- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 433
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ : اَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ اَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُولُ : رَبِّ اَعْرِفُ ، قَالَ : فَاِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَاِنِّي اَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ. ( )
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يدنى المؤمن يوم القيامة من ربه عز وجل حتى يضع كنفه عليه فيقرره بذنوبه فيقول : اتعرف ذنب كذا؟ اتعرف ذنب كذا؟ فيقول : رب اعرف ، قال : فاني قد سترتها عليك في الدنيا واني اغفرها لك اليوم فيعطى صحيفة حسناته. ( )
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نے حضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’قیامت کے دن بندۂ مؤمن کواپنے ربّعَزَّوَجَلَّکے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہاللہ عَزَّوَجَلَّاس پر اپنا پردہ رکھے گا اور اس سے گناہوں کا اِقرار کرواتے ہوئے پوچھے گا : کیاتو اِس گناہ کو پہچانتا ہے ؟ کیاتو
اِس گناہ کو پہچانتا ہے ؟ تو بندہ عرض کرے گا : ہاں میرے ربّ ! میں پہچانتا ہوں ۔اللہ عَزَّوَجَلَّارشاد فر مائے گا : بیشک دنیا میں ، میں نے تیرے گناہوں کو چھپایا تھا اور آج تیرے گناہوں کو بخشتا ہوں ۔ پھر اس کی نیکیوں کارجسٹر اس کو دے دیا جائے گا ۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک کی باب سے مناسبت :مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت کا زبردست بیان موجود ہے کہ قیامت کے دناللہ عَزَّوَجَلَّمسلمانوں کو اپنا قُربِِ خاص عطافر مائے گا نیز بندوں کو اُن کے گناہوں پر عذاب دینے کے بجائے معاف فرما ئے گا اور اُن کی نیکیوں والا نامَۂ اعمال اُن کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا ۔ یقیناً تمام مسلمانوں کے لیے یہ ربّ تعالیٰ کی رحمت سے بخشش ومغفرت کی ایک بڑی اُمید ہے ، یہ باب بھی رحمتِ الٰہی سے اُمید کے بارے میں ہے ، اس لیے علامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے یہ حدیث اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
¥قُربِ الٰہی کی کیفیت :حدیث پاک میں ہے : ’’قیامت کے دن بندۂ مؤمن کواپنے ربّعَزَّوَجَلَّکے قریب کردیا جائے گا ۔ “یہاں قربت سے مراد مکانی قربت نہیں بلکہ مرتبے اور درجے کے لحاظ سے قُربت مراد ہے کیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّمکان و مسافت سے پاک ہے جیسا کہعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’قُربِ الٰہی کامعنیٰ یہ ہے کہ مرتبے اوراِحسان میں قریب ہونا ، نہ کہ مسافت میں قریب ہونا کیونکہاللہتعالیٰ مسافت اورا ُس کے قُرب سے پاک سے ہے ۔ ‘‘ ( )
نزہۃ القاری میں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّشہید وبصیر ہے بندہ کہیں بھی ہواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے قریب ہے ، اس لیے شراح نے اس سے تَقَرُّبِ رُتبی مراد لیا ہے نہ کہ تَقَرُّبِ مکانی ۔ اس سے مراد اِظہارِ تَقَرُّب ہے یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی کوئی خاص تجلی ظاہر فرمائے گا جس سے بندہ یہ محسوس کرے گا کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے قریب ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے فضلِ خصوصی سے اس بندۂ گنہگار کو اپنی تجلی میں ایسا چھپالے گا کہ دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ رہے گا اور جو کلام فرمائے گا اس پر اس کے دوسرے بندے مطلع نہ ہوں گے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی شان
کریمی کا یہ ایک جلوہ ہے کہ اپنے کسی گنہگار بندے پر یہ عنایتِ خصوصی فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥یہ حدیث متشابہات سے ہے :یہ حدیث پاک متشابہات میں سے ہے ، متشابہ حدیث وہ ہوتی ہے جس کے حقیقی معنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کا رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں اور اس کے الفاظوں کے ظاہری معنی مراد نہیں ہوتے ۔ چنانچہ عمدۃ القاری میںعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث متشابہات میں سے ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے معنیٰ کواللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر چھوڑ دیا جائے یا ایسی تاویل کی جائے تو اس کے لائق ہو ۔ ‘‘ ( )
¥روزِ محشرحضور کی اُمَّت رُسوا نہ ہوگی :اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کواپنی رحمت کے سایہ میں چھپالے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جباللہ عَزَّوَجَلَّاس سے اس کے گناہوں کا اِقرار کروائے تو ساری مخلوق کے سامنے اُس کی ذِلَّت و رُسوائی نہ ہو اور مخلوق اُس کے گناہوں پر مطلع نہ ہو ۔اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اہلِ محشر سے اس کو چھپالے گا اور اُس بندے کو شرمندگی و رُسوائی سے بچائے گا ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے محفوظ فرمالے گا اور اس کو میدانِ محشر سے جُدا کرتے ہوئے اہلِ محشر سے وہاں چھپالے گا جہاں وہ ربّ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کو خفیہ طور پر ذکر فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )پردہ پوش آقا کی اُمَّت کی پردہ پوشی :جب ربّ تعالیٰ بندے کو اس کے گناہ یاد دلائے گا تو مؤمن فوراً اپنے گناہوں کا اِقرار کرلے گا جبکہ کافر حیلے بہانے کریں گے جیسا کہمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس فرمانِ عالی سے دو باتیں معلوم ہوئیں : ( 1 ) ایک یہ کہ مؤمن اپنے گناہوں کا فورًا اِقرار کرے گا وہاں بہانے نہ بنائے گا ، کفار جھوٹ بولیں گے : (α وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ(۲۳)) (پ۷ ،الانعام:۲۳ ) (ترجمۂ کنزالایمان: ہمیں اپنے رباللہکی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے ۔ ) ( 2 ) دوسرے یہ کہ مؤمنوں کی نیکیوں کا حساب علانیہ ہوگا گناہوں کا حساب خفیہ ہوگا بلکہ نیکوں کی نیکی چہروں پر نمودار ہوگی کہ اُن کے منہ چمکتے ہوں گے مگر بدوں کی برائیاں چہروں پر ظاہر نہ ہوں گی ، اُن کے منہ نہ بگڑیں گے ، کیوں نہ ہو کہ یہ لوگ پردہ پوش لجپال محبوبصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اُمَّت ہیں ، ان کی پردہ پوشی دنیا میں بھی ہے ، آخرت میں بھی ہوگی ۔ ‘‘ ( )اُمَّتِ مسلمہ پر ربِّ کریم کا فضلِ عظیم :” شرح ابن بطال“ میں ہے : ’’امام مہلبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا اپنے مؤمن بندوں پر بڑا فضل ہے کہ وہ قیامت کے دن اُن کے گناہوں کو چھپائے گااور اُن میں سے جس کے چاہے گا گناہوں کو معاف فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )
¥معافی کے بعد عتاب کرنا ربّ کی شان نہیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مؤمنوں پر کل بروزِقیامت ان کے ربّ کریمعَزَّ وَجَلَّکا یہ بہت بڑا فضل ہوگا کہ وہ ان کے گناہوں کو چھپائے گا ، اور ربّ تعالیٰ جس کے گناہوں کو معاف فرمادے گا پھر اس پر عتاب نہ فرمائے گا کہ معافی کے بعد عتاب کرنا ہمارے ربّعَزَّ وَجَلَّکی شان نہیں ہے ۔ چنانچہ حضرت سیدنا محمد بن حنفیہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہامیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی : (فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ(۸۵)) (پ۱۴ ،الحجر:۸۵ )ترجمۂ کنزالایمان: ’’تو تم اچھی طرح درگزر کرو ۔ ‘‘ تو رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا : ’’اے جبریل !اَلصَّفْحُ الْجَمِیْلکیا ہے ؟ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامنے جواب دیا : ’’جب آپ ظلم کرنے والے کو معاف کردیں تو پھر اُسے ملامت نہ کریں ۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اے جبریل !
پھر تواللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے کرم کی بدولت اِس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ جس سے درگزر فرمائے تو اُس پر عتاب نہ کرے ۔ ‘‘ یہ سن کر سَیِّدُنَا جبریلعَلَیْہِ السَّلَامرونے لگے اور رسولِ پاک ، صاحب لَولَاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی رونے لگے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان دونوں کی طرف حضرت سَیِّدُنَا میکائیلعَلَیْہِ السَّلَامکو پیغام دے کر بھیجا کہ تمہارا رب تم دونوں کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے : ’’جس کومیں معاف کردوں گا اس پرعتاب کیسے کروں گا؟ ایسا کرنا میرے کرم کے شایان شان نہیں ۔ ‘‘ ( )
مٹا دے ساری خطائیں مری مٹا یاربّ ……… بنا دے نیک بنا نیک دے بنا یاربّ
گناہ گار ہوں میں لائق جہنم ہوں ……… کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یاربّ
گناہ بے عدد اور جرم بھی ہیں لاتعداد ……… معاف کردے نہ سہہ پاؤں گا سزا یاربّ
میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کردے شرف عطا یاربّمدنی گلدستہ
’’وہ غفور ہے ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1)قیامت کے دناللہ عَزَّ وَجَلَّمؤمنوں کو قُربِ خاص سے نوازے گا ۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّدنیا میں بھی مسلمانوں کے گناہوں کو ظاہرنہیں فرماتا ۔
(3) قیامت کے دناللہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اُنہیں ساری مخلوق کے سامنے رُسوا نہیں فرمائے گا ۔
(4)اللہ عَزَّ وَجَلَّقیامت کے دن مسلمانوں کے گناہوں کو معاف فر مائے گا ۔
(5) مسلمانوں کی صرف نیکیاں ظاہر ہوں گی ۔
(6) کفارِ بد اَطوار روزِ محشر بھی ربّ تعالیٰ کی پاک بار گاہ میںمَعَاذاللہجھوٹ بولیں گے ۔
(7) روزِ محشر نیکوں کے چہرے چمکتے ہوں گے ۔
(8)اللہ عَزَّ وَجَلَّمکان اور قریب و بعید ہونے سے پاک ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ کل بروزِ قیامت ہمیں بلا حساب وکتاب جنت میں داخل فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 433