Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 425

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي اِبْرَاهِيْمَ : ( رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-) وَقَوْلَ عِيْسٰى : ( اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ

عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸) ) فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اُمَّتِيْ اُمَّتِيْ وَبَكٰى فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا جِبْرِيْلُ ! اذْهَبْ اِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْكِيْہِ؟ فَاَتَاهُ جِبْرِيْلُ فَاَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ وَهُوَ اَعْلَمُ فَقَالَ اللهُ تَعَالَی : يَا جِبْرِيْلُ ! اذْهَبْ اِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ : اِنَّا سَنُرْضِيْكَ فِي اُمَّتِكَ وَلَا نَسُوءُكَ. ( )

عن عبد الله بن عمرو بن العاص ان النبي صلى الله عليه وسلم : تلا قول الله عز وجل في ابراهيم : ( رب انهن اضللن كثیرا من الناس-فمن تبعنی فانه منی-) وقول عيسى : ( ان تعذبهم فانهم

عبادك-و ان تغفر لهم فانك انت العزیز الحكیم(۱۱۸) ) فرفع يديه وقال : اللهم امتي امتي وبكى فقال الله عز وجل : يا جبريل ! اذهب الى محمد وربك اعلم فسله ما يبكيہ؟ فاتاه جبريل فاخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم بما قال وهو اعلم فقال الله تعالی : يا جبريل ! اذهب الى محمد فقل : انا سنرضيك في امتك ولا نسوءك. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنَا ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَامکے بارے میں نازل ہونے والےاللہ عَزَّوَجَلَّکے اس فرمان عالیشان کی تلاوت کی :رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-(پ۱۳ ،ابراھیم:۳۶ )ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے ربّ ! بے شک بتوں نے بہت لوگ بہکا دئیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے ۔
پھر قرآن میں موجودحضرت عیسیٰ
عَلَیْہِ السَّلَامکے اِس قول کی تلاوت فرمائی :اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸)(پ۷ ،المائدۃ: ۱۱۸ )ترجمۂ کنزالایمان: اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا ۔
پھر آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا دئیے اور بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں یوں عرض گزار ہوئے : ”اَللّٰهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِيیعنی اے میرے ربّ ! میری اُمَّت ( کو بخش دے ) میری اُمَّت ( کو بخش دے ) ۔ “اور ساتھ ہی رونے لگے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا : ” اے جبریل ! محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے پاس جاؤ ! حالانکہ تمہارا ربعَزَّوَجَلَّجانتا ہے اور ان سے پوچھو کہ انہیں کس چیز نے رُلایا؟“ پھر حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے ،رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُنہیں وہ دعا بتائی جو مانگی تھی حالانکہ ربّعَزَّوَجَلَّجانتا ہے ، پھراللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا : ” اے جبریل ! محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے پاس جاؤ ! اور کہو کہ ہم آپ کی اُمَّت کے

بارے میں آپ کو خوش کردیں گے اور آپ کو غم میں مبتلا نہیں کریں گے ۔ “
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ” ریاض الصالحین“ میں مذکورہ حدیث پاک میں جو پہلی آیت ذکر فرمائی ہے اُس کا آخری جزء ذکر نہیں فرمایا جبکہ اس آخری جزء کی مذکورہ باب سے مناسبت بھی ہے ۔ نیز مسلم شریف کے بعض نسخوں میں اور احادیث کی دیگر کئی کتب میں بھی آیت کا آخری جزء مذکور ہے ۔ پوری آیت مبارکہ یوں ہے :رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)(پ۱۳ ،ابراھیم:۳۶ )ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے ربّ ! بے شک بتوں نے بہت لوگ بہکا دئیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے ۔ اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔

شرح حدیث

حضور کی بارگاہِ الٰہی میں وجاہت و عزت :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث بہت سے فوائد پر مشتمل ہے ۔ ٭مثلاً اِس حدیث میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت پر انتہائی شفقت فرمانے والے اوراُن کے فوائد کی پرواہ کرنے والے ہیں ۔ ٭دعا کے لیے ہاتھ بلند کرنا مستحب ہے ۔ ٭اِس حدیث میں اُمَّتِ مسلمہ کے لیے بہت بڑی بشارت ہے ۔ ٭یہ حدیث اُن اَحادیث میں سے ہے جن میں اِس اُمَّت کے لیے رحمتِ الٰہی سے اُمید دلائی گئی ہے ۔ ٭اِس حدیث سے بارگاہِ خداوندی میں حضور نبی اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مَرتبے کا پتہ چلتا ہے ۔ ٭اور یہ بھی کہ حضورنبی رَحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپراللہ عَزَّوَجَلَّکا خاص لطف و کرم ہے ۔ ٭حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامکو حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بھیجنے میں حکمت یہ ہے کہ آپعَلَیْہِ السَّلَامکے شرف کا اِظہار ہو اور یہ کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہاللہتعالیٰ آپ کی رضا چاہتا ہے اور آپ کو وہ عزت و مقام عطا فرمائے گا جس سے آپ راضی ہو جائیں گے ۔ حدیث پاک میں ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’ ہم تمہیں راضی کردیں گے اور تمہیں غمگین نہ کریں گے ۔ “یہ تاکید کے لیے فرمایا کیونکہ رضا مندی تو اِس طرح بھی حاصل ہوجاتی ہے کہ بعض گنہگاروں کو معاف کردیا جائے اور باقی ماندہ کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکناللہ عَزَّوَجَلَّنے

تاکید فرمائی کہ ہم آپ کو غمگین نہیں کریں گے بلکہ تمام اُمت کو معاف کردیں گے ۔ ‘‘ ( )
¥
حضور اپنی اُمَّت پر اِنتہائی شفیق ہیں :اِس حدیث پاک سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت سے کس قدر محبت فرماتے ہیں کہ اپنی اُمَّت کے لیےاللہ عَزَّوَجَلَّسے رو رو کر درخواست کرتے ہیں کہ اے میرے رب ! میری اُمَّت کو بخش دے ۔ وہ رؤف رحیم ہیں ، ہمارا مشقت میں پڑنا انہیں بہت گراں گزرتا ہے ۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد ہوتاہے : (α عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ) (پ۱۱ ،التوبۃ: ۱۲۸ )ترجمۂ کنزالایمان: جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے ۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دونوں دستِ کرم بلند کردئیے اور ربعَزَّوَجَلَّسے عرض گزار ہوئے : ” اے میرے ربّ ! میری اُمَّت میری اُمَّت“یعنی اےاللہ عَزَّ وَجَلَّمیری امت کو بخش دے ، اےاللہ عَزَّ وَجَلَّمیری امت پر رحم فرما ، دو بار اُمَّتی اُمَّتی فرماناتکرار کے لیے ہے یا تاکید کے لیے یا پھر اس سے پہلے کے لوگ اور بعد میں آنے والے لوگ مراد ہیں ۔ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروئے ، کیونکہ حضورپاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم اور حضرتِ سَیِّدُنا عیسیعَلَیْہِمَا السَّلَامکی ( قران میں ذکر کی گئی ) شفاعت کا ذکر پڑھا تو آپ کو اپنی اُمَّت یادآگئی جس کی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔ “ ( )
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکیا خوب فرماتے ہیں :
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے …… آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ …… ہم سے پیاسوں کے لیے دریا بہاتے جائیں گے
¥
شفاعت کے لیے ایمان شرط ہے :حضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت اُس کے لیے بھی ہے جو اِیمان کی حالت میں اپنے

گناہوں سے توبہ کیے بغیر مرگیاجیسا کہ آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے : ”شَفَاعَتِي لِاَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِيیعنی میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۔ ‘‘ ( ) یہاں اُمَّت سے مراد اُمَّتِ دعوت نہیں بلکہ امتِ اجابت یعنی مسلمان ہیں البتہ جس کا خاتمہ کفر پر ہوااس کے لیے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نہیں کیونکہ اس کے بارے میں خوداللہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتاہے : (اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-) (پ۵ ،النساء: ۴۸ )ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔
¥
حضور کا رونا ہماری خوشی کا ذریعہ :مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’ ان دو محبوب نبیوں کی شفاعت کا ذکر پڑھا تو شفیع المذنبین (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا دریائے رحمت جوش میں آگیا ، اپنی گنہگار اُمَّت یاد آگئی اور اس وقت شفاعت فرمائی ۔ معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید میں جیسی آیت تلاوت کرے اسی طرح کی دعا مانگے یہ سنتِرسولُ اللہہے ۔ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ۔ دعا کے وقت رونا علامتِ قبولیت ہے ، پھر حضورِانور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا رونا ، حضور کے آنسوسُبْحٰنَ اللہ! حضور کا رونا ہماری ہنسی و خوشی کا ذریعہ ہے ، بادل روتا ہے تو چمن ہنستا ہے ۔ (اللہ عَزَّوَجَلَّنے فرمایا : ” ہم آپ کی اُمَّت کے بارے میں آپ کو خوش کردیں گے ۔ “ ) یعنی آپ اپنی اُمَّت کے متعلق جو چاہیں گے جو کہیں گے ہم وہ ہی کریں گے ۔ اَحادیث میں ہے کہ اس پر حضور انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے عرض کیا کہ تیری عزت کی قسم ! میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب تک کہ میرا ایک اُمَّتی بھی دوزخ میں ہو ، خدا کرے ہم اُمَّتی رہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
عشق ومحبت کے کھوکھلے دعوے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک ہم گناہگاروں کے لیے امید کی شمع ہے ، حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو اپنی امت سے ایسی حقیقت محبت فرمائیں کہ جب تک تمام امت کو داخل جنت نہ فرمالیں قلب اَطہر کو قرار نہ آئے اور ایک ہم اُمتیوں کی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت ہے ،

افسوس ! صد کروڑ افسوس ! اب مسلمانوں کی اکثریت کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ عشق و محبت کے کھوکھلے دعوے اور جان ومال لٹانے کے محض نعرے لگاتے ہیں ، ظاہری حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا اِن کے نزدیک دُنیا کی قَدر ( عزّت ) اس قدر بڑھ گئی ہے کہ
مَعَاذَاللہاسلامی اَقدار کی کوئی پرواہ نہیں رہی ، نبی رحمت ، غمگسارِاُمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھوں کی ٹھنڈ ک ( یعنی نماز ) کی پابندی کا کچھ لحاظ نہیں ، غیروں کی نقّالی میں اِس قدرمحویت کہ اتباع سنّت کا بالکل خیال نہیں ۔ صبح اٹھنے سے لے کر رات کو سونے تک ہمارا لمحہ لمحہ گناہوں میں بسر ہوتا ہے ، حالانکہ راہِ عشق میں عاشق تو اپنی ذات کی پرواہ نہیں کرتابلکہ اس کی دلی تمنّایہی ہوتی ہے کہ میں ہر اس بات پر عمل کروں جس سے میرا محبوب راضی ہوجائے ، جس بات سے میرا محبوب ناراض ہوتا ہے میں اس کے قریب بھی نہ جاؤں ، عاشق حقیقی تو رضائے محبوب کی خاطر اپنا سب کچھ لُٹادیتا ہے ۔ کاش ! ہمارے اندر بھی ایسا جذبہ صادقہ پیدا ہوجائے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیب ، ہم گناہگاروں کے طبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا کی خاطر گناہوں کو ترک کردیں ،اللہورسول کی رضا والے کاموں میں زندگی بسر کرنے والے بن جائیں ، ان کی رضا کی خاطراپنا سب کچھ قربان کر دیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں حقیقی عشق ومحبت عطا فرمائے ۔ آمین
تو انگریزی فیشن سے ہر دم بچا کر …… مجھے سنّتوں پر چلا یاالٰہی
غمِ مصطفی دے غمِ مصطفی دے …… ہو دردِ مدینہ عطا یاالٰہی
محبت میں اپنی گما یا الٰہی …… نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی
مدنی گلدستہ
’’ شفاعت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اُن پر بہت زیادہ شفیق ومہربان ہیں ۔
(2) دعا کے لیے ہاتھ بلند کرنا مستحب ہے ، نیز دعا کے وقت رونا دعا کی قبولیت کی علامت ہے ۔

(3)
اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بڑی عزت و وَجاہت ہے ۔
(4) حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت کی فکر میں رویا کرتے تھے ۔
(5) حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت اُن گنہگاروں کے لیے بھی ہے جو اِیمان کی حالت میں اِس دنیا سے چلے گئے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی حالت میں موت نصیب فرمائے ، اور کل بروزِ قیامت حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 425