- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- اُمید کا بیان
- حدیث نمبر 416
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ اَوْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا شَكَّ الرَّاوِی ( وَلَا یَضُرُّ الشَّکُّ فِی عَیْنِ الصَّحَابِی لِاَنَّہُمْ کُلُّھُمْ عَدُوْلٌ ) قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوْكَ اَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ قَالُوْا : يَارَسُولَ اللهِ ! لَوْ اَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا فَاَكَلْنَا وَادَّهَنَّا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْعَلُوا فَجَاءَ عُمَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ اَزْوَادِهِمْ ثُمَّ ادْعُ اللهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللهَ اَنْ يَجْعَلَ فِي ذٰلِكَ الْبَرَکَۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ اَزْوَادِهِمْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيْءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ وَيَجِيْءُ الْآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ ، وَيَجِيءُ الْآخَرُ بِكَسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيْرٌ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ قَالَ : خُذُوا فِي اَوْعِيَتِكُمْ قَالَ : فَاَخَذُوا فِيْ اَوْعِيَتِهِمْ حَتّٰى مَا تَرَكُوْا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً اِلَّا مَلَئُوْهُ وَاَكَلُوْا حَتّٰى شَبِعُوْا وَفَضَلَ فَضْلَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ وَاَنِّي رَسُولُ اللهِ لَا يَلْقَى اللهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ. ( )
عن ابي هريرة او ابي سعيد الخدری رضی اللہ عنہما شك الراوی ( ولا یضر الشک فی عین الصحابی لانہم کلھم عدول ) قال : لما كان غزوة تبوك اصاب الناس مجاعة قالوا : يارسول الله ! لو اذنت لنا فنحرنا نواضحنا فاكلنا وادهنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : افعلوا فجاء عمر فقال : يا رسول الله ! ان فعلت قل الظهر ولكن ادعهم بفضل ازوادهم ثم ادع الله لهم عليها بالبركة لعل الله ان يجعل في ذلك البرکۃ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعم فدعا بنطع فبسطه ثم دعا بفضل ازوادهم فجعل الرجل يجيء بكف ذرة ويجيء الآخر بكف تمر ، ويجيء الآخر بكسرة حتى اجتمع على النطع من ذلك شيء يسير فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليه بالبركة ثم قال : خذوا في اوعيتكم قال : فاخذوا في اوعيتهم حتى ما تركوا في العسكر وعاء الا ملئوه واكلوا حتى شبعوا وفضل فضلة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : اشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله لا يلقى الله بهما عبد غير شاك فيحجب عن الجنة. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ یا پھر حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے ( راوی کو شک ہے لیکن تعیین صحابہ میں شک مُضِر نہیں کیونکہ تمام صحابہ کرام عادل ہیں ) غزوۂ تبوک کے سفر میں لوگوں کوسخت بھوک لگی تو انہوں نے بارگاہِ رِسالت میں عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم اپنے اونٹوں کو نحر کر کے کھالیں اور ان کی چربی کا تیل نکال لیں ۔ ‘‘ تورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اجازت عطا فرمادی ۔ پھر حضرتِ سَیِّدُنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُحاضرِ خدمت ہوئے اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اگر آپ نے اِس طرح کیا ( یعنی اونٹ ذبح کرنے کی اجازت دے دی ) تو ہماری سواریاں کم پڑ جائیں گی ، آپ لوگوں سے بچا ہوا توشہ منگوالیجئے پھراللہ عَزَّوَجَلَّسے اس میں برکت کی دعا فرمائیے ، یقیناًاللہ عَزَّ وَجَلَّاس میں برکت عطا فرمائے گا ۔ ‘‘ رسول اکرم ، شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” ٹھیک ہے ۔ “پھر آپعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامنے دستر خوان منگواکر بچھایا اور لوگوں سے بچا ہوا کھانا منگوایا تو کوئی مٹھی بھر مکئی لایا ، کوئی مٹھی بھر کھجور تو کوئی روٹی کا ٹکڑا لے آیا حتّٰی کہ دستر خوان پر تھوڑا سا مان جمع ہوگیا ۔ پھر نبیوں کے سالار احمد مختارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس میں برکت کی دعا فرمائی اور ارشادفرمایا : ” اپنے اپنے برتن بھر لو ۔ “ سب نے اپنے اپنے برتن کھانے سے بھر لیے یہاں تک کہ لشکر کا کوئی بھی برتن ایسا نہ تھا جو بھرا ہوا نہ ہو ۔ پھر سب نے خوب سیر ہوکر کھایا ، پھر بھی کچھ کھانا بچ گیا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ” میں گواہی دیتا ہوں کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میںاللہ عَزَّوَجَلَّکا رسول ہوں ، جو بھی شخص بغیر شک و شبہ کے اس کلمے کا اقرار کرتے ہوئےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملے گا وہ جنتی ہوگا ۔ “
شرح حدیث
غزوۂ تبوک کا مختصر تعارف :مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’تبوک ایک مشہور بستی ہے حجاز اور شام کے درمیان خیبر سے پانچ سو ( 500 ) میل جانب عمان ہے اور خیبر مدینہ منورہ سے ایک سو چالیس ( 140 ) میل ہے ، یہ غزوہ۹ ہجری ماہِ رجب میں ہوا ۔ یہ حضورِ انور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا آخری غزوہ ہے ، اونٹ کی سواری سے مدینہ منورہ سے ایک ماہ کا راستہ ہے ، اب تو ہوائی جہاز
مدینہ منورہ سے عمان ڈھائی گھنٹہ میں پہنچ جاتے ہیں ۔ اسی غزوہ کا ذکر سورۂ توبہ شریف میں ہے یہ غزوہ سخت گرمی میں واقع ہوا تھا ، لوگوں پر بہت سختی تھی ۔ ‘‘ ( )
¥جنگی لشکر میں احتیاطی تدبیر :مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے رسولِ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اپنی سواریوں کے اُونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی تورسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اجازت عطا فرمادی ۔ حدیث کے اس حصے کے تحت ”شَرَح مُسْلِمْ لِلْنَوَوِی“ میں ہے : ’’جنگ کے لشکر والوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ امیر لشکر کی اجازت کے بغیر اپنے ان جانوروں کو ذبح کریں جن سے جنگ لڑنے میں مدد لی جاتی ہے اور سپہ سالار کو بھی چاہیے کہ وہ حالات کا جائزہ لے اگر کسی فساد کا خوف نہ ہو تو انہیں اجازت نہ دے ۔ ‘‘ ( )
¥تھوڑا سا کھانا لشکرنے کھایا :اس حدیث پاک میں حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ایک عظیم معجزے کا مبارک ذکر ہے کہ تھوڑا سا کھانا دستر خوان پر جمع ہوا ، پھر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے برکت کی دعا فرمائی تو سارے لشکر والوں نے نہ صرف اپنے تمام برتن بھر لیے بلکہ خوب سیر ہوکر تمام لوگوں نے کھانا بھی کھایا پھربھی کھانا بچ گیا ۔ ‘‘ ( )
¥رسولِ خدا کا وحدانیت ونبوت کی گواہی دینا :مذکورہ حدیث میںرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ربّ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی نبوت کی گواہی دی ۔ اس کی حکمت بیان کرتے ہوئےمُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس گواہی سے دو مسئلے معلوم ہوئے : ٭ایک یہ کہ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمربّ تعالیٰ کی توحید کے بھی گواہ ہیں اور اپنی نبوت کے بھی گواہ جیسے ربّ تعالیٰ خود اپنی وحدانیت کا گواہ
ہے ، فرماتا ہے : (شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۙ-) (پ۳ ،آل عمران:۱۸ )ترجمۂ کنزالایمان:اللہنے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ) اورحضورِ انور کی یہ گواہی ہم سے گواہی دلوانے ، ہم کو گواہ بنانے کے لیے ہے ۔ ٭ دوسرے یہ کہ معجزات اور آیات دیکھ کر بندے کا یقین زیادہ ہوجانا چاہیے اور زیادتی یقین پر گواہی دینا سنت ہے گویا اب دیکھ کر نبوت و وحدانیت کی گواہی دے رہا ہے ، پہلے سن کر گواہی دی تھی اب دیکھ کر گواہی دی ۔ ‘‘ ( )
¥حدیث کو باب میں ذکرکرنے کی وجہ :حدیث شریف کے آخر میں ہے کہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’جس نے ان دو چیزوں کی سچے دل سے گواہی دی اور اسی حالت میںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے جا ملا تو وہ جنت میں جائے گا ۔ ‘‘ حدیث کا یہی حصہ اس باب سے متعلق ہے اسی وجہ سے علامہ نووی نے اس حدیث کو اس باب میں بیان فرمایا ہے کہ جو شخص توحید و رسالت کی سچے دل سے گواہی دے اور اسی حالت میں مر جائے وہ جنت میں جائے گا ۔ چنانچہ ، ” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’یعنی یہ ناممکن ہے کہ بندہ کا توحید و رسالت پر خاتمہ ہو اور پھر وہ جنت میں کبھی نہ جائے وہ جنت میں ضرور جائے گا خواہ اولًا ہی وہاں پہنچے یا کچھ سزا پا کر پاک و صاف ہو کر ، مگر شرط یہ ہے کہ اس گواہی میں تردد نہ کرے ، دل کے یقین سے گواہی دے ۔ لہٰذا اِس بشارت سے منافقین خارج ہیں ۔ خیال رہے کہ اِن جیسی احادیث میں کلمہ سے مراد سارے ایمانی عقائد ہوتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ نماز میں الحمد پڑھنا واجب ہے ، الحمد سے مراد ہے پوری سورۂ فاتحہ ۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مرزائی چکڑالوی سب ہی کلمہ پڑھتے ہیں کیا سب جنتی ہیں؟حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) فرماتے ہیں کہ میری اُمَّت کے تہتر ( 73 ) فرقے ہوں گے ، سارے دوزخی ہوں گے سوائے ایک کے ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
غزوۂ ’’ تبوک ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) غزوۂ تبوک حضور ِاَنورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا آخری غزوہ ہے ۔
(2) جنگ میں امیر لشکر کی اجازت کے بغیر مجاہدین کسی جنگی سامان میں کسی قسم کا تصرف نہ کریں ۔
(3) محکوم حاکم کے سامنے اپنی رائے پیش کرسکتا ہے ۔
(4) جو توحید و رسالت کی سچے دل سے گواہی دے اور دل میں بھی یقین ہو اور اسی حالت میں مر جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ توحیدورسالت پر استقامت عطا فرمائے ، ہمارا ایمان پر خاتمہ فرمائے ، ہمیں جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 416