- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 435
اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 435
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ اِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْهُ عَلَيَّ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اِنِّي اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللهِ قَالَ : هَلْ حَضَرْتَ مَعَنَا الصَّلَاةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : قَدْ غُفِرَ لَكَ . ( )
عن انس رضی اللہ عنہ قال : جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله ! اصبت حدا فاقمه علي وحضرت الصلاة فصلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قضى الصلاة قال : يا رسول الله ! اني اصبت حدا فاقم في كتاب الله قال : هل حضرت معنا الصلاة ؟ قال : نعم قال : قد غفر لك . ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کی : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے گناہ ہوگیا ہے ، مجھ پر حد قائم فرمائیے ۔ “ ( راوی کہتے ہیں ) نماز کا وقت ہوگیا ، اُس شخص نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز ادا کی ، جب وہ نماز سے فارغ ہوگیا تو پھر عرض گزار ہوا : ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھ سے گناہ ہوگیا ہے ، میرے بارے میںکتابُ اللہسے فیصلہ فرمائیے ۔ “ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” کیا تو نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے ؟“ اُس نے عرض کی : ” جی ہاں ۔ “ فرمایا : ” جا تجھے بخش دیا گیا ۔ “
شرح حدیث
کون سا گناہ مراد ہے ؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیالفاظِ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ”اَصَبْتُ حَدًّاکا معنیٰ یہ ہے کہ ایسا گناہ جس سے تعزیر لازم آتی ہے اس سے مراد وہ گناہ نہیں
جس پر حدِّ شرعی واجب ہوجاتی ہے جیسے زنا کرنا یا شراب پینا وغیرہ کیونکہ حدودِ شرعِیَّہ نہ تو نماز سے ساقِط ہوتی ہیں اور نہ ہی حاکم کے لیے ان حدود کو معاف کرنا جائز ۔ ‘‘ ( )
¥حضور جانتے ہیں :حدیثِ مذکور میں ہے کہ جب اُس شخص نے کہا کہ میں نے گناہ کیا ہے تو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ تم نے کون سا گناہ کیا ہے ؟بلکہ بنا پوچھے ہی گناہ کی بخشش کی بشارت سنا دی؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجانتے تھے کہ کون سا گناہ کیا ہے ؟ دوسری وجہ اس کی عیب پوشی ہے کہ سب کے سامنے پوچھنے میں اس کی رسوائی ہوگی ، اس لیے سب کے سامنے نہ پوچھا ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ کیونکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبذریعہ وحی اُس کے گناہ کے بارے میں جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اُس کو بخش دیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( ) علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضورنبی اکرم ، شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُس کی عیب پوشی کرتے ہوئے اُس سے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا ۔ ‘‘ ( )
¥حدود شبہات سے ساقط ہوجاتی ہیں :عَلَّامَہ مُہَلَّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جب اس شخص نے تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے گناہ کا اقرار کیا اور اپنا گناہ بیان نہیں کیا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اس کو کُریدا نہیں اور نہ ہی استفسار فرمایا کہ تم نے کون سا گناہ کیا ہے ؟ اِس سے پتہ چلا کہ حدود کے جرم کو کھولنا جائز نہیں بلکہ اُس گناہ کو چھپانا ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس جرم کے کھولنے کو تجسس کی وہ قسم خیال فرمایا جس سے منع کیا گیا ہے اسی لیے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس شخص سے اِعراض کیا اور اس کے فعل کو ایک شبہ قرار دیا جس سے حدود ساقط ہوجاتی ہیں کیونکہ
آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممؤمنوں پر بہت رؤف رحیم ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس شخص نے یہ گمان کیا ہو کہ اس پر حد قائم ہوگی لیکن درحقیقت حد قائم نہیں ہونی تھی بلکہ ایسا گناہ ہوا تھا جس کا کفارہ وضو اور نماز بن جاتے ہیں اور جبکہ یہ جائز نہیں کہ کنایہ اور شبہات کی وجہ سے حد قائم کی جائے تو حاکم پر لازم ہے کہ وہ جرم کو زیادہ مت کھولے کیونکہ حدود شبہ کی وجہ سے قائم نہیں بلکہ زائل ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ( )مؤمن ہوں مؤمنوں پہ رؤف رحیم ہو……سائل ہوں سائلوں کو خوشی لَانَہَر کی ہےصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی قوت ایمانی :مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ ( وہ گناہ ) لائق حدہویا نہ ہو ، جوبھی فرمان الٰہی ہوحدیاکفارہ یاکوئی اورچیز ، اسی لئے یہاںکتابُﷲفرمایا ۔ یہ صحابہ کرام (عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) کی قوتِ ایمانی ہے کہ دوسرے مجرم اپنے جرم چھپا کر جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ حضرات اپنے قصورظاہرکرکے جانوں پرکھیل کرایمان بچاتے ہیں ۔ ( جا تجھے بخش دیا گیا ) یعنی جس گناہ کو تونے قابلِ حدسمجھا تھا وہ اس نماز کی برکت سے معاف ہوگیا ۔ لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ نمازسے شرعی سزائیں معاف ہوجاتی ہیں ۔ خیال رہے کہ گناہ صغیرہ پرکبھی حد نہیں ہوتی اورسواء ڈکیتی کی حد کے کوئی حد توبہ سے معاف نہیں ہوتی ، ڈاکو اگرگرفتاری سے پہلے توبہ کرے تو سزا نہیں پاتا ( ) ، یونہی اگر کافربعدزنا مسلمان ہوجائے تو رجم وغیرہ کا مستحق نہیں ۔ شیخ عبدالحق ( محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی) نے فرمایا :مَعَنَاسے معلوم ہوا کہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنا گناہوں کی معافی کے لیے اِکسیر ہے ۔ نماز کی عظمت امام کی عظمت کے مطابق ہے ۔سُبْحٰنَ اﷲ! جن کے ساتھ والی نمازمجرموں کو بخشوادے وہ ذاتِ کریم خودکیسی ہوگی ۔ ‘‘ ( )
¥اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کیجئے :مذکورہ حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس مسلمان کی پردہ پوشی فرمائی اور اس سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں فرمایا ۔ اس سے پتہ چلا کہ اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے اگر کسی کا عیب یا کوئی گناہ پتہ چل جائے تو اسے لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ۔ کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کے احادیث میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، تین فرامین مصطفے ٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ” جو بندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا ،اللہ عَزَّوَجَلَّقیامت کے دن اس بندے کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ “ ( )(2 ) ’’جس نے کسی کی پر دہ پوشی کی گو یا اس نے زندہ دفن کی گئی بچی کوزندہ کردیا ۔ ‘‘ ( ) (3 ) ” جو اپنے بھائی کے کسی عیب کو دیکھ لے اور اس کی پردہ پوشی کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّاسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )آج بنتاہوںمعزز جو کھلے حشر میں عیب ……… آہ رسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ……… ہائے میں نارِ جہنم میں جلوں گا یاربمدنی گلدستہ
’’ربِّ کریم ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)حدودِ شَرعِیَّہ نماز وغیرہ نیک اَعمال یا توبہ سے ساقط نہیں ہوتی جب یہ ثابت ہوجائیں تو قاضی پر لازم ہے کہ وہ انہیں نافذ کرے ۔
(2) حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے اپنی تمام اُمَّتِیُوں کے اَعمال بخوبی جانتے ہیں ۔
(3) حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں کی پردہ پوشی فرمایا کرتے تھے ۔
(4) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناُخرَوِی عذاب سے بچتے ہوئے دنیاوی سزا اختیار کرتے تھے کیونکہ دنیاوی سزا آخرت کے عذاب کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے ۔
(5) جہاں تک ہوسکے دوسروں کے عیب چھپانے چاہئیں اگر کسی کا کوئی عیب معلوم ہوجائے تو اُسے فاش نہیں کرنا چاہیے ۔
(6) مسلمانوں کی عیب پوشی کرنے پراللہ عَزَّوَجَلَّکی رِضا اور جنت میں داخلے کی بشارت ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمانوں کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 435