Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 424

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : كُنَّا قُعُوْدًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا اَبُوْ بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَفَرٍ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ اَظْهُرِنَا فَاَبْطَاَ عَلَيْنَا وَخَشِينَا اَنْ يُقْتَطَعَ دُوْنَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ اَبْتَغِيْ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى اَتَيْتُ حَائِطًا لِلْاَنْصَارِ وَذَكَرَ الْحَدِيْثَ بِطُوْلِهِ اِلَي قَوْلِهِ : فَقَالَ رَسُوْلُ الله اِذْهَبْ فَمَنْ لَقِيتَ وَرَاءَ هَذَا الْحَائِـطِ يَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ. ( )

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال : كنا قعودا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم معنا ابو بكر وعمر رضي الله عنهما في نفر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين اظهرنا فابطا علينا وخشينا ان يقتطع دوننا وفزعنا فقمنا فكنت اول من فزع فخرجت ابتغي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتيت حائطا للانصار وذكر الحديث بطوله الي قوله : فقال رسول الله اذهب فمن لقيت وراء هذا الحائـط يشهد ان لا اله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہمرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے ساتھ چند دیگر لوگوں کے ہمراہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکرصدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُبھی تھے ، پھر رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے ، حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے واپس تشریف لانے میں دیر کردی تو ہمیں خوف ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں حضور کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ، پس ہم گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے ، سب سے پہلے گھبرانے والا میں تھا ، پھر میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ڈھونڈنے کے لیے نکلا ، میں ایک انصاری کے باغ کی دیوار کے پاس پہنچا ۔ ‘‘ پھر سَیِّدُنَاابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ
نے اس طویل حدیث کو یہاں تک ذکر کیا کہ
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اے ابو ہریرہ ! جاؤ اِس دیوار کے پیچھے جو بھی تمہیں اس بات کی گواہی دیتا ہوئے ملے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور اُس کا دل اُس گواہی پر مطمئن ہو تو اُسے جنت کی خوشخبری دے دینا ۔ ‘‘

شرح حدیث

مذکورہ حدیث میں بھی دیگر احادیث کی طرح رحمتِ الٰہی کی وُسعت کا بیان ہے کہ جو سچے دل سےاللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لائے وہ جنت میں جائے گا تو اس حدیث میں سچے دل سے کلمہ گو مسلمان کے لیے مغفرت کی بڑی اُمید ہے ۔
¥
توحید و رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے :حدیث پاک میں صرف توحید (لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ) کا ذکر ہے رسالت (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ) کا ذکر نہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرفلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُکہنے سے مسلمان ہوجائے گا بلکہ توحید کے ساتھ ساتھ رسالت کا اقرار کرنا بھی لازم ہے ۔ یعنیلَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِکہنا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے ۔ چنانچہ ” مرقاۃ المفاتیح“میں ہے : ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ،لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُکا لازم ہے ( یعنی جو توحید کا قائل ہومسلمان ہونے کے لیے اس پر لازم ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کو بھی مانتا ہو ۔ ) اور اُس کا دل اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہو ، اُسے اِجمالی اِیمان توحید اور نبوت میں کسی قسم کا شک یا تردد نہیں تو اُسے جنت کی خوشخبری دو ۔ ‘‘ ( )
¥
کلمہ گو جنت میں کب جائے گا؟حدیث پاک میں فرمایا : ’’ ( جو توحید و رسالت کی گواہی دے ) اُسے جنت کی خوشخبری دو ۔ “ حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جو بھی کلمہ پڑھے وہ جنت میں جائے گا خواہ اس نے گناہ کیے ہوں؟ ” دلیل الفالحین“ میں اس کی یہ مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں : ٭’’ ابتدا ہی میں جنت میں جائے گااس طرح کہ اسلام لانے کے بعد گناہوں میں مبتلا ہوئے بغیر مر گیا تو وہ جنت میں جائے گایا٭اسلام لانے کے بعد اُس نے کوئی گناہ نہ کیا تب بھی جنت ہی میں جائے گایا٭اُس نے صغیرہ گناہ کیے لیکن اس کی نیکیاں گناہوں سے زیادہ تھیں تو بھی

جنت میں جائے گایا٭ کبیرہ گناہ کیے تھے لیکن اُن سے توبہ کرلی تھی تو بھی جنت میں جائے گایا ٭ اگر اُس نے صغیرہ گناہ کیے تھے اور وہ اس کی نیکیوں سے زیادہ تھے یا کبیرہ گناہ کیے تھے اور بغیر توبہ کیے مر گیا تو پھر پہلے اپنے گناہوں کی سزا پانے کے لیے جہنم میں جائے گا اور سزا پانے کے بعد بالآخر جنت میں جائے گا ۔ ٭یہ بھی ممکن ہے کہ
اللہ عَزَّوَجَلَّمحض اپنے فضل و کرم سے ( بلا حساب و کتاب ) ابتدا ہی میں جنت میں داخل فرمادے جیسا کہ اُس کا فرمانِ عالیشان ہے : (وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-) (پ۵ ،النساء: ۴۸ )ترجمۂ کنزالایمان: اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔ ( )
¥
واہ ! یہ تو خوشی کی بات ہے :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۹۱۲ صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلدچہارم ، صفحہ۴۲۳پر ہے : حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بن اَکثمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکے وِصال کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھ کر پوچھا :مَافَعَلَ اللہُ بِکَیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ انہوں نے کہا :اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اپنی بارگاہِ عالی میں کھڑا کرکے فرمایا : ’’اے بدعمل بڈھے ! تونے فلاں فلاں کام کیا ۔ ‘‘ فرماتے ہیں : مجھ پر اس قدر رُعب طاری ہوگیا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّہی جانتاہے ۔ پھر میں نے عرض کی : اے میرے ربّعَزَّ وَجَلَّ! مجھے تیرا یہ حال نہیں بتایا گیا ہے ۔ ارشاد فرمایا : ’’پھر میرے بارے میں کیا بیان کیا گیا ؟ ‘‘ میں نے عرض کی : مجھ سے حضرت عبد الرزاق نے ، ان سے حضرت معمر نے ، ان سے حضرت امام زہری نے اور ان سے حضرت سَیِّدُنَاانس بن مالکرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے اور وہ تیرے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکے حوالے سے بیان فرمایا کہ تو فرماتا ہے : ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں تو وہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے ۔ ‘‘ میرا گمان یہ تھا کہ تو مجھے عذاب نہیں دے گا ۔ تواللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرمایا : ’’جبریل نے سچ کہا ، میرے نبی نے سچ کہا ، انس ، زُہری ، معمر ، عبدالرزاق نے بھی سچ کہا اور میں نے بھی سچ کہا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بِن اَکثمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمفرماتے ہیں : ’’پھر مجھے جنتی لباس پہنایا گیا اور جنت تک میرے آگے آگے غلام چلتے رہے تو میں نے کہا : ’’واہ ! یہ تو خوشی کی بات ہے ۔ ‘‘

مِٹادے ساری خطائیں مِری مِٹا یارب ……… بنا دے نیک بنا نیک دے بنا یاربّ
نہیں ہے نامہ ٔ عطار میں کوئی نیکی ……… فقط ہے تیری ہی رحمت کا آسرا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’رسول ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
کسی بھی مقتدیٰ یا پیشوا کو اپنے اَصحاب و سائلین کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ وہ اِس کے علم سے فائدہ اٹھا سکیں ۔
(2) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہت زیادہ محبت کرتے تھے حتّٰی کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آنے میں دیر ہوجاتی تو صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبے چین و بے قرار ہو جاتے تھے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ڈھونڈنے نکل جاتے تھے ۔
(3) جنت میں داخلے کے لیے سچے دل سے
اللہ عَزَّوَجَلَّکی وحدانیت اوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت پر ایمان لانا اور زبان سے اِقرار کرنا ضروری ہے ۔
(4) جو بھی کلمہ گو مسلمان ایمان کی حالت میں مرے گا وہ جنت میں جائے گا یا اگر نیک ہے تو ابتدامیں جنت میں جائے گا اور اگر گنہگار ہے تو اپنے گناہوں کی سزا پاکربالآخر جنت میں جائے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے ، ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 424