Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 429

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ اَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ. ( )

عن جابر رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : مثل الصلوات الخمس كمثل نهر جار غمر على باب احدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” پانچوں نمازوں کی مثال اس بھری ہوئی نہر کی طرح ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہواور وہ اس میں ایک دن میں پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث پاک کی باب سے مناسبت :اس حدیث کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ بندہ دن بھر گناہوں میں مبتلا رہتا ہے لیکن جب وہ نماز پڑھتا ہے تو ہر نماز میں اس کے گناہ جھڑ تے ہیں جس کے سبب وہ گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے بندہ نمازاللہ عَزَّوَجَلَّکے حکم پر عمل کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کرنے کے لیے پڑھتا ہے لیکن نماز پڑھنے سے اس کے گناہ جھڑجاتے ہیں یہاللہ عَزَّوَجَلَّکا بڑا فضل و کرم ہے کہ وہ ہمارے فرائض کے ذریعے بھی ہمارے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ تواس میں بندے کے لیے گناہوں کی مغفرت اور رب تعالیٰ کی بخشش ورحمت کی امید ہے ، یہ باب بھی چونکہ رب کی رحمت سے امید کا ہے اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥
گناہوں سے پاک ہونے کا آسان طریقہ :حدیث پاک میں فرمایا : ” جو نہر تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس سے گزر رہی ہو ۔ “یعنی جس طرح گھر کے دروازے پر موجود نہر تک تم با آسانی پہنچ سکتے اور اس میں نہاکر اپنا میل کچیل دُور کر سکتے ہو اِسی

طرح نماز تک پہنچنے کے لیے تمہیں کوئی مشکل جھیلنے کی ضرورت نہیں ، تم باآسانی نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گناہوں سے پاک کر سکتے ہو ۔ جیسا کہ
حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ قریبی نہر تک باسہولت پہنچنا اور اُس کو استعمال کرنا آسان ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
باطنی صفائی نماز سے حاصل ہوتی ہے :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جس طرح باربار غسل کرنا آدمی کے جسم سے میل کچیل کو دُور کردیتا ہے اسی طرح پانچ وقت کی نماز پڑھنا باطن سے میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
خطاؤں سے مراد گناہِ صغیرہ ہیں :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یہاں خطاؤں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اِس سے علیحدہ ہیں کہ وہ نماز سے معاف نہیں ہوتے ۔ خیال رہے کہ حضورانورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پنجگانہ کو نہر سے تشبیہ دی نہ کہ کنوئیں سے ۔ دو ( ۲ ) وجہ سے : ( 1 ) ایک یہ کہ کنوئیں میں اگر گھسا جائے تو اکثر اس کا پانی نہانے کے لائق نہیں رہتا کیونکہ وہ پانی جاری نہیں ، نہر کا پانی جاری ہے ، ہر ایک کو ہر طرح پاک کردیتا ہے ، یوں ہی نماز ہر طرح پاک کردیتی ہے کیسا ہی گندا ہو ۔ ( 2 ) دوسرے یہ کہ کنوئیں کا پانی تکلف سے حاصل ہوتا ہے ، رسی ڈول کی ضرورت پڑتی ہے کمزور آدمی پانی کھینچ نہیں سکتا مگر نہر کا پانی بے تکلف حاصل ہوتا ہے ، ایسے ہی نماز بے تکلف اَدا ہوجاتی ہے جس میں کچھ نہیں کرنا پڑتااورجب دروازے پرنہرہوتوغسل کے لئے دُور جانا بھی نہیں پڑتا ۔ خیال رہے کہ گناہ دل کا میل ہے اور نماز میلِ دل کے لیے پانی ۔ ‘‘ ( )
¥
نمازوں کی پابندی کیجیے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ بالا حدیث پاک میں جہاںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس بے پایہ رحمت اور اس

کے فضل کا بیان ہے کہ وہ پانچوں نمازوں کی ادائیگی سے بندے کے تمام صغیرہ گناہوں کو اس طرح مٹادیتا ہے جس طرح ایک نہر میں پانچ بار نہانے والے کا میل کچیل بالکل صاف ہوجاتا ہے ، وہیں اس حدیث پاک میں ان مسلمانوں کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے جو نمازوں کے معاملے میں سُستی کا شکار ہیں ، یاد رہے کہ نماز مسلمان پر سب سے پہلا فرض ہے ، نماز دِین کا ستون ہے ، نماز سے رحمت نازل ہوتی ہے ، نماز ہمارے آقا
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، نمازی کے لیے بے شمار اِنعامات واِعزازات کی بشارت ہے جبکہ بے نماز ی اور نماز میں سُستی کرنے والوں کے لیے طرح طرح کی وعیدات بیان فرمائی گئی ہیں ۔ خدارا نمازوں کی پابندی کیجئے ، کوئی نماز قضا نہ ہونے پائے ، بلکہ کوئی جماعت فوت نہ ہونے پائے ، جیسے ہی کانوں میں اذان کی آواز گونجے فوراً سے پیشتر تمام کام کاج چھوڑ کر نماز کی تیاری میں لگ جائیے ۔
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت ……… ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنتیں وقت ہی پر ……… ہوں سارے نوافِل ادا یاالٰہی
مدنی گلدستہ
’’نماز ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّوَجَلَّکا بڑا کرم ہے کہ وہ فرائض کے ذریعے بھی ہمارے گناہوں کو مٹادیتا ہے ۔
(2) پانچ وقت کی نماز ہر مسلمان پر فرض ہے ، اس کی پابندی نہایت ضروری ہے ۔
(3) نماز سے مسلمان کا باطن پاک وصاف ہوجاتا ہے ۔
(4) نماز یا دیگر عبادات سے صرف صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں کبیرہ گناہ توبہ سے ہی معاف ہوتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ پہلی صف میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نمازوں کی برکت سے ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 429