Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 435

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْهُ عَلَيَّ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اِنِّي اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ قَالَ : هَلْ حَضَرْتَ مَعَنَا الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : قَدْ غُفِرَ لَكَ . ( )

عن انس رضی اللہ عنہ قال : جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ! اصبت حدا فاقمه علي وحضرت الصلاة فصلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قضى الصلاة قال : يا رسول الله ! اني اصبت حدا فاقم في كتاب الله قال : هل حضرت معنا الصلاة ؟ قال : نعم قال : قد غفر لك . ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے گناہ ہوگیا ہے ، مجھ پر حد قائم فرمائیے ۔ “ ( راوی کہتے ہیں ) نماز کا وقت ہوگیا ، اُس شخص نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز ادا کی ، جب وہ نماز سے فارغ ہوگیا تو پھر عرض گزار ہوا : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے گناہ ہوگیا ہے ، میرے بارے میںکتابُ اللہسے فیصلہ فرمائیے ۔ “ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے ؟“ اُس نے عرض کی : ” جی ہاں ۔ “ فرمایا : ” جا تجھے بخش دیا گیا ۔ “

شرح حدیث

کون سا گناہ مراد ہے ؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیالفاظِ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”اَصَبْتُ حَدًّاکا معنیٰ یہ ہے کہ ایسا گناہ جس سے تعزیر لازم آتی ہے اس سے مراد وہ گناہ نہیں

جس پر حدِّ شرعی واجب ہوجاتی ہے جیسے زنا کرنا یا شراب پینا وغیرہ کیونکہ حدودِ شرعِیَّہ نہ تو نماز سے ساقِط ہوتی ہیں اور نہ ہی حاکم کے لیے ان حدود کو معاف کرنا جائز ۔ ‘‘ ( )
¥
حضور جانتے ہیں :حدیثِ مذکور میں ہے کہ جب اُس شخص نے کہا کہ میں نے گناہ کیا ہے تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ تم نے کون سا گناہ کیا ہے ؟بلکہ بنا پوچھے ہی گناہ کی بخشش کی بشارت سنا دی؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے تھے کہ کون سا گناہ کیا ہے ؟ دوسری وجہ اس کی عیب پوشی ہے کہ سب کے سامنے پوچھنے میں اس کی رسوائی ہوگی ، اس لیے سب کے سامنے نہ پوچھا ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ کیونکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبذریعہ وحی اُس کے گناہ کے بارے میں جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اُس کو بخش دیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( ) علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضورنبی اکرم ، شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس کی عیب پوشی کرتے ہوئے اُس سے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا ۔ ‘‘ ( )
¥
حدود شبہات سے ساقط ہوجاتی ہیں :عَلَّامَہ مُہَلَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جب اس شخص نے تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے گناہ کا اقرار کیا اور اپنا گناہ بیان نہیں کیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اس کو کُریدا نہیں اور نہ ہی استفسار فرمایا کہ تم نے کون سا گناہ کیا ہے ؟ اِس سے پتہ چلا کہ حدود کے جرم کو کھولنا جائز نہیں بلکہ اُس گناہ کو چھپانا ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس جرم کے کھولنے کو تجسس کی وہ قسم خیال فرمایا جس سے منع کیا گیا ہے اسی لیے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص سے اِعراض کیا اور اس کے فعل کو ایک شبہ قرار دیا جس سے حدود ساقط ہوجاتی ہیں کیونکہ

آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممؤمنوں پر بہت رؤف رحیم ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس شخص نے یہ گمان کیا ہو کہ اس پر حد قائم ہوگی لیکن درحقیقت حد قائم نہیں ہونی تھی بلکہ ایسا گناہ ہوا تھا جس کا کفارہ وضو اور نماز بن جاتے ہیں اور جبکہ یہ جائز نہیں کہ کنایہ اور شبہات کی وجہ سے حد قائم کی جائے تو حاکم پر لازم ہے کہ وہ جرم کو زیادہ مت کھولے کیونکہ حدود شبہ کی وجہ سے قائم نہیں بلکہ زائل ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ( )مؤمن ہوں مؤمنوں پہ رؤف رحیم ہو……سائل ہوں سائلوں کو خوشی لَانَہَر کی ہےصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی قوت ایمانی :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ ( وہ گناہ ) لائق حدہویا نہ ہو ، جوبھی فرمان الٰہی ہوحدیاکفارہ یاکوئی اورچیز ، اسی لئے یہاںکتابُﷲفرمایا ۔ یہ صحابہ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کی قوتِ ایمانی ہے کہ دوسرے مجرم اپنے جرم چھپا کر جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ حضرات اپنے قصورظاہرکرکے جانوں پرکھیل کرایمان بچاتے ہیں ۔ ( جا تجھے بخش دیا گیا ) یعنی جس گناہ کو تونے قابلِ حدسمجھا تھا وہ اس نماز کی برکت سے معاف ہوگیا ۔ لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ نمازسے شرعی سزائیں معاف ہوجاتی ہیں ۔ خیال رہے کہ گناہ صغیرہ پرکبھی حد نہیں ہوتی اورسواء ڈکیتی کی حد کے کوئی حد توبہ سے معاف نہیں ہوتی ، ڈاکو اگرگرفتاری سے پہلے توبہ کرے تو سزا نہیں پاتا ( ) ، یونہی اگر کافربعدزنا مسلمان ہوجائے تو رجم وغیرہ کا مستحق نہیں ۔ شیخ عبدالحق ( محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) نے فرمایا :مَعَنَاسے معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنا گناہوں کی معافی کے لیے اِکسیر ہے ۔ نماز کی عظمت امام کی عظمت کے مطابق ہے ۔سُبْحٰنَ اﷲ! جن کے ساتھ والی نمازمجرموں کو بخشوادے وہ ذاتِ کریم خودکیسی ہوگی ۔ ‘‘ ( )

¥
اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کیجئے :مذکورہ حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس مسلمان کی پردہ پوشی فرمائی اور اس سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں فرمایا ۔ اس سے پتہ چلا کہ اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے اگر کسی کا عیب یا کوئی گناہ پتہ چل جائے تو اسے لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ۔ کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کے احادیث میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ” جو بندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا ،اللہ عَزَّوَجَلَّقیامت کے دن اس بندے کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ “ ( )(2 ) ’’جس نے کسی کی پر دہ پوشی کی گو یا اس نے زندہ دفن کی گئی بچی کوزندہ کردیا ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ” جو اپنے بھائی کے کسی عیب کو دیکھ لے اور اس کی پردہ پوشی کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )آج بنتاہوںمعزز جو کھلے حشر میں عیب ……… آہ رسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ……… ہائے میں نارِ جہنم میں جلوں گا یارب
مدنی گلدستہ
’’ربِّ کریم ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)
حدودِ شَرعِیَّہ نماز وغیرہ نیک اَعمال یا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی جب یہ ثابت ہوجائیں تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ انہیں نافذ کرے ۔
(2) حضورنبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے اپنی تمام اُمَّتِیُوں کے اَعمال بخوبی جانتے ہیں ۔

(3) حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں کی پردہ پوشی فرمایا کرتے تھے ۔
(4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناُخرَوِی عذاب سے بچتے ہوئے دنیاوی سزا اختیار کرتے تھے کیونکہ دنیاوی سزا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے ۔
(5) جہاں تک ہوسکے دوسروں کے عیب چھپانے چاہئیں اگر کسی کا کوئی عیب معلوم ہوجائے تو اُسے فاش نہیں کرنا چاہیے ۔
(6) مسلمانوں کی عیب پوشی کرنے پر
اللہ عَزَّوَجَلَّکی رِضا اور جنت میں داخلے کی بشارت ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانوں کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 435