دیتا ہے اور اگر کوئی اس وقت بھی توبہ کرلے تواللہ عَزَّوَجَلَّاس کی توبہ قبول فرمالے گا ۔
(2) حدیث کا مقصد گناہگاروں کو توبہ کی طرف بلانااور رحمت الٰہی سے امید دلانا ہے ۔
(3)
اللہ عَزَّوَجَلَّتوبہ کو پسند فرماتا ہے یعنی وہ چاہتا ہے کہ گناہگار لوگ توبہ کرلیں ۔
(4) رحمتِ خدا ہر وقت بندوں کو اپنے دامنِ کرم میں لینے کے لیے تیار ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی بارگاہ میں توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اپنی رحمت کاملہ کے صدقے ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 437