Main Icon

اُمید کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 439

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ مُوسَى الْاَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا اَرَادَ اللهُ تَعَالٰی رَحْمَةَ اُمَّةٍ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاِذَا اَرَادَ هَلَكَةَ اُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَاَهْلَكَهَا وَهُوَ حَيٌّ يَنْظُرُ فَاَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَاكِهَا حِيْنَ كَذَّبُوْهُ وَعَصَوْا اَمْرَهُ. ( )

عن ابي موسى الاشعری رضی اللہ عنہ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : اذا اراد الله تعالی رحمة امة قبض نبيها قبلها فجعله لها فرطا وسلفا بين يديها واذا اراد هلكة امة عذبها ونبيها حي فاهلكها وهو حي ينظر فاقر عينه بهلاكها حين كذبوه وعصوا امره. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’جباللہ عَزَّ وَجَلَّکسی قوم کے ساتھ رحمت کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس قوم کے نبی کو اُن سے پہلے وفات دیتا ہے اور نبی کو اُس قوم کے لیے پیشرو بنادیتا ہے اور جب کسی قوم کی

ہلاکت کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُن کے نبی کی زندگی میں اس قوم کو عذاب دیتا ہے ، انہیں ہلاک فرماتا ہے ، نبی حیات ہوتے ہیں اور ان کی ہلاکت دیکھ رہے ہوتے ہیں تو اس طرح
اللہ عَزَّوَجَلَّاُن کی ہلاکت سے نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے نبی کو جھٹلایا اور اُس کی حکم عدولی کی ۔ ‘‘

شرح حدیث

مغفرت کی بشارت :مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہاللہ عَزَّوَجَلَّنے اُمَّتِ محمدیہ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمالیا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضورتاجدارِ رسالت ، شہنشاہ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِس اُمَّت کے لیے پیشرو بنا دیا ہے ، اب جب کوئی مسلمان اس دنیا سے جائے گا تو سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنا شفیع پائے گا یہ مغفرت کی بڑی بشارت ہے چنانچہمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’مؤمن مرکر نہ تو لاوارث ہوتا ہے نہ اجنبی گھر میں جاتا ہے ، اس کے والی وارث حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں ، اُن کی آغوشِ رحمت میں جاتاہے ، بھرے گھر میں اُترتا ہے ۔اللہتعالیٰ نے گذشتہ جلالی نبیوں کی نافرمان اُمَّتُوں کو اُن کے سامنے ہلاک فرماکر اُن کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور ہمارے حضور کی نافرمانی اُمَّت کو حضور کے سامنے ہی ہدایت دے کر آپ کا مطیع بناکر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ چنانچہ مکہ معظمہ کے نافرمان کافر فتح مکہ کے دن سارے کے سارے ایمان لائے حضور کے مطیع ہوئے ۔ جلالی پیغمبروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہے ، حضور کی آنکھوں کی ٹھنڈک کچھ اور ، ہر آنکھ کے لیے ٹھنڈا سرمہ علیحدہ ہے ۔ خیال رہے کہ حضورِ اَنور بھی ہر مؤمن کی آنکھ کی ٹھنڈک ، دل کا چین ، بے قراروں کا قرار ، بے کسوں کے کس ، بے بسوں کے بس ، بے سہاروں کے سہارا ہیں ۔ ‘‘ ( )
سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ……… سب سے بالا و والا ہمارا نبی
اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی ……… دونوں عالم کا دُولہا ہمارا نبی
جس نے مردہ دلوں کو دی عمرِ اَبَد ……… ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
غمزدوں کو رضا مُژدہ دیجے کہ ہے ……… بے کسوں کا سہارا ہمارا نبی

¥
زندگی اور وِصال دونوں بہتر :فرمانِ مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے : ’’میری زندگی اور وصال دونوں تمہارے لئے بہتر ہے ۔ میری زندگی اس لئے کہ میں تمہارے لئے سنتیں اور احکامِ شرع بیان کرتا ہوں اور میراوِصال اس لئے کہ تمہارے اَعمال میرے سامنے پیش کیے جا ئیں گے تو اُن میں سے جو اچھا عمل ہو گا اُس پراللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکرادا کروں گا اور جو بُرا ہو گا اس پر تمہارے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے مغفرت طلب کروں گا ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’یا نبی ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے تواس کے نبی کو ان سے پہلے وفات دے کر ان کا پیشرو بنادیتا ہے ۔
(2) نبی کا اُمَّت سے پہلے وصال فرماجانا اُس اُمَّت کے لیے رحمت ہے ۔
(3) حضورنبی رحمت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمَّت کے والی وارث ہیں بندہ مؤمن مر کر حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آغوشِ رحمت میں جاتا ہے ۔
(4) گذشتہ نافرمان اُمَّتُوں کو اُن کے نبی کی زندگی میں عذاب دے کر اُن کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی گئی ۔
(5) مؤمن مرکر لاوارث ہوتا ہے نہ اجنبی گھر میں جاتا ہے کیونکہ اس کے والی وارث حضور
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں تو وہ اُن کی آغوشِ رحمت میں جاتاہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں کل بروزِ قیامت حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے ، ہمیں جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 439