Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 417

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا قَالَ : كُنْتُ اُصَلِّى لِقَوْمِى بَنِى سَالِمٍ ، وَكَانَ يَحُولُ بَيْنِى وَبَيْنَهُمْ وَادٍ اِذَا جَاءَتِ الاَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَىَّ اجْتِيَازُهُ قِبَلَ مَسْجِدِهِمْ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ : اِنِّى اَنْكَرْتُ بَصَرِى وَ اِنَّ الْوَادِىَ الَّذِى بَيْنِىْ وَبَيْنَ قَوْمِى يَسِيْلُ اِذَا جَاءَتِ الاَمْطَارُ فَيَشُقُّ عَلَىَّ اجْتِيَازُهُ فَوَدِدْتُ اَنَّكَ تَأْتِى فَتُصَلِّى مِنْ بَيْتِىْ مَكَانًا اَتَّخِذُهُ مُصَلًّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَاَفْعَلُ فَغَدَا عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بَعْدَ مَا اشْتَدَّ النَّهَارُ وَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى قَالَ : اَيْنَ تُحِبُّ اَنْ اُصَلِّىَ مِنْ بَيْتِكَ فَاَشَرْتُ لَهُ اِلَى الْمَكَانِ الَّذِى اُحِبُّ اَنْ يُصَلِّىَ فِيهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَسَلَّمْنَا حِينَ سَلَّمَ فَحَبَسْتُهُ عَلَى خَزِيْرَةٍ تُصْنَعُ لَهُ فَسَمِعَ اَهْلُ الدَّارِ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى بَيْتِىْ فَثَابَ رِجَالٌ مِنْهُمْ حَتّٰى كَثُرَ الرِّجَالُ فِى الْبَيْتِ فَقَالَ رَجُلٌ : مَا فَعَلَ مَالِكٌ لَا اَرَاهُ فَقَالَ رَجُلٌ : ذَاكَ مُنَافِقٌ لَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَقُلْ ذٰلِكَ اَ لَا تَرَاهُ قَالَ : لَا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِى بِذٰلِكَ وَجْهَ اللَّهِ فَقَالَ : اَللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ اَمَّا نَحْنُ فَوَاللَّهِ مَا نَرَى وُدَّهُ وَ لَا حَدِيثَهُ اِلَّا اِلَى الْمُنَافِقِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَاِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ : لَا اِلٰهَ

اِلَّا اللَّهُ يَبْتَغِى بِذٰلِكَ وَجْهَ اللَّهِ. ( )

عن عتبان بن مالك رضی اللہ عنہ وهو ممن شهد بدرا قال : كنت اصلى لقومى بنى سالم ، وكان يحول بينى وبينهم واد اذا جاءت الامطار فيشق على اجتيازه قبل مسجدهم فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له : انى انكرت بصرى و ان الوادى الذى بينى وبين قومى يسيل اذا جاءت الامطار فيشق على اجتيازه فوددت انك تأتى فتصلى من بيتى مكانا اتخذه مصلى فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : سافعل فغدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر رضی اللہ عنہ بعد ما اشتد النهار واستأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذنت له فلم يجلس حتى قال : اين تحب ان اصلى من بيتك فاشرت له الى المكان الذى احب ان يصلى فيه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر وصففنا وراءه فصلى ركعتين ثم سلم وسلمنا حين سلم فحبسته على خزيرة تصنع له فسمع اهل الدار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فى بيتى فثاب رجال منهم حتى كثر الرجال فى البيت فقال رجل : ما فعل مالك لا اراه فقال رجل : ذاك منافق لا يحب الله ورسوله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تقل ذلك ا لا تراه قال : لا اله الا الله يبتغى بذلك وجه الله فقال : الله ورسوله اعلم اما نحن فوالله ما نرى وده و لا حديثه الا الى المنافقين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فان الله قد حرم على النار من قال : لا اله

الا الله يبتغى بذلك وجه الله. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : بدری صحابی حضرتِ سَیِّدُنا عتبان بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ” میں اپنی قوم بنی سالم کو نماز پڑھاتا تھا میرے اور اُن کے درمیان ایک نالہ تھا جب بارش ہوتی تھی تو میرے لیے مسجد تک پہنچنا بہت مشکل ہوجاتا تھا پس میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میری نظر کمزور ہوگئی ہے اور میرے اور میری قوم کے درمیان ایک بہتا نالہ ہے ، جب بارش ہوتی ہے تو میرا مسجد پہنچنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے غریب خانے پر تشریف لائیں اور وہاں نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنا مُصَلّی ( جائے نماز ) بنالوں ۔ “ ورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” عنقریب میں ایسا کردوں گا ۔ “دوسرے دن سورج بلند ہونے کے بعد رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتشریف لائے ، انہوں نے اندر داخل ہونے کی اجازت طلب فرمائی ، میں نے انہیں اندر بلالیا ۔ سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” تمہیں کون سی جگہ پسند ہے جہاں میں نماز پڑھوں؟“ جس جگہ میں چاہتا تھا کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموہاں نماز پڑھائیں میں نے اس طرف اشارہ کیا ، پسرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھڑے ہوگئے اور تکبیر پڑھی اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی ، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیر دیا اور ہم نے بھی سلام پھیر دیا ۔ میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو خَزِیرہ ( گوشت سے بنے ایک کھانے ) کے لیے روک لیا جو آپ کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ اہل محلہ کو جب معلوم ہوا کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے گھر میں تشریف فرما ہیں تو وہاں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے حتی کہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے تو کسی شخص نے کہا کہ : ’’مالک کہاں ہیں ، نظر نہیں آرہے ؟ ‘‘ تو ان میں سے ایک شخص بولا : ’’وہ منافق ہے ، وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتا ہے نہ ہیرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ۔ ‘‘ یہ سن کررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” ایسا نہ کہو ، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے رِضائے اِلٰہی کے لیےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکہا ۔ “یہ فرمان سن کر اُس شخص نے کہا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ، ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اُس کی محبت اور باتیں منافقین کے ساتھ

ہی ہوتی ہیں ۔ “
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس شخص کو دوزخ پر حرام کردیا ہے جو رِضائے الٰہی کے لیےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہکہے ۔ “

شرح حدیث

حضرت عتبان بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:حضرت سَیِّدُنَاعتبان بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاَنصاری سالمی مدنی بدری صحابی ہیں ، ان نے سے دس احادیث مروی ہیں ، بخاری میں صرف ایک ہے ، یہ عہد رسالت ہی سے اپنی قوم کے امام تھے ، حضرت امیر معاویہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے زمانے میں مدینہ طیبہ میں وصال فرمایا ۔ کیونکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نابینا تھے جبکہ بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ کی نظر بہت کمزور تھی ۔ عام روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت سَیِّدُنَاعتبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی نظر کمزور ہوگئی تھی ، بالکلیہ ختم نہیں ہوئی تھی ، البتہ بخاری کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَامحمود بن ربیعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں کہ عتبان قوم کی امامت کرتے تھے اور وہ نابینا تھے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنَامحمود بن ربیعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے ملاقات کی تھی اس وقت وہ نابینا ہوں ۔ ہاں مسلم کی روایت میں تصریح ہے کہ وہ اس وقت نابینا تھے تو لا محالہ یہ کہنا پڑے گا کہ وہ نابینا ہوگئے تھے ۔ ( )
¥
ترکِ جماعت کے اَعذار :حدیثِ مذکور میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاعتبانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجو کہ امامت کرتے تھے انہوں نے حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی کہ بارش کے دنوں میں مسجد تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہوجاتا ہے اس لیے آپ میرے غریب خانے پر تشریف لاکر ایک جگہ نماز پڑھ لیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنالوں تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کی یہ خواہش پوری فرمادی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نابینا ہونا ترکِ جماعت کا عذر ہے یعنی اُسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے جیساکہ ” عمدۃ القاری“ میں ہے : ’’اس حدیث سے پتہ چلا کہ عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنا جائز ہے جیسے بہت زیادہ تیز بارش ، بہت سخت اندھیرا ہو یا جان کا خوف ہو ۔ ‘‘ ( )

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ترکِ جماعت کے بیس20اَعذاربیان فرمائے ہیں ان میں سے چند اعذار یہ ہیں : ’’اندھا ( ہونا ) ، سخت بارش اور سخت تاریکی ( اندھیرا ) ۔ ‘‘ ( )
¥
جماعت چھوڑنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی اسلام بہت ہی پیارا دین ہے ، جس میں اَکھیاروں کے لیے اَحکام موجود ہیں تو نابینا افراد کے لیے بھی احکام موجودہیں ۔ منقول ہے کہ پہلے کے مسلمان باجماعت نَمازوں کا نہایت زبردست اہتمام فرمایا کرتے تھے کہ جولُوہار ہوتا تھا وہ اگر ضَرب ( یعنی چوٹ ) لگانے کے لئے ہتھوڑا اُوپر اٹھائے ہوئے ہوتا اور اِسی حالت میں اذان کی آواز سنتا تو اب ہتھوڑا لوہے وغیرہ پر مارنے کے بجا ئے فورًا رکھ دیتا ، نیز اگرموچی یعنی چمڑا سینے والا سُوئی چمڑے میں ڈالے ہوئے ہوتا اور جُوں ہی اذان کی آواز اُس کے کانوں میں پڑتی تو سُوئی کو باہَر نکالے بِغیر چمڑا اورسُوئی وَہیں چھوڑ کر بِلاتا خیر مسجِدکی طرف چل پڑتایعنی اُٹھے ہوئے ہتھوڑے کی ایک ضَرب لگا دینا یاسُوئی کو دوسری طرف نکالنا بھی اُن کے نزدیک تاخیر میں شامل تھا حالانکہ اِ س میں وَقت ہی کتنا لگتا ہے ۔ مگر افسوس اور لمحہ فکریہ ہے آج کے اُن مسلمانوں کے لیے جنہیں کوئی عذرِ شرعی بھی لاحق نہیں ہوتا مگر ان کی جماعت فوت ہوجاتی ہے ، بلکہ بعض نادان افراد تو نماز ہی قضا کردیتے ہیں حالانکہ جماعت ونماز دونوں کو ترک کرنا گناہ ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں پانچوں نمازیں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت ……… ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنّتیں وقت ہی پر ……… ہوں سارے نوافِل ادا یاالٰہی
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت ……… رہوں باوُضو میں سدا یاالٰہی
¥
مالک بن دخیشنرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:حدیث پاک میں مالک نامی شخص کا ذکر ہوا جنہیں مالک بن دخیشن کہاں جاتا ہے ۔ ان کا نام سن کر کسی نے کہا کہ وہ منافق ہے تورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا کہنے سے منع فرمایا ۔ چنانچہ ” تفہیم

البخاری“ میں ہے : ’’مالک بن دخیشن جنگ بدر میں موجود تھے ، ان کو منافق کہنا صحیح نہ تھا کیونکہ اصحابِ بدر کے لیے ارشاد ہے : ” اے بدر والو ! تم جو چاہو کرو
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہیں بخش دیا ہے ۔ “اسی زمرہ میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ہیں ۔ ان کے لیے سرور کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانا کہ انہوں نے سچ کہا ہے ۔ یہ ان کے ایمان کی گواہی اور منافقت سے براءت کی دلیل ہے ۔ ‘‘ ( ) ” نزہۃ القاری“ میں ہے : ’’یہ بدری صحابی ہیں ، بدر کے موقع پر سہیل بن عَمرو کو انہوں نے ہی گرفتار کیا تھا ۔ مسجد ضرار کو جلانے کی خدمت اِن کے سپرد ہوئی تھی جسے انہوں نے انجام دیا ، ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی مصلحت یا دینی ضرورت کے تحت منافقین سے خلط ملط رکھتے ہوں اور یہ منافقین سے قطع تعلق و بیزاری کے اَحکام نازل ہونے سے پہلے کا قصہ ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
کلمہ گو ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا :حدیث پاک کے آخر میں فرمایا : ’’جو رضائے الٰہی کے لیے کلمہ پڑھے اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے جہنم پر حرام کردیا ہے ۔ ‘‘ اس کا مطلب وہی ہے جو پچھلی احادیث میں بھی بیان کیا گیا یعنی مؤمن اگر نیک ہے تو جہنم میں نہیں جائے گا سیدھا جنت میں جائے گا اور اگر گناہ گار ہے تو ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا بلکہ گناہوں کی سزا پاکر جنت میں جائے گا ۔ یہاں علامہ ابن جوزیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ایک اعتراض قائم کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے پہلے مکہ مکرمہ میں نماز فرض ہوچکی تھی اور ظاہرِ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف کلمہ پڑھنے سے نجات ہوجاتی ہے اگرچہ نماز نہ پڑھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص اِخلاص سے کلمہ شہادت پڑھے وہ نمازیں ضرور پڑھے گا یا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ گو دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا اگر چہ گناہ گار کچھ مدت کے لیے دوزخ میں جائیں گے ۔ بظاہر اس حدیث کا مدلول یہ ہے کہ عصاۃ ( گناہ گار ) دوزخ میں داخل نہ ہوں گے کیونکہ سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” جو خدا کی رضا کے لیےلَا اَلٰہَ اِلَّا اللہکہے ، اس پر دوزخ کی آگ حرام ہے ، وہ جنتی ہے ۔ مگر تحریم سے مقصود یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دوزخ میں نہ رہیں گے اگرچہ عُصَاۃ کچھ عرصہ کے لیے دوزخ میں جائیں گے ۔ ( )

¥
حدیث سے حاصل ہونے والے فوائد و مسائل :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں : ٭’’حدیث پاک سے پتہ چلا کہ اگر کوئی عذر نہ ہو تو مسجد کی جماعت نہیں چھوڑ سکتے ، ہاں عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑی جاسکتی ہے ۔ مہلب کہتے ہیں : ٭ بزرگوں اور نیک لوگوں نے جس جگہ نماز پڑھی ہو اس جگہ کو بطور تبرک مصلی یعنی جائے نماز بنالینا جائز ہے ۔ ٭ دن میں نفل نماز کی جماعت کرنا جائز ہے ۔ ٭ جب کسی عالِم صاحب کو بلایا جائے تو اُن کی مہمان نوازی کرنی چاہیے ۔ ٭اگر جماعت کھڑی ہوجائے اور کوئی شخص حاضر نہ ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ اس کے بارے میں معلومات کریں ۔ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ٭کسی جگہ کو نماز کے لیے معین کرلینا جائز ہے ۔ ٭ اگر کسی سے وعدہ کیا جائے تو اسے پورا کیا جائے ۔ ٭کم مرتبے والا شخص زیادہ مرتبے والے شخص کوخاص مقصد کے لیے بلاسکتا ہے ۔ ٭دن کے نوافل میں دورکعت پڑھنا سنت ہے ۔ ٭جب کسی کے گھر پر جائیں تو پہلے اُس سے اجازت لی جائے ، پھر داخل ہوں ، چاہے اسی نے آنے کی دعوت دی ہو ۔ ٭جب کسی کے گھر کوئی عالِم صاحب یا کوئی اور نیک شخص آئیں تو اہلِ محلہ کے لیے مستحب ہے کہ وہ ان کی زیارت و تعظیم اور اُن سے فیض حاصل کرنے کے لیے ان کی مجلس میں حاضر ہوں ۔ ( ) نیز اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ٭ پرہیز گار نابینا کی امامت جائز ہے ۔ ٭ اور عذر سے جماعت ساقط ہوجاتی ہے ۔ ٭نماز کے لیے گھر میں جگہ متعین کرلینا جائز ہے ۔ ٭ مساجد فاضلین اور مصلی صالحین سے تبرک حاصل کرنا مستحب ہے ۔ ٭ میزبان کی رضا سے مہمان نماز پڑھا سکتا ہے ۔ ٭مسجد کی نسبت کسی کی طرف کرنا جائز ہے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’مدینہ منوّرہ ‘‘ کے 10حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 10مدنی پھول

(1) نابینا کی امامت درست ہے بشرطیکہ وہ اچھی طرح طہارت کرنا جانتا ہو ۔
(2) سخت آندھی ، بارش اور جان کے خطرے کے وقت گھر میں نماز پڑھ لینا جائز ہے ۔
(3) گھر میں کسی جگہ کو نفل نماز کے لیے معین کرلینا جائز ہے ۔
(4) مؤمن کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا چاہیے ۔
(5) اگر کوئی نمازی جماعت میں حاضر نہ ہو تو اس کی خیر خیریت معلوم کرنی چاہیے ۔
(6) جب کسی کے گھر جائے خواہ اس کی دعوت پر ہی جائے تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے اس کی اجازت لے لینی چاہیے ۔
(7) بزرگوں کو اگر کوئی برکت کے لیے گھر میں بلائے تو دعوت قبول کرنی جائز ہے ۔
(8) بزرگوں اور علماء کے اِکرام و اِعزاز کے لیے کھانے کا انتظام کرنا جائز ہے ۔
(9) جس جگہ کسی بزرگ نے نماز پڑھی ہو بطورِ تبرک اس جگہ کو نماز کے لیے مقرر کرنا جائز ہے ۔
(10) جب کسی گھر میں نیک لوگ آئیں تو اہلِ محلہ کو میزبان کی اجازت اور رضا کے ساتھ اُن کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے تاکہ اُن کے فیوض وبرکات حاصل کریں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 417