- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 426
حدیث مبارکہ
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِىِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عَلَى حِمَارٍ فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ! هَلْ تَدْرِى مَاحَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ قُلْتُ : اَللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ قَالَ : فَاِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ اَنْ يَّعْبُدُوْهُ وَلاَ يُشْرِكُوْا بِهِ شَيْئًا وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ اَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ ! اَفَلاَ اُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ : لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوْا. ( )
عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ قال كنت ردف النبى صلی اللہ علیہ والہ وسلم على حمار فقال : يا معاذ ! هل تدرى ماحق الله على عباده وما حق العباد على الله ؟ قلت : الله ورسوله اعلم قال : فان حق الله على العباد ان يعبدوه ولا يشركوا به شيئا وحق العباد على الله ان لا يعذب من لا يشرك به شيئا فقلت : يا رسول الله ! افلا ابشر الناس؟ قال : لا تبشرهم فيتكلوا. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوش ( یعنی گدھے ) پررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے سوار تھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کااللہ عَزَّوَجَلَّپر کیا حق ہے ؟“ میں نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّکا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اُس کی عبادت کریں اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کااللہ عَزَّوَجَلَّپر حق یہ ہے کہ جواُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ
کرےاللہ عَزَّوَجَلَّاس کو عذاب نہ دے ۔ “ پھر میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟ ‘‘ تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ” اُنہیں یہ بشارت مت دینا ورنہ وہ اِسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔ “
شرح حدیث
عبادتِ الٰہی اس کے معبود ہونے کا تقاضا ہے :حدیث پاک میں فرمایا : ” بندوں پراللہ عَزَّوَجَلَّکا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں ۔ “اس کی شرح میںعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’یعنی اسے ایک مانیں اور اُس کی عبادت کریں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا اُس کے معبود اور ربّ ہونے کا تقاضا ہے ۔اللہتعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے تواللہ عَزَّوَجَلَّاسے عذاب نہ دے ۔ یعنی ہمیشہ رہنے والا عذاب ، لہٰذا یہ جہنم میں داخل ہونے کی ممانعت نہیں ہے ۔ بے شک اِس اُمَّت کے بعض گنہگار لوگ اپنے گناہوں کی سزا پانے کے لیے جہنم میں جائیں گے جیسا کہ اَحادیثِ صحیحہ بلکہ اَحادیثِ متواترہ سے ثابت ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی اُمَّتی جہنم میں جائے حالانکہ علامہ بیضاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اُمَّت کا کوئی بھی شخص جہنم میں حتمی طور پر داخل نہیں ہوگابلکہاللہ عَزَّوَجَلَّکے وعدے کی بنا پر سب کومعاف کردیا جائے گا ،اللہ عَزَّوَجَلَّشرک کے علاوہ سب گناہوں کو جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ بیضاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے کسی کے جہنم میں داخلے کی نفی نہیں کی بلکہ اس کے یقینی و لازمی طور پر جہنم میں داخل ہونے کی نفی کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وعدۂ الٰہی کی بناء پر تمام گناہوں کا معاف ہونا ممکن ہے ۔ بہر حال حدیثِ نبویصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رُو سے گنہگار مؤمنوں کا جہنم میں داخل ہونالازمی ہے تو یہ بھی علامہ بیضاویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے قول کے مُعَارِض نہیں کیونکہ اِن کے قول سے وعدۂ الٰہی سے عام معافی ہونا لازم آتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی جہنم میں داخل ہی نہیں ہوگا کیونکہ بعض گنہگاروں کو ان کی سزا پوری ہونے سے پہلے جہنم سے نکال دینا بھی معافی ہی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥اللہپر بندوں کا حق کیسا؟حدیث پاک میں فرمایا کہاللہ عَزَّوَجَلَّکا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اُس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، نہ ذات میں نہ صفات اور اِس حق کو ادا کرنا واجب ہے اور بندوں کااللہ عَزَّوَجَلَّپر حق یہ ہے کہ جب وہ اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں تو وہ اُنہیں عذاب نہ دے لیکن یہ حقاللہ عَزَّوَجَلَّپر واجب نہیں ہے بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے خود اپنے ذمہ کرم پرلیا ہے ۔ جیسا کہ مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’حق کے معنیٰ واجب ، لازم ، لائق ۔ بندوں کے متعلق تینوں معنی درست ہیں کہﷲکی عبادت ان پر واجب ہے ، لازم ہے ، ان کے لائق ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے یہ معنی اور طرح درست ہوں گے وہ یہ کہ اُس کریم نے اپنے ذمہ کرم پر خود لازم فرمالیا کہ عابدوں کو جزاء دے ، کوئی اور اُس پر واجب نہیں کرسکتا ، لہٰذا جن روایتوں میں آیا ہے کہاﷲپر کسی کا حق نہیں وہ دوسرے معنیٰ میں ہے کہ کوئی اس پر واجب نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی اس کا حاکم نہیں وہ سب کا حاکم ہے ۔ ( فرمایا : ” اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ “ ) اس طرح کہ نہ تو کسی کو اس کا ہمسر جانیں ، نہ اس کا بیوی بچہ ۔ لہٰذا اس میں مجوسیت ، نصرانیت ، یہودیت سب ہی داخل ہیں ۔ ان ہی تمام دینوں سے علیحدگی ضروری ہے ۔ ‘‘ ( )
¥لوگوں کو بشارت نہ سنانے کا مقصد :حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو خوشخبری سنانے سے منع فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ نیک اَعمال کریں اور جنت میں اعلیٰ درجات کو حاصل کریں ۔ لہٰذا اگر لوگوں کو یہ بات بتادی جاتی تو پھر وہ اس کے اصل مقصد کو کھودیتے اور یہ سوچ کر اَعمال کرنا چھوڑ دیتے کہ جب عذاب سے بچنے کے لیے اِیمان ہی کافی ہے تو پھر نماز روزے کی کیا ضرورت ہے ۔ چنانچہ ،مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس طرح کہ مقصدِ کلام سمجھیں گے نہیں اور اَعمال چھوڑدیں گے کہ جب فقط درستیٔ عقیدہ سے ہی عذاب سے نجات مل جاتی ہے تو نماز وغیرہ عبادات کی کیا ضرورت ہے ؟اس سے معلوم ہوا کہ عالِم عوام کو وہ مسئلہ نہ بتائے
جو اُن کی سمجھ سے وَرا ہو ۔ خیال رہے کہ حضرت معاذ نے اس وقت بشارت نہ دی بلکہ یہ حدیث بطور خبر بعد میں بعض خواص کو سنادی لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥اُمید کے سبب جہنم سے چھٹکارا :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ربّعَزَّ وَجَلَّکی رحمت بہت بڑی ہے ، وہ کل بروزِ قیامت بعض لوگوں کو جہنم میں ڈالنے کے بعد فقط اپنی رحمت سے اُمید رکھنے کے سبب نکالے گا اور انہیں داخل جنت فرمائے گا ۔ چنانچہ رسولِ اکرم ، شاہ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ایک شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو وہ وہاں ایک ہزار1000سال تک ’’یَاحَنَّانُ یَا مَنَّانُ‘‘ کہہ کراللہ عَزَّ وَجَلَّکو پکارتا رہے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّجبریل امین سے فرمائے گا : ’’جاؤ ! میرے بندے کو لے کر آؤ ۔ ‘‘ چنانچہ وہ اسے لے کر آئیں گے اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں پیش کردیں گے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاس سے دریافت فرمائے گا : ’’تونے اپنا ٹھکانا کیسا پایا؟ ‘‘ وہ عرض کرے گا : ’’بہت بُرا ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرمائے گا : ’’اسے دوبارہ وہیں لے جاؤ ۔ ‘‘ وہ جارہا ہوگا تو پیچھے مڑ کر دیکھے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا : ’’کیا دیکھتا ہے ؟ ‘‘ وہ عرض کرے گا : ’’مجھے تجھ سے یہ امید تھی کہ ایک مرتبہ جہنم سے نکالنے کے بعد مجھے دوبارہ اس میں نہیں بھیجے گا ۔ ‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّفرمائے گا : ’’اسے جنت میں لے جاؤ ۔ ‘‘ ( )
مُعاف فضل وکرم سے ہو ہر خطا یاربّ ……… ہو مغفرت پئے سلطان انبیاء یاربّ
بلا حساب ہو جنت میں داخلہ یاربّ ……… پڑوس خلد میں سرور کا ہو عطا یاربّمدنی گلدستہ
’’شَافِعِ اُمَّت ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اُس کا بندوں پرحق ہے ۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ربّ ہونے کا تقاضا ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے ۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّپر کسی کا کوئی حق واجب نہیں بلکہ اس نے اپنے ذمہ کرم پر لازم کرلیا ہے ۔
(4) بعض گنہگار مسلمان جہنم میں جائیں گے اور اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں جائیں گے ۔
(5) ہمیں چاہیے کہ اس دنیا میں نیک اعمال کریں تاکہ جنت میں اعلیٰ درجات کو پا سکیں ۔
(6) عالِم کو چاہیے کہ عوام کو وہ مسئلہ نہ بتائے جو اُن کی سمجھ سے ورا ہو ۔
(7) ربّ تعالیٰ سے اچھی اُمیداِنسان کو جنت میں لے جاتی ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اور اپنے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی بلا حساب مغفرت فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 426