- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 424
اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 424
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : كُنَّا قُعُوْدًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ اَظْهُرِنَا فَاَبْطَاَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا اَنْ يُقْتَطَعَ دُوْنَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ اَبْتَغِيْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى اَتَيْتُ حَائِطًا لِلْاَنْصَارِ وَذَكَرَ الْحَدِيْثَ بِطُوْلِهِ اِلَي قَوْلِهِ : فَقَالَ رَسُوْلُ الله اِذْهَبْ فَمَنْ لَقِيتَ وَرَاءَ هَذَا الْحَائِـطِ يَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ. ( )
عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال : كنا قعودا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم معنا ابو بكر وعمر رضي الله عنهما في نفر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين اظهرنا فابطا علينا وخشينا ان يقتطع دوننا وفزعنا فقمنا فكنت اول من فزع فخرجت ابتغي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتيت حائطا للانصار وذكر الحديث بطوله الي قوله : فقال رسول الله اذهب فمن لقيت وراء هذا الحائـط يشهد ان لا اله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہمرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے ساتھ چند دیگر لوگوں کے ہمراہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ، پھر رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واپس تشریف لانے میں دیر کردی تو ہمیں خوف ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں حضور کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ، پس ہم گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے ، سب سے پہلے گھبرانے والا میں تھا ، پھر میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ڈھونڈنے کے لیے نکلا ، میں ایک انصاری کے باغ کی دیوار کے پاس پہنچا ۔ ‘‘ پھر سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس طویل حدیث کو یہاں تک ذکر کیا کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اے ابو ہریرہ ! جاؤ اِس دیوار کے پیچھے جو بھی تمہیں اس بات کی گواہی دیتا ہوئے ملے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور اُس کا دل اُس گواہی پر مطمئن ہو تو اُسے جنت کی خوشخبری دے دینا ۔ ‘‘
شرح حدیث
مذکورہ حدیث میں بھی دیگر احادیث کی طرح رحمتِ الٰہی کی وُسعت کا بیان ہے کہ جو سچے دل سےاللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لائے وہ جنت میں جائے گا تو اس حدیث میں سچے دل سے کلمہ گو مسلمان کے لیے مغفرت کی بڑی اُمید ہے ۔
¥توحید و رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے :حدیث پاک میں صرف توحید (لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ) کا ذکر ہے رسالت (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ) کا ذکر نہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرفلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُکہنے سے مسلمان ہوجائے گا بلکہ توحید کے ساتھ ساتھ رسالت کا اقرار کرنا بھی لازم ہے ۔ یعنیلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِکہنا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے ۔ چنانچہ ” مرقاۃ المفاتیح“میں ہے : ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ،لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُکا لازم ہے ( یعنی جو توحید کا قائل ہومسلمان ہونے کے لیے اس پر لازم ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کو بھی مانتا ہو ۔ ) اور اُس کا دل اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہو ، اُسے اِجمالی اِیمان توحید اور نبوت میں کسی قسم کا شک یا تردد نہیں تو اُسے جنت کی خوشخبری دو ۔ ‘‘ ( )
¥کلمہ گو جنت میں کب جائے گا؟حدیث پاک میں فرمایا : ’’ ( جو توحید و رسالت کی گواہی دے ) اُسے جنت کی خوشخبری دو ۔ “ حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جو بھی کلمہ پڑھے وہ جنت میں جائے گا خواہ اس نے گناہ کیے ہوں؟ ” دلیل الفالحین“ میں اس کی یہ مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں : ٭’’ ابتدا ہی میں جنت میں جائے گااس طرح کہ اسلام لانے کے بعد گناہوں میں مبتلا ہوئے بغیر مر گیا تو وہ جنت میں جائے گایا٭اسلام لانے کے بعد اُس نے کوئی گناہ نہ کیا تب بھی جنت ہی میں جائے گایا٭اُس نے صغیرہ گناہ کیے لیکن اس کی نیکیاں گناہوں سے زیادہ تھیں تو بھی
جنت میں جائے گایا٭ کبیرہ گناہ کیے تھے لیکن اُن سے توبہ کرلی تھی تو بھی جنت میں جائے گایا ٭ اگر اُس نے صغیرہ گناہ کیے تھے اور وہ اس کی نیکیوں سے زیادہ تھے یا کبیرہ گناہ کیے تھے اور بغیر توبہ کیے مر گیا تو پھر پہلے اپنے گناہوں کی سزا پانے کے لیے جہنم میں جائے گا اور سزا پانے کے بعد بالآخر جنت میں جائے گا ۔ ٭یہ بھی ممکن ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّمحض اپنے فضل و کرم سے ( بلا حساب و کتاب ) ابتدا ہی میں جنت میں داخل فرمادے جیسا کہ اُس کا فرمانِ عالیشان ہے : (وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-) (پ۵ ،النساء: ۴۸ )ترجمۂ کنزالایمان: اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔ ( )
¥واہ ! یہ تو خوشی کی بات ہے :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۹۱۲ صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلدچہارم ، صفحہ۴۲۳پر ہے : حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بن اَکثمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکے وِصال کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھ کر پوچھا :مَافَعَلَ اللہُ بِکَیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ انہوں نے کہا :اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اپنی بارگاہِ عالی میں کھڑا کرکے فرمایا : ’’اے بدعمل بڈھے ! تونے فلاں فلاں کام کیا ۔ ‘‘ فرماتے ہیں : مجھ پر اس قدر رُعب طاری ہوگیا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّہی جانتاہے ۔ پھر میں نے عرض کی : اے میرے ربّعَزَّ وَجَلَّ! مجھے تیرا یہ حال نہیں بتایا گیا ہے ۔ ارشاد فرمایا : ’’پھر میرے بارے میں کیا بیان کیا گیا ؟ ‘‘ میں نے عرض کی : مجھ سے حضرت عبد الرزاق نے ، ان سے حضرت معمر نے ، ان سے حضرت امام زہری نے اور ان سے حضرت سَیِّدُنَاانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے اور وہ تیرے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکے حوالے سے بیان فرمایا کہ تو فرماتا ہے : ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں تو وہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے ۔ ‘‘ میرا گمان یہ تھا کہ تو مجھے عذاب نہیں دے گا ۔ تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’جبریل نے سچ کہا ، میرے نبی نے سچ کہا ، انس ، زُہری ، معمر ، عبدالرزاق نے بھی سچ کہا اور میں نے بھی سچ کہا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بِن اَکثمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں : ’’پھر مجھے جنتی لباس پہنایا گیا اور جنت تک میرے آگے آگے غلام چلتے رہے تو میں نے کہا : ’’واہ ! یہ تو خوشی کی بات ہے ۔ ‘‘
مِٹادے ساری خطائیں مِری مِٹا یارب ……… بنا دے نیک بنا نیک دے بنا یاربّ
نہیں ہے نامہ ٔ عطار میں کوئی نیکی ……… فقط ہے تیری ہی رحمت کا آسرا یاربّمدنی گلدستہ
’’رسول ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)کسی بھی مقتدیٰ یا پیشوا کو اپنے اَصحاب و سائلین کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ وہ اِس کے علم سے فائدہ اٹھا سکیں ۔
(2) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہت زیادہ محبت کرتے تھے حتّٰی کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آنے میں دیر ہوجاتی تو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبے چین و بے قرار ہو جاتے تھے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ڈھونڈنے نکل جاتے تھے ۔
(3) جنت میں داخلے کے لیے سچے دل سےاللہ عَزَّوَجَلَّکی وحدانیت اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت پر ایمان لانا اور زبان سے اِقرار کرنا ضروری ہے ۔
(4) جو بھی کلمہ گو مسلمان ایمان کی حالت میں مرے گا وہ جنت میں جائے گا یا اگر نیک ہے تو ابتدامیں جنت میں جائے گا اور اگر گنہگار ہے تو اپنے گناہوں کی سزا پاکربالآخر جنت میں جائے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے ، ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 424